روئٹرز (Reuters) کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) نے پیر کے روز میڈیا انٹرویوز میں تصدیق کی ہے کہ بین الاقوامی جوہری انسپکٹرز "لازمی طور پر” ایران واپس جائیں گے۔ یہ اقدام واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے نئے امن معاہدے کا ایک مرکزی حصہ ہے۔
-
جوہری انسپکٹرز کی واپسی: جے ڈی وینس نے این بی سی نیوز (NBC News) کو بتایا کہ نئے معاہدے کے تحت جوہری انسپکٹرز کو ایران میں دوبارہ داخلے کی اجازت دی جائے گی تاکہ وہ وہاں کی سرگرمیوں کی نگرانی کر سکیں۔
-
یورینیم کے ذخائر کا خاتمہ: انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کا جوہری ادارہ (IAEA) اور امریکہ مشترکہ طور پر ایران کے پاس موجود اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم (highly enriched uranium) کے ذخائر کو تباہ یا ختم کرنے میں تعاون کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ شرط مفاہمتی یادداشت (MOU) میں بالکل واضح طور پر لکھی گئی ہے۔
-
ملبے تلے دبا مواد: رپورٹس کے مطابق، گزشتہ سال (جون 2025 میں) امریکہ اور اسرائیل کے فوجی حملوں کا نشانہ بننے والی ایرانی تنصیبات کے ملبے تلے تقریباً 1,000 پاؤنڈ (453.6 کلوگرام) افزودہ یورینیم دبا ہوا ہے، جسے ٹھکانے لگانے کے لیے تکنیکی بات چیت کی جائے گی۔
-
تکنیکی مذاکرات کا آغاز: وینس نے سی این این (CNN) کو بتایا کہ موجودہ مفاہمتی یادداشت تقریباً ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ایک عمومی فریم ورک ہے۔ اس معاہدے پر عمل درآمد کی باریکیاں اور تکنیکی تفصیلات طے کرنے کے لیے باقاعدہ تکنیکی مذاکرات کا آغاز رواں ہفتے جمعہ سے ہو رہا ہے۔
-
پابندیوں میں نرمی اور فنڈز کی مشروط فراہمی: جب وینس سے ایرانی اثاثے بحال کرنے یا پابندیاں ہٹانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال ایران کو پابندیوں میں کوئی رعایت یا فنڈز نہیں دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو کوئی بھی معاشی فائدہ یا فنڈز صرف اسی صورت میں ملیں گے جب وہ معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا اور اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ترک کر دے گا۔
