ملتان (رپورٹ:رفاقت انجم)پاکستان پوسٹ میں کروڑوں کی پنشن ادائیگیاں مالی بوجھ بن گئیں۔تنخواہوں،پنشن کی مد میں ڈاکخانہ جات کے سالانہ اخراجات 19 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں جنہیں پورا کرنے کے لئے وزارت مواصلات و پوسٹل سروسز کی جانب سے ریفارم پلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے جی پی اوز،علاقائی ڈاک خانوں کی خالی غیر استعمال شدہ اراضیاںکرائے پر دینے کی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق پوسٹل ہیڈ کوارٹر کی جانب سے ملک بھر کے سرکل پوسٹل دفاتر کے پوسٹ ماسٹر جنرل اور جی پی اوز کے چیف پوسٹ ماسٹر سے محکمہ ڈاک کے دفاتر،جی پی اوز اور علاقائی ڈاک خانوں میں موجود خالی اراضیوں کی تفصیلات اور بلڈنگ نقشہ جات طلب کر لئے گئے ہیں۔محکمہ ڈاک حکام نے اراضیوں کے کمرشلائزیشن اصلاحاتی منصوبہ کے تحت محکمہ کو 2.5 ارب روپے سالانہ کا اضافی ریونیو حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا ہے۔پاکستان پوسٹ کے پاس ملک بھر کے اہم ترین تجارتی مراکز اور مہنگی ترین لوکیشنز پر دفاتر۔جی پی اوز۔ڈاکخانوں کی قیمتی عمارتیں اور خالی کمرشل جگہیں موجود ہیں۔ ریفارم پلان کے مطابق مراحلہ وار لیز (Phased Renting ) پر خالی جگہیں کمپنیوں کو کمرشل استعمال کے لئے الاٹ کی جائیں گی۔ پہلے مرحلے میں پاکستان پوسٹ کی 50 دفاتر جی پی اوز و علاقائی ڈاکخانوں کی خالی اراضیوں کو رینٹگ الاٹمنٹ میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہیجبکہ دوسرے مرحلے میں 100 اور تیسرے مرحلے میں 200 عمارتوں کو کمرشل استعمال میں لایا جائے گا۔ملٹی نیشنل کمپنیوں کو کرایہ پر دینا محکمانہ ترجیح ہوگی۔ ان خالی اراضیوں اور فالتو عمارتی جگہوں کو ملٹی نیشنل یا نجی کمپنیوں کو تجارتی سرگرمیوں، دفاتر، یا گوداموں (Warehouses) کے لیے تجارتی بنیادوں پر کرائے پر دیا جانا ترجیحات میں شامل ہے۔لاہور۔ملتان۔کراچی۔پشاور۔کوئٹہ۔راولپنڈی سمیت ملک کے درجنوں چھوٹے بڑے شہروں میں جی پی اوز۔ڈویژنل پوسٹل دفاتر اور علاقائی ڈاکخانوں کی عمارتیں مصروف کمرشل شاہراؤں۔چوراہوں اور بازاروں میں موجود ہیں جن کی برلب سڑک پر خالی جگہیں کئی مرلوں پر محیط ہیں اور ان کا محکمانہ طور پر کمرشل استعمال بھی نہیں کیا جارہا ہے۔
ڈاک اراضی
