اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ میرے سفارتکاری دور میں پاکستان کو ساڑھے سات ارب ڈالر، اوباما انتظامیہ کی طرف سے دیئے گئے۔ فوج کی موجودگی میں مجھ سے استعفیٰ لیا گیا۔ میمو گیٹ کا الزام لگانے والے غائب ہو گئے۔ مضمون میں سچ لکھا اور لکھتا رہوں گا۔ نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا ہے کہ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر نہیں کیا جا رہا ہے۔ امریکی قوم پڑھی لکھی قوم ہے۔ میرا مضمون واشنگٹن پوسٹ سے نکل کر بڑے بڑے جریدوں میں بھی چھپ چکا ہے۔ یہاں اتنی لے دے نہیں جتنی پاکستان میں ہو رہی ہے۔ پی پی پی کیلئے میں نے خدمات انجام دی ہیں۔ بی بی شہید نے اپنی کتاب میں اعتراف بھی کیا۔ میری سفارت کاری کے دور میں پاکستان کو اوباما سے ساڑھے سات ارب ڈالر امداد ملی۔ خورشید شاہ نے میڈیا کے دباﺅ میں آ کر میرے خلاف بیان دیا۔ میمو گیٹ کا الزام لگانے والا بھی غائب ہو گیا۔ مجھے محب وطن سمجھنا چاہیے۔ اگر میں کوئی سچ بیان کرتا ہوں تو اس پر ہنگامہ برپا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ فوج کی موجودگی میں مجھ سے استعفیٰ لیا گیا۔ میری وابستگی بی بی سے نہیں یہ میرا ذاتی مو¿قف ہے میں نے مضمون لکھا ہے اور بھی لکھتا رہوں گا۔
فوج کی موجودگی میں اہم ترین کام مجھ سے کروایا گیا, حسین حقانی کے سنسی خیزانکشاف
