اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) پی ٹی آئی میں داخلی اختلافات پھر شدت اختیار کرگئے۔سیکرٹری
جنرل سلمان اکرم راجہ نے ٹویٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ مخصوص ٹولے نے گورنر راج کیلئے راہ ہموار کی، ایسا بیانیہ پھیلایا جارہا ہے جیسے 68 ارکان نئے وزیر اعلیٰ کا اعلان کرنے والے ہیں۔ لیکن وسوسہ پھیلانے والے سانپوں اور سنپولیوں کو شکست ہوگی۔ جواب میں سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ہم آج سلمان اکرم راجہ کی پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ آپ سے خود ڈلیور نہیں ہوسکا ، اب باتیں کرتے ہیں۔ الزامات کے ثبوت ہیں تو سامنے لائیں۔ ادھر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے سب کو بیان بازی سے روک دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی قیادت کے درمیان اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے درمیان سخت جملوں کے تبادلے پر مبنی ایک آڈیو ریکارڈنگ منظرِ عام پر آ گئی، جس میں علی امین ، سلمان اکرم راجہ پر شدید برہم دکھائی دیتے ہیں۔لیک ہونے والی آڈیو میں علی امین گنڈاپور نے حکومت کے خاتمے اور موجودہ مشکلات کا تمام تر ملبہ سلمان اکرم راجہ کی پالیسیوں اور حکمتِ عملی پر ڈال دیا۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ”آج ہم سلمان اکرم راجہ کی غلط پلاننگ کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، نہ تو ان کو مکمل اختیار ملا اور نہ ہی وہ کچھ ڈیلیور کر سکے۔ سابق وزیراعلیٰ کے متعلق سلمان اکرم راجہ کے حالیہ ٹوئٹ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے گنڈا پور نے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا ٹویٹ فوراً ڈیلیٹ کریں اور اپنے الزامات کی وضاحت پیش کرتے ہوئے معذرت کریں۔انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ سلمان اکرم راجہ کو بارہا پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں بلایا جاتا ہے مگر وہ شرکت نہیں کرتے۔علی امین نے واضح کیا کہ ہم صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی وجہ سے ان کی عزت کرتے ہیں، سمجھ نہیں آ رہی کہ ان کو یہ غلط باتیں کون فیڈ کر رہا ہے۔دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے اپنے ٹوئٹ اور بیان میں خیبرپختونخوا حکومت اور پارٹی تنظیم کے حوالے سے اہم نکات اٹھاتے ہوئے کہا پی ٹی آئی کے اندرونی اتفاقِ رائے پر غیر جمہوری فیصلہ سازوں کی جانب سے حملہ کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا بیانیہ بنایا جا رہا ہے جیسے 68 ارکان نئے وزیراعلی کا اعلان کرنے والے ہیں اور انہوں نے وزیراعلی سہیل آفریدی سے رابطہ منقطع کر لیا ہے۔سلمان اکرم راجہ نے پشاور اور دیگر علاقوں کے کارکنوں کو ہدایت کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی بھی سازشی بیانیے پر یقین نہ کیا جائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ "سہیل آفریدی قانون اور آئین کی رو سے آج بھی وزیراعلی ہیں۔انہوں نے مزید واضح کیا کہ جنید اکبر کا تقرر بانی پی ٹی آئی نے خود کیا تھا اور وہ خیبرپختونخوا میں پارٹی کے صدر ہیں، جبکہ ان کی عدم موجودگی میں علی اصغر قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ وسوسہ پھیلانے والے سانپوں اور سنپولیوں کو شکست ہوگی۔ علی امین گنڈا پور نے کہا غیر جمہوری فیصلہ سازوں اورمبینہ گروپ کی سازش کا ذکر کرنے والے پہلے واضح کریں کہ وہ کون لوگ ہیں، کن اراکینِ اسمبلی پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ صوبائی صدر یا آئندہ وزیراعلیٰ کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، گورنر راج کی راہ جس نے ہموار کی ہے تو شواہد سامنے لائے جائیں، علی اصغر خان کو قائم مقام صدر مقرر کیا گیا ہے تو اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن کہاں ہے۔ترجمان سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورفراز مغل نے آڈیو کی تصدیق کردی۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ آپس کے بیانات کے حوالے سے ممبران صوبائی اسمبلی کے گروپ کو پیغام بھیجا ہے، آئندہ کوئی پارٹی کا رہنما یا فرد اختلافی بات باہر نہیں کریگا، پارٹی میں مکمل اتفاق ہے، بانی پی ٹی آئی کے احکامات کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہوتا،سہیل آفریدی ہمارے وزیراعلیٰ تھے اور وہی وزیر اعلیٰ رہیں گے۔بیرسٹرگوہر نے کہا کے پی سے سارے ایم پی اے پارٹی کے وفادار اور ان پر ہمیں فخر ہے، کے پی سے ایم پی ایز کے حوالے سے ایسا کوئی تصور نہیں کہ پارٹی کیخلاف جائیں گے۔
علی امین گنڈا پور
