اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں)وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب سے مملکتِ سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقمی نے خیرسگالی ملاقات کی جس میں دوطرفہ اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ ترجیحات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیرِ خزانہ نے سعودی سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ دوستی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کے لیے سعودی عرب کی مسلسل معاونت کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔سعودی سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو اجاگر کیا، جن کی بنیاد مشترکہ مذہب، تاریخ، باہمی اعتماد اور احترام پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کے درمیان مضبوط روابط عوامی سطح پر تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور دونوں ممالک کے لیے باہمی مفاد کے اقتصادی مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان میں معاشی استحکام کی بحالی کے حوالے سے پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر اور مہنگائی کی صورتحال میں بہتری، نیز بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ اداروں کی جانب سے حالیہ درجہ بندی میں بہتری کا ذکر کیا۔ انہوں نے حال ہی میں 3 ارب امریکی ڈالر کے یورو بانڈز کے اجرا اور چین کی سرمایہ منڈی تک رسائی کے ذریعے پاکستان کی عالمی سرمایہ منڈیوں میں واپسی کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری پر مبنی پائیدار ترقی کے لیے معاشی بہتری کے حالیہ ثمرات کو آگے بڑھانے کی اہمیت اجاگر کی۔دونوں جانب سے زراعت، معدنیات و کان کنی اور سرمایہ کاری کی صلاحیت رکھنے والے دیگر شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے مشترکہ ترجیحات کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال اور جاری تنازعے پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جس میں امن و استحکام کی اہمیت، ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل تعاون اور خطے کے اقتصادی امکانات کے تحفظ پر زور دیا گیا۔گفتگو میں پاکستان کے اسٹریٹجک جغرافیائی محلِ وقوع اور علاقائی تجارت و راہداری کے مرکز کے طور پر اس کی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا گیا، جو رابطہ کاری کو بہتر بنانے اور وسیع تر اقتصادی تعاون کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ہو سکتی ہے۔وزیرِ خزانہ نے ساختی اصلاحات کا عمل جاری رکھنے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مستحکم اور قابلِ پیش گوئی سرمایہ کاری ماحول برقرار رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور تجارت و سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں جانب سے مشترکہ اقتصادی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل رابطے اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
وزیر خزانہ
