نیویارک ریاست میں خسرے کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث ڈیزاسٹر ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ گورنر کیتھی ہوکل نے 5 اکتوبر کو ریاست بھر میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا، جو 4 نومبر تک نافذ رہے گی۔
نیویارک میں رواں سال 3 اکتوبر تک خسرے کے 108 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں سے 101 کیسز نیویارک سٹی سے باہر جبکہ 7 کیسز نیویارک سٹی میں سامنے آئے۔ 15 جولائی کے بعد دیہی اور کم ویکسینیشن والے علاقوں میں 18 کاؤنٹیز سے 92 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
ہنگامی اقدامات کے تحت خسرہ، ممپس اور روبیلا (MMR) ویکسین لگانے والے طبی ماہرین کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔ اب پیرا میڈکس، ایڈوانسڈ ای ایم ایس اہلکار، فارماسسٹ اور مڈوائفز بھی ویکسین دے سکیں گے، جبکہ نرسز کو خسرے کے ٹیسٹ تجویز کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
مقامی محکمہ صحت کی جانب سے متاثرہ دیہی علاقوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد MMR ویکسین کی خوراکیں دی جاچکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خسرے کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے کیسز کی نگرانی، رابطوں کا سراغ لگانے اور ٹیسٹنگ کا عمل بھی تیز کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب امریکا میں خسرے کے کیسز میں مجموعی طور پر بھی اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال ملک بھر میں تقریباً 3,900 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جو 1991 کے بعد امریکا میں خسرے کا بدترین سال قرار دیا جارہا ہے۔ پڑوسی ریاست پنسلوانیا میں بھی کیسز کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرچکی ہے اور پانچ اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق خسرے کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ویکسینیشن کی شرح میں کمی ہے، جبکہ بیماری انتہائی متعدی ہے اور غیر ویکسین شدہ افراد میں تیزی سے پھیل سکتی ہے۔
نیویارک میں خسرے کے بڑھتے کیسز پر ہنگامی حالت نافذ

