راولپنڈی(خصوصی رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی و صوبائی کسان ونگز نے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی جدت اپنا نے کے ڈھیروں بیانات میں ایک اور بیان کا اضافہ کرنے کی بجائے وزیر اعظم شہباز شریف کو غذائی تحفظ کے عالمی دن کے موقع دم توڑتی ملکی زرعی معیشت کو سہارا دینے کے عملی اقدامات کا اعلان کرنا چاہئیے .چھوٹے مگر مجموعی قومی
پیداوار میں بڑا حصہ ڈالنے والے کسان اپنی قوت خرید سے باہر زرعی جدت اپنانے کی بجائے زراعت کے پرانے طریقے اپنانے پر مجبور ہیں.پی ٹی آئی مرکزی کسان ونگ کے سیکریٹری انفارمیشن خالد نواز سدھرائچ ، میجر (ر) غلام سرور صدر کسان ونگ پنجاب ، محمد اعجاز شفیع جنرل سیکریٹری کسان ونگ پنجاب ، کے پی کے ، سندھ اور بلوچستان کسان ونگ کے متعدد راہنماں نے جاری ربیع سیزن میں گندم کی کاشت پر سوال اٹھا دئیے ہیں . انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں میں کسانوں کی بڑی تعداد پانی کی عدم دستیابی ،مہنگے ڈیزل ، کھاد، بجلی اور تصدیق شدہ بیج کو خریدنے کی قوت کھو چکی ہے جس سے پیداوار میں کمی اور غذائی تحفظ کو شدید خطرات لاحق ہیں . انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال 50 کلو تصدیق شدہ گندم بیج کا تھیلا ساڑھے پانچ ہزار روپے تھا . بجلی ، ڈیزل اور کھادوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پہلے ہی پریشان کسانوں کو پنجاب سیڈ کارپوریشن نے گذشتہ ہفتے عین اس وقت شدید پریشان کر دیا جب وہ تصدیق شدہ بیج کی خریداری کیلئے پیسے جمع کر رہے تھے . انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بیج کے ایک تھیلے کی قیمت میں 1500 روپے جبکہ کے پی کے ، سندھ اور بلوچستان میں 2500 روپے اضافہ کیا گیا جو گندم کی بوائی کیلئے تباہ کن ہے . انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 13. ایکڑ رقبے کے چھوٹے کسانوں پر اچانک اور غیر متوقع طور پر 19500 روپے ،بلوچستان میں 32 ایکڑاراضی کے مالک کسانوں پر 80,000/- روپے ، سندھ میں 16 ایکڑ اراضی پر 40,000/- روپے اور کے پی کے میں ساڑھے بارہ ایکڑ اراضی پر 32500/- روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا جبکہ ٹرانسپورٹیشن چارجز اس کے علاوہ ہیں . انہوں نے کہا کہ زرعی جدت کا پہلا قدم یہیں پر ختم ہو جاتا ہے اور اس کے بعد جدید زرعی مشینری ہے جس کے بارے میں ہمارا یہ کسان صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہے . انہوں نے کہا کہ اسی طرح ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ، جی ایس پی میپنگ ، کھادوں کا استعمال ، مانیٹرنگ ، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ ، ڈرپ سپرنکل اریگیشن ، فصلی بیماریوں سے بچا وغیرہ کے بارے میں کسانوں کو آگاہی ہے ہی نہیں اور ہمارے وزیر اعظم زرعی جدت کی باتیں کرتے ہیں . انہوں نے کہا کہ پہلے اپنے کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ دیا جائے اور اسے مارکیٹ کے استحصال سے بچایا جائے . اس کے بعد زرعی جدت سے آگاہی اور فراہمی کیلئے کسانوں کیلئے فارمرز فیلڈ سکول منعقد کئے جائیں تاکہ غذائی تحفظ کو حقیقی اور عملی طور پر یقینی بنایا جا سکے .
