جی ہاں، یہ بالکل مصدقہ خبر ہے۔ پیر، 15 جون 2026 کو فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ایویان لے باں (Evian-les-Bains) میں جی 7 (G7) سربراہی اجلاس کے موقع پر تصدیق کی کہ فرانس اور برطانیہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولنے اور اس کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک مشترکہ کثیر القومی مشن کی قیادت کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ تنازعے کو ختم کرنے اور اس اہم بحری راستے کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کے فوراً بعد سامنے آئی ہے۔
-
اتحادی ممالک کی طاقت: اس بحری اور سمندری مہم میں تقریباً 20 سے 50 معاون ممالک کا اتحاد شامل ہے، جبکہ جرمنی، اٹلی اور نیدرلینڈز جیسے یورپی شراکت داروں کی جانب سے بھی جلد اپنے بحری اثاثے فراہم کرنے کی توقع ہے۔
-
فوجی تیاری: صدر میکرون نے کہا کہ فرانس اس آپریشن کی قیادت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فرانسیسی لڑاکا طیارے 48 گھنٹوں کے اندر نگرانی کے لیے، فریگیٹس (جنگی بحری جہاز) دو سے تین دنوں میں، اور طیارہ بردار بحری جہاز شارل ڈی گول (Charles de Gaulle) بارودی سرنگیں صاف کرنے والے یونٹوں کے ساتھ اس کے فوراً بعد تعینات کیے جا سکتے ہیں۔ برطانوی رائل نیوی کا فضائی دفاعی تباہ کن جہاز HMS Dragon پہلے ہی فرانسیسی کیریئر اسٹرائیک گروپ کے ساتھ شامل ہو چکا ہے۔
-
صرف دفاعی مینڈیٹ: میکرون اور برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک غیر جانبدار، آزاد اور خالصتاً دفاعی امن مشن ہے جس کا مقصد تجارتی جہازوں کی بحفاظت رہنمائی کرنا، ممکنہ بارودی سرنگوں کو صاف کرنا اور عالمی اقتصادی استحکام کا تحفظ کرنا ہے۔
-
عالمی معیشت کی ضرورت: میکرون نے اس بات پر زور دیا کہ بغیر کسی پابندی یا ٹیکس کے بحری ٹریفک کی بلا تعطل بحالی علاقائی استحکام اور عالمی توانائی کی فراہمی، دونوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔
