لاہور (مبشر حسن) بورڈ آف ریونیو کی جانب سے گزشتہ 15 سال سے صوبے بھر کے تمام اضلاع میں اربو ں روپے کے فنڈز سے جاری زمینوں کے سیٹلمنٹ (بندوبست) کے کام کو مکمل ہونے کا نام دیتے ہوئے ابتدائی طور پر راولپنڈی، گجرات اور ضلع لاہور میں بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے تینوں اضلاع میں تعینات سیٹلمنٹ اور اسسٹنٹ سیٹلمنٹ افسران کو نئی ذمہ داریوں تک کے لئے ان کے عہدوں سے فارغ جبکہ ساتھ ہی ساتھ راولپنڈی، گجرات اور لاہور میں بندوبست کا کام کرنے والے پٹواریوں سمیت 148 افراد پر مشتمل سٹاف، ضلع لاہور کے 84 پٹواریوں کو سرپلس پول سوسائٹی میں ڈالنے کے احکامات بھی جاری کردیے، ضلع لاہور میں بندوبست کا کام کرنے والے دو، راولپنڈی اور گجرات میں تعینات تحصیلداروں کو واپس بورڈ آف ریونیو میں رپورٹ کرنے کا حکم جبکہ ضلع لاہور میں بندوبست کا کام کرنے والے 11 نائب تحصیلداروں سمیت پنڈی اور گجرات کے تمام نائب تحصیلداروں کو اپنے اپنے ضلع کے کمشنر آفس میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ بندوبست کے نام پر گزشتہ پندرہ سال کے دوران افسران، تحصیلداروں، نائب تحصیلداروں کی تنخواہوں کے علاوہ سرکار کی جانبسے جاری اربوں روپے کے فنڈز کو ضائع کیا گیا۔ ضلع لاہور میں لاہور خاص، شاہدرہ، اچھرہ اور شالیمار تحصیل میں زمینوں کے بندوبست کا کام شروع ہی نہیں ہوا شاہدرہ میں 90 فیصد کام باقی لاہور خاص اور شالیمار تحصیل میں بندوبست کا کام شروع ہی نہیں کیا گیا گزشتہ پندرہ سال کے دوران راولپنڈی میں 11 موضع جات کا بندوبست نامکمل جس کی وجہ ریکارڈ میسر نہ ہونا بتایا گیا ہے ان موضع جات کو مکمل کرنے کے لئے 90 روز کا وقت دیا گیا ہے اسی طرح ضلع گجرات میں گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران 1054 موضع جات میں سے صرف 515 موضع جات کا بندوبست مکمل کیا گیا۔ بورڈ آف ریونیو کی جانب سے تینوں اضلاع میں بندوبست کا کام کرنے والے تمام افسران کو نئی تقرری کے لئے انتظار کا کہا گیا، تحصیلداروں کو بورڈ آف ریونیو، نائب تحصیلداروں کو اپنے اضلاع کے کمشنر آف اور پٹواریوں کو سرپلس پول سوسائٹی میں یکم ستمبر تک رپورٹ کرنے کا حکم دےا گیا ہے۔ صوبے بھر کے تمام اضلاع میں 2003 میں بندوبست کا آغاز کیا گیا اور اسی سال بندوبست کے لئے پٹواریوں کو بھرتی کیا گیا اور یہ طے کیا گیا کہ بندوبست کے لئے بھرتی کیے گئے پٹواری صرف بندوبست ہی کا م کریں گے مگر ایک ہی سال کے بعد بااثر پٹواری ریونیو کے موضع جات میں تعینات کر لئے گئے۔ صرف ضلع لاہور میں ابتدائی طور پر 4 ارب روپے کا بجٹ دیا گیا تھا۔ صوبے کی زمینوں کے س بندوبست کے لئے گزشتہ پندرہ سال کے دوران بندوبست کی آڑ میں سونے کی چڑیا پٹوارخانوں کے ریکارڈ میں ردوبدل کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا۔ بڑے پیمانے پر ضلع لاہور میں ریکارڈ تبدیل کیے گئے تین سال تک ٹھوکر نیاز بیگ کے ایک بڑے پلازے میں بند کمروں میں بندوبست کیا جاتا رہا، فنڈز کا بے دریخ استعمال ہوا بہت بڑے پلازے کا لاکھوں روپے ماہانہ کرایہ بھی ادا کیا گیا۔ بندوبست کے دوران بیس سے زائد پٹواریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر انکوائریاں کی گئیں نیب حکام کے جانب سے بھی پٹواریوں پر ہاتھ ڈالا گیا درجنوں پٹواریوں کو سزا کے طور پر جبری ریٹارمنٹ دی گئی جبکہ 32 کے قریب پٹواریوں کو بیلک لسٹ کیا گیا جن میں سے متعدد کو بحال کر دیا گیا مگر آج تک ان کو پٹوارخانوں میں تعینات نہیں کیا گیا۔
