پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے 29 کلومیٹر طویل دیر موٹروے منصوبے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ یہ منصوبہ چکدرہ انٹرچینج سے برون (زیریں دیر) تک تعمیر کیا جائے گا اور اس پر 69 ارب روپے لاگت آئے گی۔ منصوبے کی منظوری صوبائی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی، جس کی صدارت وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کی۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے لیے درکار اراضی کے حصول کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے اور تعمیراتی کام بروقت مکمل کرنے کے لیے واضح ٹائم لائن تیار کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پی پی پی فریم ورک میں ضروری اصلاحات کی تجاویز بھی طلب کیں تاکہ ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے۔
حکومت کے مطابق دیر موٹروے سے سفر کا دورانیہ کم ہوگا، ایندھن اور نقل و حمل کے اخراجات میں کمی آئے گی، جبکہ ملاکنڈ ڈویژن میں سیاحت، تجارت اور مقامی معیشت کو نمایاں فروغ ملے گا۔ اجلاس میں پشاور–ڈی آئی خان موٹروے اور سوات موٹروے فیز ٹو کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

