ممبئی( ویب ڈیسک )بھارتی شہر ممبئی کی ہائی کورٹ نے میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ پر بھیجے گئے لیگل نوٹس کو بھی قانونی طور پر کاغذی نوٹس کے برابر قرار دے دیا۔ رپورٹ کے مطابق ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس گوتم پٹیل نے ریمارکس دیئے کہ وہ واٹس ایپ پر بھیجے گئے لیگل نوٹس کو اس لیے قانونی تسلیم کریں گے کیونکہ بلیو ٹِک (نیلے نشان) سے پیغام پڑھنے کی نشاندہی ہوجاتی ہے۔ممبئی ہائی کورٹ نے یہ رولنگ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے کیے گئے ایک کیس پر کارروائی کے دوران دی۔واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اپنے ایک کلائنٹ روہت جادھو کے بارے میں شکایت کی تھی کہ وہ کریڈٹ کارڈ ڈی فالٹر ہیں اور انہیں ایک لاکھ سے زائد کی رقم ادا کرنی ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ روہت جادھو نے اپنی رہائش تبدیل کرلی تھی، جس کی وجہ سے نوٹس گھر پر بھیجا نہیں گیا لیکن ان کا فون نمبر آن تھا جو ریکارڈ میں موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں پی ڈی ایف فائل کی شکل میں واٹس ایپ پر قانونی نوٹس بھیجا گیا، جسے انہوں نے نہ صرف دیکھا بلکہ فائل ڈاو¿ن لوڈ بھی کی۔سماعت کے دوران ممبئی ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کی عدالتی کارروائی میں واٹس ایپ پیغامات کی شکل میں بھیجے گئے قانونی نوٹس کو کاغذی نوٹس کی حیثیت سے ہی دیکھا جائے گا۔
Trending
- اقوام متحدہ نے غزہ میں نسل کشی کرنے پر اسرائیل کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا، عرب میڈیا
- مری: قربانی کیلئے لایا گیا بیل گہری کھائی میں جاگرا، موقع پر ذبح کرنا پڑا
- قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے تک فریز کرنا کتنا محفوظ ہے؟ ماہرین نے اہم طبی حقائق بتا دیے
- سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
- مسلح افواج کے سربراہان کی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد
- آسٹریلوی کپتان مچل مارش پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر
- معروف بھارتی اداکار انتقال کرگئے
- صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے نماز عید کہاں ادا کی؟
