ریاض، صنعا، واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک) سعودیہ نے حوثیوں کے 11 میزائل حملوں کو ناکام بنادیا، تاہم ان میزائلوں کا ملبہ گرنے سے 2 افراد زخمی ہوگئے، 3 مکان اور 7 گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ حوثیوں کے حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات، پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک کی متعدد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوگئیں۔ ادھر یمنی فوج نے 24 گھنٹوں میں 753 حملوں کے دوران 218 حوثی ارکان اور کمانڈروں کو ہلاک، 78 گاڑیوں اور بھاری اسلحے کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ اوآئی سی نے کہا ہے کہ حوثی باغیوں کی سرکوبی کیلئے مسلم دنیا کو ایک مضبوط موقف اپنانا ہوگا۔ سعودی عرب کی فضائی دفاعی فورسز نے جنوبی علاقے میں حوثی باغیوں کے 10بیلسٹک میزائلوں جبکہ خمیس مشیط کی جانب آنے والے ایک کروز میزائل کو بھی فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ دعویٰ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی قیادت میں سرگرم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے اتوار 25اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کیا۔دوسری جانب سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے بتایا کہ اتوار کے روز دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد ان کا ملبہ خمیس مشیط اور احد رفیدہ کے علاقوں میں گرا، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے۔شہری دفاع کے مطابق زخمیوں میں ایک سعودی شہری اور ایک ایشیائی باشندہ شامل ہے۔ میزائلوں کے ملبے سے تین رہائشی عمارتوں اور سات گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ہنگامی امدادی ٹیمیں متاثرہ مقامات پر پہنچ گئیں اور مقررہ حفاظتی طریقہ کار کے تحت کارروائی کی گئی۔سعودی حکام نے میزائل حملوں کا ذمہ دار یمن کی حوثی ملیشیا کو قرار دیا ہے تاہم ان حملوں کے حوالے سے حوثی حکام کا موقف فراہم کردہ اطلاعات میں شامل نہیں ہے۔ادھر یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں اور حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات، پاکستان اور بنگلا دیش سمیت مختلف ممالک کی متعدد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہے۔خلیج ٹائمز کے مطابق پروازوں میں خلل سے امارات، فلائی دبئی، اتحاد ایئرویز، فلائی ناس اور سعودی ایئرلائن سمیت متعدد فضائی کمپنیوں کی خدمات متاثر ہوئی ہیں۔ منسوخ یا متاثر ہونے والی پروازوں میں ریاض، جدہ، مدینہ اور دمام جانے والی پروازیں شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق دبئی سے سعودی عرب کے مختلف شہروں کے لیے امارات ایئرلائن کی متعدد پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔ان میں مدینہ جانے والی پرواز ای کے 2537، دمام جانے والی پروازیں ای کے 821، ای کے 823 اور ای کے 827 جبکہ ریاض جانے والی پروازیں ای کے 815، ای کے 819، ای کے 813 اور ای کے 817 شامل ہیں۔فلائی دبئی کی جدہ جانے والی پرواز ایف زیڈ 909 میں 55 منٹ کی تاخیر ہوئی، جبکہ مدینہ جانے والی پرواز ایف زیڈ 8387 منسوخ کردی گئی۔اتحاد ایئرویز نے ابوظبی اور جدہ کے درمیان پروازیں ای وائی 601، ای وائی 603، ای وائی 602 اور ای وائی 604 منسوخ کردیں۔ اس کے علاوہ ابوظبی سے ریاض اور دمام کے لیے تمام پروازیں بھی منسوخ کیے جانے کی اطلاع ہے۔سعودی فضائی کمپنیوں کی پروازیں بھی متاثر ہوئیں۔ فلائی ناس کی دبئی سے روانہ ہونے والی پروازیں ایکس وائی 202، ایکس وائی 206، ایکس وائی 210، ایکس وائی 212، ایکس وائی 812 اور ایکس وائی 218 منسوخ کردی گئیں جبکہ فلائی ایڈیل کی ریاض جانے والی پرواز ایف 3 506 بھی منسوخ ہونے والی پروازوں میں شامل ہے۔رپورٹ میں سعودی ایئرلائن کی متعدد پروازوں اور ریاض ایئر کی پروازوں آر ایکس 242 اور آر ایکس 244 کے متاثر ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔دوسری جانب سعودی عرب کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متعلق پروازیں بھی متاثر ہوئیں۔بنگلا دیش کی بیمان بنگلا دیش ایئرلائنز کی پروازیں بی جی 349 اور بی جی 350، اسلام آباد سے آنے والی فلائی جناح کی پرواز 9 پی 710 اور دیگر بین الاقوامی پروازیں منسوخ ہونے کی اطلاع دی گئی۔اس کے علاوہ سعودی ایئرلائن، فلائی ناس اور شام کی ایئرلائن سیریئن ایئر کی بعض پروازیں بھی متاثر ہوئیں، جن میں لندن، دمشق، جدہ اور ریاض سے متعلق پروازیں شامل ہیں۔پروازوں میں یہ تعطل یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کے خلاف حملوں اور مزید کارروائیوں کے خدشات کے بعد سامنے آیا ہے۔فضائی کمپنیوں نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے اپنی متعلقہ ایئرلائن سے پرواز کی تازہ صورت حال معلوم کریں، کیونکہ پروازوں کے اوقات میں تبدیلی یا مزید منسوخی کا امکان موجود ہے۔مسافروں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بکنگ، روانگی کے وقت اور متبادل پروازوں سے متعلق معلومات براہ راست متعلقہ فضائی کمپنی سے حاصل کریں تاکہ غیر ضروری انتظار اور سفری پریشانی سے بچا جا سکے۔قبل ازیں یمنی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران حوثی ملیشیا کے خلاف 753 حملے کیے گئے، جن میں ملیشیا کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ترجمان یمنی فوج کے مطابق ان حملوں میں حوثی ملیشیا کے 218ارکان اور فیلڈ کمانڈرز ہلاک یا زخمی ہوئے۔ترجمان نے مزید کہا کہ کارروائیوں کے دوران حوثی ملیشیا کی 78 فوجی گاڑیاں اور بھاری ہتھیار تباہ یا ناکارہ بنا دیے گئے۔یمنی فوج کے ترجمان کے مطابق حوثی ملیشیا کی کمک، نقل و حمل اور لاجسٹک اثاثوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔واضح رہے کہ ہلاکتوں، زخمیوں اور فوجی سازوسامان کے نقصانات سے متعلق یہ اعداد و شمار یمنی فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ ادھر او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے مکہ اور مدینہ پر حوثی شدت پسندوں کے گھنانے حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ مسلم دینا کو حوثی باغیوں کی سرکوبی کے لیے ایک مضبوط موقف اپنانا ہوگا۔نجی ٹی وی کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل اسماعیل بن شیخ احمد کی حوثیوں کی جانب سے اسلامی مقدس مقامات کی بے حرمتی کی بھی مذمت کی گئی ہے۔اسلامی تعاون تنظیم کے اعلامیے کے مطابق او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے مکہ، مدینہ، طائف اور جدہ سمیت دیگر مقامات پر حوثیوں کے بزدلانہ حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل اسماعیل بن شیخ احمد نے کہا کہ میدانِ عرفات کے قریب وادی مغمس کو نشانہ بنانا ثبوت ہے کہ حوثیوں کو مقدس مقامات کا احترام اور عام شہریوں کی حفاظت کا کوئی پاس نہیں، مسلم دنیا کو ایک مضبوط اور ذمہ دارانہ موقف اپنانا ہوگا تاکہ حوثی شدت پسندوں کی سرکوبی اور مجرمانہ کارروائیوں کا خاتمہ ہوسکے۔اسماعیل بن شیخ احمد نے کہا کہ اسلامی مقدس مقامات کی بے حرمتی پوری مسلم امت پر حملہ ہے ، اسلامی مقدس مقامات پر حملوں کے خلاف عالمی برادری کی جانب سے فوری کارروائی اور ان حملوں کے ذمہ داروں کا محاسبہ ضروری ہے۔او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ملکی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت کے اقدامات کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
میزائل حملے
