اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات کے دوران بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے میں ایک بار پھر اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔ پاور ڈویژن کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق 30 جون 2026ء تک بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ بڑھ کر 1675 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ مالی سال 2024ـ25ء کے اختتام پر یہ قرضہ 1641 ارب روپے تھا۔ اس طرح ایک سال کے دوران گردشی قرضے میں 34 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے میں اضافے کی ایک وجہ نیشنل گرڈ سے کے الیکٹرک کو فراہم کی جانے والی بجلی کے واجبات کی عدم ادائیگی ہے۔ وزارت نے ایوان کو آگاہ کیا کہ کے الیکٹرک سے واجبات کی وصولی کے لیے معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے ،گردشی قرضے میں کمی لانے کے لیے حکومتی اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے پاور ڈویژن نے کہا کہ حکومت نے بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں کے ساتھ سابقہ ٹیک اینڈ پے معاہدوں کو ختم کرکے ہائبرڈ ٹیک اینڈ پے ماڈل نافذ کردیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بجلی کے شعبے میں مالی دباؤ اور گردشی قرضے کے مسئلے پر قابو پانا ہے۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تفصیلات میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے 15 دیہات تاحال بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔ پاور ڈویژن کے مطابق مالی سال 2026ـ27ء کے دوران ان دیہات کو بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق منصوبے کی تکمیل فنڈز کے اجرا اور ضروری سامان کی فراہمی سے مشروط ہے۔ یوں ڈیرہ اسماعیل خان کے مذکورہ 15 دیہات میں بجلی کی فراہمی کا انحصار منصوبے کے لیے درکار مالی وسائل اور سامان کی دستیابی پر ہوگا۔
گردشی قرضہ
