اسلام آباد(پ ر)بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا (Meta) نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، وزارت انسانی حقوق، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (ایس ایم پی آر اے)، نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (این سی آر سی) اور زندگی ٹرسٹ کے اشتراک سے اسلام آباد میں ڈیجیٹل تحفظ سمٹ (Digital Tahafuzz Summit) منعقد کیا۔ جس میں نوجوانوں کے آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل دنیا میں ان کی فلاح و بہبود پر توجہ دی گئی۔اجلاس میں پالیسی سازوں، تعلیمی شعبے کے ماہرین ، والدین، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں نے شرکت کی۔ شرکا نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ نوجوانوں کو انٹرنیٹ کی دنیا میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ انہیں آن لائن خطرات سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ رازداری کے تحفظ، عمر کے مطابق سوشل میڈیا کی تیاری اور خودکار حفاظتی اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کو آن لائن تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے سوشل میڈیا کے فوائد تک ان کی رسائی کیسے برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے لیے عمر کی تصدیق کا ایک قابل عمل نظام وضع کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں صارفین کی رازداری کو مقدم رکھا جائے۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حفاظتی اقدامات اسی وقت زیادہ مثر ثابت ہوتے ہیں جب نوجوان ان سے آگاہ ہوں اور ضرورت پڑنے پر قابل اعتماد بالغ افراد سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔سمٹ میں ڈیجیٹل تحفظ سے متعلق تعلیم کو قومی سطح پر فروغ دینے اور اس مقصد کے لیے انڈسٹری کی معاونت حاصل کرنے کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا کے مطابق شواہد پر مبنی نوجوانوں کے تحفظ کی پالیسیوں کے ذریعے پاکستان خطے میں کس طرح قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔میٹا نے سمٹ میں ڈیجیٹل ڈائیلاگز ان ریئل لائف (Digital Dialogues in Real Life) بھی متعارف کرا دیا۔ یہ مفت آن لائن سہولت برازر کے ذریعے استعمال کی جا سکتی ہے اور نوجوانوں، والدین، اساتذہ اور کمیونٹی گروپس کو روزمرہ کی آن لائن صورت حال پر مشترکہ گفتگو کرنے میں مدد دیتی ہے۔نوجوانوں اور اساتذہ کے ساتھ تحقیق اور آزمائش کے بعد تیار کیا گیا یہ پروگرام خاندانوں کو نوعمر صارفین کے اکانٹس (Teen Accounts) میں موجود حفاظتی اقدامات سے آگاہ کرتا ہے۔ ان اقدامات کے تحت اس بات کو محدود کیا جاتا ہے کہ کون نوعمر افراد سے رابطہ کر سکتا ہے، وہ کس قسم کا مواد دیکھ سکتے ہیں اور سوشل میڈیا پر گزارا جانے والا ان کا وقت کس حد تک مفید ہے۔مواد کی سیٹنگز13 سال یا اس سے زائد عمر کے ناظرین کے لیے فلموں کی درجہ بندی اور والدین کی آرا کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہیں، تاکہ نوجوانوں کو ان کی عمر کے مطابق مواد دکھایا جا سکے۔ 16 سال سے کم عمر نوجوانوں کو ان سیٹنگز میں نرمی کرنے کے لیے والدین کی اجازت لینا ضروری ہے۔وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ بچوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے بغیر پاکستان کا حقیقی ڈیجیٹل مستقبل ممکن نہیں۔ نوجوانوں کا آن لائن تحفظ صرف والدین پر نہیں چھوڑا جا سکتا کہ وہ پیچیدہ سیٹنگز کو خود سمجھ کر نافذ کریں۔ ٹیکنالوجی میں حفاظتی اقدامات شامل کرنا، ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینا اور اجتماعی ذمہ داری کے تحت ان پر عمل درآمد یقینی بنانا ضروری ہے۔آج سمٹ میں حکومت، انڈسٹری ، اساتذہ اور اہل خانہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے اس مشترکہ ذمہ داری کی عملی مثال پیش کی گئی۔ پاکستان کا عزم ایسا ڈیجیٹل ماحول تشکیل دینا ہے جہاں کوئی بچہ آن لائن دنیا کے خطرات کا تنہا سامنا کرنے پر مجبور نہ ہو۔میٹا کی ڈائریکٹر پبلک پالیسی برائے جنوبی و وسطی ایشیا یوئن ٹنگ چے (Yuen Ting Chay) نے کہا کہ نوجوانوں کو آن لائن محفوظ رکھنا والدین، اساتذہ، حکومتوں اور سول سوسائٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ میٹا نے فیس بک، انسٹاگرام اور میسنجر پر ٹین اکانٹس اس انداز میں متعارف کرائے ہیں کہ حفاظتی اقدامات پہلے سے فعال ہوں اور والدین کو اطمینان حاصل ہو۔ تاہم، ان اقدامات کے ساتھ نوجوانوں اور ان کی زندگی میں اہم کردار ادا کرنے والے بالغ افراد کے درمیان گفتگو بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اسی مقصد کے تحت ڈیجیٹل ڈائیلاگز ان ریئل لائف تیار کیا گیا ہے، تاکہ والدین اور نوجوان آن لائن زندگی کے بارے میں زیادہ کھل کر بات کر سکیں۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن نے کہا کہ "بچوں کو آن لائن محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مثر حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ ہمیں بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ طریقے سے آگے بڑھنے کے لیے ضروری آگاہی فراہم کرنا اور والدین کو اس قابل بنانا ہوگا کہ وہ بچوں کی مناسب رہنمائی کر سکیں۔ ڈیجیٹل ڈائیلاگز ان ریئل لائف (Digital Dialogues in Real Life) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے پی ٹی اے ڈیجیٹل آگاہی کے فروغ اور پاکستان کے بچوں کے لیے زیادہ محفوظ آن لائن ماحول کی تشکیل کے عزم پر قائم ہے۔”ڈیجیٹل تحفظ سمٹ پاکستان میں نوجوانوں کی آن لائن سلامتی کے لیے میٹا کی شراکت دار اداروں کے ساتھ جاری کوششوں کا تسلسل ہے۔ میٹا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پالیسی سازوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایسے حفاظتی اقدامات کو پوری انڈسٹری میں معیار بنانے کے لیے کام جاری رکھے گی۔
بریکنگ نیوز
- اکبر ایس بابر کا پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کی فنڈنگ کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ
- لاہور:تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔
- راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کا آئندہ مالی سال کیلئے پونے 7 ارب روپے کا بجٹ منظور
- بھارہ کہو پولیس چوروں کے خلاف مثر کارروائی
- ڈپٹی کمشنر سارہ حیات نے رورل ہیلتھ سنٹر دلہہ کا دورہ
- سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے راجہ سرفراز اصغر کی ملاقات
- نتھیاگلی ، تجاوزات کیخلاف آپریشن ،متعدد غیر قانونی کیبن اور تعمیرات مسمار
- پاکستان ریلوے کے پاس 439 انجن میں سے 269 فعال ‘ 172غیر فعال ریلوے ورکشاپ میں پزروں کی تیاری شروع
- ایران سے زمینی راستے کے ذریعے عراق جانیوالے پاکستانی متوجہ ہوں
- اٹک: شادی تقریب میں ڈانس پر دولہے اور3رقاصائوں سمیت35افراد پولیس کی حراست میں۔
- اٹک پولیس کی کارروائیاں، 2 مجرمان اشتہاری گرفتار،تفتیش جاری
- تھانہ پنڈیگھیب پولیس کا شادی تقریب میں فحش ڈانس پر چھاپہ
- اوپن یونیورسٹی میں عالمی یومِ ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی سیمینار
- سی پی او کی زیر صدارت ٹریفک حادثات پر قابو پانے کیلئے کوآرڈینشن میٹنگ
- تھانہ گوجرخان میں مستقل ایس ایچ او کی تعیناتی تاخیر کا شکار
- 2 منشیات سپلائرز کو گرفتار،5 کلو گرام چرس برآمد، مقدمات درج
- گنجمنڈی پولیس کی کارروائی ،آتش بازی کا سامان فروخت کرنے والے 2 افراد گرفتار
- سب انسپکٹر سجاد سلیم دوسری مرتبہ تھانہ رنگو تعینات
- صوبہ بھر میں گندم کی کاشت فروغ کیلئے خصوصی مہم کا آغاز :عاشق حسین
- کروڑ پاکستانی ذہنی امراض’ 1.29 کروڑ ہیپاٹائٹس کا شکار
