یورینیم افزودگی کی راہ: اس 30 سالہ شہری جوہری فریم ورک میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان 2 سالہ فیزیبلٹی اسٹڈی شامل ہے۔ اگر اسے تجارتی طور پر فائدہ مند سمجھا گیا، تو یہ معاہدہ امریکی اداروں کے لیے سعودی سر زمین پر امریکی نگرانی و تحفظ میں یورینیم افزودگی کے پلانٹس قائم کرنے کا راستہ کھول دے گا۔
"گولڈ اسٹینڈرڈ” کی عدم موجودگی: امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے جوہری معاہدے کے برعکس، اس معاہدے میں "گولڈ اسٹینڈرڈ” کی شرط شامل نہیں۔ ہے، جو میزبان ملک کو مقامی سطح پر یورینیم افزودہ کرنے یا استعمال شدہ ایندھن کو دوبارہ پروسیس کرنے سے واضح طور پر روکتی ہے۔
آئی اے ای اے (IAEA) کے اضافی پروٹوکول کی منسوخی: اس معاہدے میں سعودی عرب کے لیے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ‘اضافی پروٹوکول’ کو اپنا نا لازمی نہیں قرار دیا گیا—جو کہ اقوام متحدہ کے انسپکٹرز کو غیر اعلانیہ تنصیبات کا اچانک اور تفصیلی معائنہ کرنے کی اجازت دینے کا ایک معیاری طریقہ کار ہے۔ اس کے بجائے، معائنے کے پیرامیٹرز واشنگٹن اور ریاض کے درمیان دوطرفہ طور پر طے کیے جانے کا امکان ہے۔
امریکی انتظامیہ: اس کا مؤقف ہے کہ امریکی شمولیت سعودی عرب کے ایٹمی شعبے کو امریکی ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی اثر و رسوخ سے جوڑے رکھے گی، جس سے روس اور چین کے راستے بند ہوں گے اور امریکی توانائی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا۔
عدم پھیلاؤ کے ماہرین اور قانون ساز: ان کا کہنا ہے کہ معیاری آئی اے ای اے (IAEA) حفاظتی تدابیر کے بغیر مقامی سطح پر افزودگی، ممکنہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی راہ میں حائل تکنیکی رکاوٹوں کو کم کرتی ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
سعودی حکام: ان کا مؤقف ہے کہ پرامن توانائی کے شعبے میں تنوع لانے اور اپنے بھرپور قدرتی یورینیم کے ذخائر کو استعمال میں لانے کے لیے مقامی افزودگی انتہائی ضروری ہے۔
کانگریس کا جائزہ: انتظامیہ جلد ہی اس 123 معاہدے کو کیپٹل ہل (امریکی کانگریس) میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اگرچہ 123 معاہدے کو نافذ العمل کرنے کے لیے کانگریس کی رسمی منظوری ضروری نہیں ہے، تاہم قانون ساز اسے روکنے یا اس میں ترمیم کرنے کے لیے نا منظوری کی قرارداد پیش کر سکتے ہیں۔

