جی بالکل، یہ ایک بالکل سچی اور حالیہ ترین خبر ہے۔ 4 جون 2026 کو یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے نام ایک تاریخی اور کھلا خط (Open Letter) جاری کیا ہے۔
1۔ زیلینسکی کا کھلا خط اور پیشکش
صدر زیلینسکی نے اپنے خط میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کو ختم کرنے کے لیے صدر پیوٹن کو براہِ راست اور آمنے سامنے (Face-to-Face) ملاقات کی پیشکش کی۔ انہوں نے لکھا کہ یوکرین مذاکرات کے دوران مکمل جنگ بندی (Cease-fire) کے لیے تیار ہے۔ خط میں انہوں نے پیوٹن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
"اس جنگ سے باہر نکلنے کا راستہ اختیار کرنے سے مت ڈریں۔ اگر آپ خود اس نتیجے پر نہیں پہنچتے کہ اب جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے، تو یوکرین اپنے وجود کے لیے لڑتا رہے گا۔”
2۔ پیوٹن کا ردِعمل اور مایوسی
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اگلی ہی دن یعنی 5 جون 2026 کو زیلینسکی کی اس پیشکش کو صاف طور پر مسترد کر دیا۔ پیوٹن نے اس ملاقات کو "بے مقصد” (Senseless) قرار دیا اور اپنے فوجیوں سے کہا کہ وہ میدانِ جنگ میں "اپنا کام جاری رکھیں”۔ انہوں نے زیلینسکی کے خط کے انداز کو "بدتمیزی” (Rude) پر مبنی بھی کہا۔
3۔ زیلینسکی کا تازہ ترین بیان
پیوٹن کے اس سخت جواب کے بعد، صدر زیلینسکی نے اپنے صدارتی خطاب میں دنیا کو بتایا:
"بدقسمتی سے، روسی فریق نے ایک بار پھر جنگ کا انتخاب کیا ہے—آج سب نے ان کا جواب سن لیا ہے۔ وہ (پیوٹن) صرف جنگ کو ختم نہیں کرنا چاہتے۔ دنیا بھر میں بہت سے لوگ ان کے اس جواب سے مایوس ہوئے ہیں۔”
