چین کی ایک کمپنی نے دنیا کا تیز ترین انسان نما روبوٹ تیار کیا ہے۔
آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی سے لیس یونی ٹری ایچ 1 نامی یہ روبوٹ ایتھلیٹک ٹریک پر 10.1 میٹرز فی سیکنڈ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے۔
یہ موجودہ عہد کے دیگر روبوٹس کے مقابلے میں متاثر کن رفتار ہے۔
یونی ٹری نے تسلیم کیا ہے کہ اس حوالے سے اعداد و شمار معمولی حد تک مختلف ہوسکتے ہیں مگر پھر بھی روبوٹ کی یہ رفتار حیران کن حد تک دنیا کے تیز ترین انسان کا خطاب حاصل کرنے والے جمیکن ایتھلیٹ یوسین بولٹ کی اوسط رفتار کے کافی قریب ہے۔
انہوں نے 2009 میں 9.58 سیکنڈ میں 100 میٹر دوڑنے کا عالمی ریکارڈ بنایا تھا جو کہ فی سیکنڈ 10.44 میٹر فی سیکنڈ بنتی ہے۔
اس حوالے سے ایک ویڈیو میں بتایا گیا کہ یونی ٹری کمپنی نے ایک بار پھر روبوٹس کی رفتار کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔
اس روبوٹ کو انسانوں کی طرح حرکت کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس کا وزن بھی کافی کم ہے تاکہ دوڑنے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
اس کا وزن 62 کلو گرام ہے جبکہ اس میں گیئر سسٹم، ایڈوانسڈ سنسگ ٹیکنالوجیز اور کیمرے وغیرہ نصب ہیں۔
البتہ تیز رفتاری سے چلتے ہوئے اس کی چال کچھ عجیب محسوس ہوتی ہے۔
اسی طرح یہ اپنا توازن برقرار بھی رکھ سکتا ہے اور دھکا دیے جانے پر خود کو سنبھال لیتا ہے۔
اس کے سر میں نصب کیمروں اور دیگر سنسرز کی بدولت یہ دنیا میں گھومنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
اس روبوٹ کو 19 اپریل سے چین میں شیڈول روبوٹ میراتھون کا حصہ بھی بنایا جائے گا۔






































