پیر، 15 جون 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان رپورٹس کو سختی سے مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نئے امن معاہدے کے تحت امریکہ ایران کو مالی امداد فراہم کرے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان:
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے ان دعوؤں کو خارج کیا اور لکھا:
"ایران اس بات پر راضی ہو گیا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا! مزید یہ کہ، یہ کہانی کہ امریکہ ایران کو 300 ملین ڈالر ادا کر رہا ہے، سراسر ‘فیک نیوز’ (جھوٹی خبر) ہے، جسے ڈیموکریٹس نے پھیلایا ہے!!!”
اگرچہ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں "300 ملین” کی رقم کا ذکر کیا، لیکن میڈیا اور انتظامیہ کے حکام کے مطابق وہ اصل میں بین الاقوامی خبروں میں زیرِ گردش 300 بلین (ارب) ڈالر کے تعمیرِ نو کے فنڈ کی رپورٹس کا جواب دے رہے تھے۔
300 ارب ڈالر فنڈ کا اصل پس منظر:
یہ تنازع ان رپورٹس کے بعد کھڑا ہوا جو میڈیا میں جاری سفارتی مذاکرات کے حوالے سے سامنے آئی تھیں۔
-
نجی اور خلیجی ممالک کی فنڈنگ، امریکی ٹیکس دہندگان کی نہیں: نائب صدر جے ڈی وینس اور اعلیٰ حکام نے فوری طور پر واضح کیا کہ امریکی حکومت ایران کو کوئی رقم نہیں دے رہی۔ وینس نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ "اس رقم کا ایک پیسہ بھی امریکہ سے نہیں آئے گا۔” اس کے بجائے، تجویز کردہ فنڈ یورپی، ایشیائی نجی سرمایہ کاروں اور خلیجی عرب ممالک کی طرف سے فراہم کیا جائے گا جو تہران کی معیشت مستحکم ہونے کی صورت میں وہاں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔
-
کارکردگی سے مشروط: امریکی انتظامیہ نے زور دیا کہ ایران کو پابندیوں میں کوئی بھی ریلیف یا سرمایہ کاری تک رسائی صرف اسی صورت میں ملے گی جب وہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور دہشت گرد گروپوں کی مالی معاونت روکنے کی شرائط پر مکمل عمل کرے گا۔
