اسلام آباد، لندن (نیوز ایجنسیاں) پاکستان اور برطانیہ کے سرکاری و نجی اداروں پر سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا۔ پاکستان کے سرکاری اور نجی اداروں کو تھرڈ پارٹی وینڈرز اور سپلائرز کے ذریعے ممکنہ سائبر حملوں کے نئے خطرے کا سامنا ہے۔ نیشنل سرٹ نے اداروں کو خبردار کرتے ہوئے سائبر سکیورٹی کے موثر انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ نیشنل سرٹ کے مطابق کمزور سکیورٹی کے حامل کاروباری شراکت دار اداروں کے ڈیجیٹل نظام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں،وینڈرز کو اداروں کے سسٹمز،ڈیٹا اورسکیورٹی اسناد تک رسائی ملنے سے سائبر حملوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ بیرونی سروس فراہم کرنے والوں کے ذریعے حساس معلومات افشا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔نیشنل سرٹ نے سفارش کی ہے کہ ادارے کسی بھی وینڈر یا سپلائرکوکام دینے سے پہلے اس کے سکیورٹی انتظامات کاجائزہ لیں،تھرڈپارٹی وینڈرز کی رسائی صرف ضرورت کے مطابق محدود رکھی جائے اور ان کی سرگرمیوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے تاکہ سائبر خطرات سے بچا جا سکے۔ادھر دنیا بھر کی ویب سائٹس چلانے والے سافٹ ویئر میں 2 سنگین حفاظتی خامیوں کے انکشاف کے بعد ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔برطانوی حکومت نے سرکاری آن لائن خدمات میں ممکنہ سائبر سکیورٹی خطرات کی نشاندہی کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔سائبر سکیورٹی ماہرین نے متاثرہ سافٹ ویئر کو فوری طور پر تازہ ترین ورژن میں تبدیل کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے متاثرہ نظاموں کو محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی کوششیں شروع کر دی ہیں۔برطانوی حکام نے سرکاری و نجی اداروں اور چھوٹے بڑے کاروباروں پر زور دیا ہے کہ وہ سائبر سیکیورٹی سے متعلق ہدایات پر عمل کریں۔سائبر سکیورٹی حکام نے تجویز دی ہے کہ اگر حفاظتی خامی دور نہ کی جا سکے تو متاثرہ نظاموں کو عارضی طور پر انٹرنیٹ سے منقطع کر دیا جائے۔
سائبر حملے
