اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی)پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) میں ایم سی ایچ نرسری آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے بعد ادارے میں حفاظتی انتظامات، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت اور انتظامی شفافیت بہتر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (نان میڈیکل)کی جانب سے 17 ستمبر 2026 کو اضافی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ادارے میں فائر سیفٹی، سکیورٹی، مشینری کی دیکھ بھال، عملے کی حاضری اور نجی کمپنیوں کے معاہدوں پر عمل درآمد سمیت مختلف شعبوں میں اقدامات کیے گئے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ پمز میں آگ سے بچا اور حفاظتی انتظامات کی خامیوں کی نشاندہی ایم سی ایچ نرسری کے سانحے سے پہلے بھی کی جا چکی تھی۔ اس سے قبل پمز نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کے ایک الگ واقعے کی تفصیلی انکوائری کی گئی تھی، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ اس انکوائری کے نتیجے میں 18 صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کی گئی، جس میں آگ سے بچا، ہنگامی ردعمل، عمارت خالی کرانے کے طریقہ کار، فرضی مشقوں اور ملازمین کی تربیت سے متعلق جامع سفارشات پیش کی گئی تھیں۔ رپورٹ کو سراہا گیا، تاہم اس میں دی گئی متعدد سفارشات پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ان سفارشات کو عملی شکل دینے کے لیے اقدامات شروع کیے گئے اور پمز میں باقاعدہ فائر اینڈ لائف سیفٹی یونٹ اور ہنگامی ردعمل کی ٹیم قائم کی گئی۔ اس سلسلے میں تقریبا 470 آگ بجھانے والے آلات، فائر الارم، دھوئیں کا سراغ لگانے والے آلات، فائر ہائیڈرنٹس، فائر ہوزز، ہنگامی روشنیاں اور اخراج کے راستوں کی نشاندہی کے لیے حفاظتی بورڈ نصب کیے گئے ہیں، جبکہ 1500 سے زائد ملازمین کو آگ سے بچا اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔ مختلف مقامات پر عمارت خالی کرانے کی مشقیں اور فرضی ہنگامی مشقیں بھی منعقد کی گئی ہیں۔ہسپتال کی عمارتوں اور رہائشی مقامات میں حفاظتی خامیوں کی نشاندہی اور ان کے تدارک کے لیے جامع حفاظتی آڈٹ ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بائیومیڈیکل اور انجینئرنگ شعبوں کو طبی آلات کی فہرستیں اور ان کی مرمت و دیکھ بھال کا ریکارڈ مکمل طور پر اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ہسپتال کے مختلف حصوں کے دورے کرکے مریضوں کے معائنے کی جگہوں، راہداریوں اور ہنگامی اخراج کے راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔پمز میں سکیورٹی انتظامات کو مثر بنانے کے لیے شام اور رات کے اوقات میں گشت بڑھانے کے ساتھ ایک اضافی سکیورٹی چیک پوسٹ بھی قائم کی گئی ہے۔ ہسپتال کی بیرونی دیوار کے ساتھ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور پولیس گشت کے لیے اسلام آباد پولیس سے بھی باضابطہ خط و کتابت شروع کی گئی ہے۔ادارے میں انتظامی شفافیت یقینی بنانے کے لیے نجی کمپنیوں کے ذریعے فراہم کیے جانے والے عملے کی نگرانی کا نظام بھی زیرِ جائزہ لایا گیا ہے۔ اس ضمن میں عملے کی تصدیق، بائیومیٹرک حاضری، تعلیمی قابلیت اور معاہدوں میں درج شرائط کا جائزہ لیا گیا، جبکہ متعلقہ شعبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ نجی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور کسی قسم کی بے ضابطگی کی گنجائش نہ چھوڑی جائے۔ذرائع کے مطابق ادارے میں اہم تنصیبات کے تحفظ، ممکنہ انتظامی خطرات سے نمٹنے اور مثر ذرائع ابلاغ سیل کے قیام سے متعلق تجاویز بھی تیار کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ پمز کو درپیش قلیل مدتی اور طویل مدتی مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے جامع دستاویز بھی مجاز حکام کو ارسال کی گئی ہے۔دوسری جانب ہسپتال کے بعض سامان اور ایچ وی اے سی نظام کے پرزہ جات کے مبینہ طور پر غیر مجاز طور پر منتقل کیے جانے کے معاملے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے سے متعلق انکوائری میں بھی متعلقہ افسر کی جانب سے ذمہ داریاں ادا کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف انکوائریوں اور وزیرِاعظم پرفارمنس ڈیلیوری یونٹ کے شکایات ڈیش بورڈ سے متعلق امور بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اضافی انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنے کے ابتدائی دو ماہ کے دوران متعدد اقدامات ایسے حالات میں کیے گئے جب انہیں سرکاری ریکارڈ کی مکمل حوالگی اور معاون عملے کی کمی جیسے انتظامی مسائل کا بھی سامنا تھا۔ادھر متعلقہ افسر نے مقف اختیار کیا ہے کہ پمز کے سابقہ انتظامی ڈھانچے سے وابستہ بعض عناصر اور ذاتی مفادات رکھنے والے حلقوں کی جانب سے اصلاحاتی اقدامات، معاہدوں پر عمل درآمد اور انتظامی جوابدہی یقینی بنانے کی کوششوں کے بعد ان کے خلاف ذاتی نوعیت کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی افسر کی کارکردگی کا تعین ذاتی الزامات یا ذرائع ابلاغ میں منفی تاثر کی بنیاد پر نہیں بلکہ سرکاری ریکارڈ، دستاویزی شواہد اور عملی نتائج کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔پمز میں شروع کیے گئے اصلاحاتی اقدامات کے اگلے مرحلے میں حفاظتی آڈٹ کی سفارشات پر مکمل عمل درآمد، وسائل کی فراہمی، مختلف شعبوں کے درمیان رابطہ کاری اور اقدامات کی مسلسل نگرانی کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
