راولپنڈی(بیوورورپورٹ )آپریشن ردالفساد کے دوران متعدد دہشتگرد منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیئے گئے جبکہ دہشتگردوں کے دیگر منصوبوں کو بروقت اور موثر کارروائی سے ہدف سے پہنچے سے پہلے ہی خاک میں ملا دیا گیا ۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری بیان میں ناکام بنائے گئے منصوبوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سات مارچ کو صوابی میں دہشتگردوں کے ٹھکانے کو بروقت اطلاع کی مدد سے نشانہ بنایا گیا ہلاک ہونیوالے پانچوں دہشتگرد صوابی جوڈیشل کمیپلیکس پر حملے کی تیاری میں مصروف تھے ۔ 21 فروری کو تنگی چارسدہ میں کچہری پر دہشتگرد حملے کو پولیس کی بروقت کارروائی سے ناکام بنایا گیا ۔ 17 مارچ کو فرنٹیئر کانسٹیبلری کے تربیتی مرکز پر دہشتگرد حملے کو پیشگی اطلاع اور موثر تیاری سے ناکام بنایا گیا ۔ مہمند ،خیبر ، باجوڑ اور جنوبی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کی طرف سے سرحدی چوکیوں پر 18 فروری، 26 فروری، 5 مارچ اور 17 مارچ کو کئے جانیوالے حملے ناکام بنائے گئے جبکہ د ہشتگردوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا جس میں بالخصوص گوراپرائے اور شلمان قابل ذکر ہیں جہاں پر 30 سے زائد دہشتگردوں کو جوابی کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا ۔ قوم و ملک کے تحفظ کی خاطر ان کارروائیوں کے دوران آرمی ، فرنٹیئر کور اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 9 افسروں اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ 10 جوان اور 2 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ۔ بیان کے مطابق آپریشن ردالفساد کی بھر پور کامیابی میں عوام کا بھر پور تعاون ، انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کی بروقت اطلاعات اور کارروائی اور میڈیا کی مدد شامل ہے ۔ ان دہشتگردوں کو پاک افغان سرحد کے پار چھپے ہوئے عناصر کی مدد اور حمایت حاصل ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ افغان حکومت، اس کے سیکیورٹی ادارے اور بین الاقوامی برادری ان عناصر کی وجہ سے خطے کی بگڑی ہوئی صورتحال کو بہتر بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرینگے ۔
آپریشن ردالفساد, آئی ایس پی آر کا بڑا بیان سامنے آگیا
