نئی دہلی : وزیراعظم نریندر مودی کے مجوزہ دورۂ فرانس سے قبل فرانس کے سفارتی ذرائع نے بھارت اور فرانس کے درمیان دفاعی اور صنعتی تعاون میں مزید پیش رفت کے اشارے دیے ہیں۔ خاص طور پر نئی رافیل ڈیل اور دفاعی شعبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی (ٹیکنالوجی ٹرانسفر) کے حوالے سے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی سمت ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔فرانس کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت اور فرانس کے درمیان دفاعی تعلقات روایتی ’’خریدار اور فروخت کنندہ‘‘ کے رشتے سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں اور اب یہ ایک برابری پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ وزیراعظم مودی کے اس دورے کے دوران دفاعی تعاون، جوہری توانائی، جدت طرازی اور علاقائی سلامتی جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہونے کا امکان ہے۔
میک اِن انڈیا اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر خصوصی توجہ
فرانس کےحکام کے مطابق مجوزہ دفاعی معاہدوں میں ’’میک اِن انڈیا‘‘ پالیسی کو مرکزی حیثیت دی جائے گی۔ ذرائع نے واضح کیا کہ نئی دفاعی ڈیل ماضی کے معاہدوں سے مختلف ہوگی اور اس میں مقامی سطح پر پیداوار اور بھارتی دفاعی صنعت کے انضمام پر خصوصی زور دیا جائے گا۔سفارتی ذرائع نے کہا، ’’فرانس دفاعی شعبے میں میک اِن انڈیا کے وژن کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں تعلقات کافی پختہ اور بالغ ہو چکے ہیں۔‘‘ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے بارے میں سوال کے جواب میں فرانسیسی ذرائع نے دوٹوک انداز میں کہا، ’’جی ہاں، ہم نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران عملی طور پر یہ ثابت کیا ہے۔ یہ کسی گاہک اور فروخت کنندہ کا تعلق نہیں بلکہ برابری کی بنیاد پر قائم شراکت داری ہے۔ میک اِن انڈیا اس تعاون کا اہم حصہ ہوگا۔‘‘
جوہری تعاون میں نجی شعبے کی شمولیت
وزیراعظم مودی کے دورے کے دوران سول نیوکلیئر تعاون بھی اہم ایجنڈے میں شامل ہوگا۔ فرانس کے حکام کا ماننا ہے کہ بھارت کے نئے جوہری قوانین نے نجی شعبے کی شمولیت کے لیے نئی راہیں ہموار کی ہیں۔ فرانس کےذرائع کے مطابق، ’’اگرچہ کچھ چیلنجز موجود ہیں، لیکن نیا قانون نہایت مثبت پیش رفت ہے۔ اس سے بھارتی نجی کمپنیوں کو بھی جوہری شعبے میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔ قانون منظور ہونے کے بعد سے ہماری فرانسیسی یوٹیلٹی کمپنیوں نے بھارت کی بڑی نجی کمپنیوں کے ساتھ فعال بات چیت شروع کر دی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کا تعاون بھی ’’میک اِن انڈیا‘‘ کے تصور کے گرد گھومے گا اور سال کے اختتام تک کئی منصوبوں کے بارے میں واضح تصویر سامنے آ سکتی ہے۔
مودی اور میکرون کے درمیان مضبوط تعلقات
بھارتی وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری پیوش سریواستو نے بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی اپنے دورۂ فرانس کا آغاز شہر نیس سے کریں گے۔ یہ دورہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کی دعوت پر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور فرانس کے تعلقات کی سب سے بڑی خصوصیت باہمی اعتماد، مسلسل رابطہ اور دونوں رہنماؤں کے درمیان مضبوط ذاتی ہم آہنگی ہے۔ وزیراعظم مودی کا یہ فرانس کا ساتواں سرکاری دورہ ہوگا۔ اس سال فروری میں صدر میکرون بھی مصنوعی ذہانت(اے آئی) سے متعلق ایک اہم سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت آئے تھے۔تجزیہ کاروں کے مطابق مودی کے اس دورے سے بھارت اور فرانس کے درمیان دفاعی، جوہری اور تکنیکی تعاون کو مزید وسعت ملنے کی توقع ہے، جب کہ دونوں ممالک اسٹریٹجک شراکت داری کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
