پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کےکپتان سلمان علی آغا کے بعد ٹیسٹ فاسٹ بولر حسن علی نے بھی شکوہ کیا ہےکہ ہم کچے پھل کی طرح نوجوان کھلاڑیوں کو وقت سے پہلے کھلا دیتے ہیں، کھلاڑی جس وقت میچور ہوجائے اسی وقت موقع دیا جائے۔
اتوار کی شام نیشنل بینک اسٹیڈیم کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حسن علی نےکہا کہ ہم نوجوانوں کو کھلانے میں جلدی کردیتے ہیں۔
حسن علی کا کہنا تھا کہ مجھے بھی محمد رضوان بھائی کی طرح کرکٹ کے علاوہ کچھ نہیں آتا،کرکٹ میں ہی نام بنانا اور کارکردگی دکھانا چاہتا ہوں، میں ہروقت سیکھنےکی کوشش کرتا ہوں،کرکٹ میرا جنون ہے، تھوڑی خراب کارکردگی پر ریٹائرمنٹ کے سوالات ہوتے ہیں، اچھی کاکردگی دکھا کر کم بیک کروں گا۔
فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ ہمیں ہر دن اپنے آپ کو منوانا اور ثابت کرنا ہوتا ہے، میں ہر دن سیکھنےکی کوشش کرتا ہوں، مجھے جہاں موقع ملتا ہے میں کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتا ہوں، اس لیے میری پی ایس ایل میں سب سے زیادہ137 وکٹیں ہیں، میں کوشش کرتا ہوں کہ جہاں موقع ملےکارکردگی دکھا کر ٹیم میں واپس آؤں۔
حسن علی نے کہا کہ ہم نے لاہور میں تین میچ جیتنے کے بعد کراچی میں اچھی کرکٹ نہیں کھیلی، یہاں چار میچ ہارے، سچ یہ ہےکہ ہم تینوں شعبوں میں اچھا نہیں کھیل رہے، صرف ڈیوڈ وارنر ہی پرانحصار نہیں کر رہے ہیں، یہ ٹیم کراچی کنگز کی ہے، ڈیوڈ وارنر کی نہیں، ہمارا ہر کھلاڑی میچ ونر ہے۔
انہوں نے کہا کہ وکٹ لینے کے بعد جشن منانے کا انداز دوبارہ شروع کروں گا۔






































