امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر 14 جون کو ریموٹلی اور الیکٹرانک دستخط کاامکان آخری وقت تک نہیں تھا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا ہے کہ یہ مخمصہ ثالثوں کی تدبیر سے حل ہوا اور انہوں نے ریموٹلی الیکٹرانک دستخط کیے جانے کی تصدیق بھی کی۔
جیو نیوز نے 14 جون کی رات 12 بج کر 50 منٹ پر ایران کی وزارت خارجہ کے ذرائع سے اس بات کی ایکسکلوزیو تصدیق کی تھی کہ ایران بھی امریکا سے ڈیل پر آمادہ ہے اور یہ کہ انشااللہ ڈیل ہوجائے گی۔
اس سے پہلے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے چند گھنٹے ہی میں ڈیل ہونے کاامکان ظاہر کیا تھا تاہم ایران نے مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی تھی، اگر بیانات دیے بھی جارہے تھے تو وہ لبنان پراسرائیلی حملےکا جواب دینے کی تیاری سے متعلق تھے۔
صدر ٹرمپ کے دعوے کی تصدیق یا تردید غالباً اس لیے بھی سرکاری طور پر نہیں کی جارہی تھی کہ 14 جون کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ تھی اور ایرانی رہنماؤں نے سرکاری طور پر واضح کیا تھا کہ وہ 14 جون کو کوئی ڈیل نہیں کریں گے۔
وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ صدر ٹرمپ اسے اپنی سالگرہ پر ایران کی جانب سےتحفہ قرار دے کر پراپیگنڈہ کرسکتے ہیں، جب کہ صدر ٹرمپ کہہ چکے تھے کہ وہ 80 کا ہندسہ پسند نہیں کرتے اس لیے وہ خوش نہیں کہ انکی عمر 80 برس ہوگئی ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ جیو نیوز نے ایرانی وزارت خارجہ ہی کے ذرائع سے تیرہ جون کو پہلے ہی یہ خبر دے دی تھی کہ اگر اسرائیل کی جانب سے امن عمل کو ثبوتاژ کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو عین ممکن ہے کہ ڈیل پر چودہ جون کو دستخط کردیے جائیں۔
14 جون کی شب جیو نے جنوب ایشیا کے اہم سفارتی ذرائع سے یہ جاننے کی کوشش کی آیا چودہ جون کو ڈیل ہوگی یا نہیں تو جواب یہ ملا تھا کہ ایران کی جانب سے اس معاملے پر عجلت دکھانے کے آثار نہیں، اس لیے بہتر ہوگا کہ انتظار کیا جائے۔
اس سفارتی ذرائع نے ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ چونکہ اب نصف شب سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، اس لیے معاملہ چند گھنٹوں سے زیادہ طویل ہوسکتا ہے اور بات الیکٹرانک دستخط تک گئی تو یہ پاکستانی وقت کےمطابق پندرہ جون کی شام پانچ بجے کے بعد ہی ہوسکتا ہے جب امریکا میں صبح ہوتی ہے۔
تاہم چودہ اور پندرہ جون کی اسی درمیانی شب چند گھنٹوں میں سفارتی سطح پر کیا ڈرامائی اقدامات ہوئے جنہوں نے انہونی کو ہونی میں بدل دیا ، اس پر سے پردہ مشرق وسطی سےتعلق رکھنے والے ایک اہم سفارتی ذریعہ نے اٹھایا۔
وزارت خارجہ سے تعلق رکھنے والے اس ذریعہ کا کہنا تھا کہ ثالثوں نے ایران اور امریکا دونوں ہی کے لیے ایک ایسا قابل قبول حل نکالا جو فریقوں کے باہمی مفاد میں تھا اور اس سے کسی کی عزت اور وقار پر آنچ نہیں آنے دی گئی۔
ثالثوں نے تجویز دی کہ ڈیل ایسے وقت کی جائے کہ جب ایران میں پندرہ جون کا آغاز ہوچکا ہو اور امریکا میں ابھی چودہ جون ہی رہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کم سے کم ساڑھے سات گھنٹے کا فرق یہ خلا پُر کرنے کے لیے کافی تھا۔
ذرائع نے تصدیق کی کہ یہی وجہ تھی کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پندرہ جون کی صبح پاکستانی وقت کےمطابق سوا دو بجے صبح ایکس پر پیغام دیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن ڈیل پر اتفاق کرلیا گیا ہے چونکہ ایران کے مقابلے میں پاکستان کا ٹائم تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ آگے ہے اس لیے ایران میں اس وقت پندرہ جون کی صبح بارہ بج کر پنتالیس منٹ ہوچکے تھے۔
ٹھیک چودہ منٹ بعد امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ٹرتھ سوشل پر بیان جاری کیا جس میں ایران سے ڈیل مکمل ہونے کی تصدیق کی اور ساتھ ہی سب کو مبارکباد بھی دی، یعنی ڈیل ایران میں پندرہ جون اور امریکا میں چودہ جون کو ہوئی۔
ایران سے تعلق رکھنے والے وزارت خارجہ کے ایک سینئر اہلکار سے جیو نیوز نے پوچھا کہ بعض اطلاعات کے مطابق ڈیل پر دستخط ایران میں پندرہ جون کی صبح چار بجے ہوئے یعنی جب وہاں نماز فجر ادا کی جاچکی تھی اور نیا دن طلوع ہورہا تھا تاہم اس وقت امریکا میں ابھی چودہ جون کی شب ساڑھے آٹھ بجے کا وقت تھا۔
سفارتکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اس حوالے سے ان کی معلومات سوفی صد درست تو نہیں مگر انہوں نے یہ سنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے تھے کہ انکی سالگرہ کے روز ڈیل پر ڈیجیٹل سائن کیے جائیں تاکہ وہ اسے ذاتی کامیابی کے طور پر پیش کرسکیں تاہم دونوں ملکوں کے درمیان ٹائم میں تقریبا ساڑھے سات گھنٹے فرق اور مصالحت کاروں کی ثالثی کی بدولت ایران میں یہ یہ دستخط ٹرمپ کی سالگرہ کے ایک روز بعد ہوئے۔ طنزیہ انداز میں مسکراہتے ہوئے ان سفارتکار نے کہا کہ امریکا میں بھی یہ عمل اس ’’ نحس‘‘ سالگرہ کے آخری گھنٹوں میں انجام پایا۔
ایک اور ذرائع نے کہا کہ ثالثوں نے ایرانی حکام سے کہا تھا کہ اگر وہ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اس امن عمل کو ثبوتاژ کرسکتا ہے تو پھر معاملہ ایک روز التوا کا شکار کرکے تل ابیب کو موقع ہی نہیں دیا جانا چاہیے کہ وہ مزید ایسے اقدامات کرے جن سے امن عمل میں دشواری ہو، چونکہ امریکا اور ایران دونوں ہی تقریبا تمام امور پر اتفاق کرچکے تھے اس لیے نہ صرف ڈیل پر اتفاق کااعلان کیا گیا بلکہ الیکٹرانک دستخط بھی کردیے گئے، اس طرح صدر ٹرمپ کی سالگرہ بھی یادگار ہوگئی اور ایران کا قومی وقار بھی قائم رہا۔
