پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس اور قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی ناقص کارکردگی کی ذمہ داری کپتان بابر اعظم اور ہیڈ کوچ سرفراز احمد پر ڈال دی ہے۔
عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ سلیکشن کمیٹی 17 رکنی اسکواڈ منتخب کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، تاہم دورے کے دوران مطلوبہ ٹیم کمبی نیشن اور پلیئنگ الیون تشکیل دینا کپتان اور کوچ کی ذمہ داری تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بابر اعظم اور سرفراز احمد سے ٹیم کمبی نیشن کے حوالے سے بات بھی کی تھی۔
ان کے مطابق اگر کوچ اور کپتان بروقت فیصلے نہیں کر پاتے تو کسی نہ کسی کو ایکشن لینا پڑتا ہے۔ عاقب نے کہا کہ پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف مقابلہ کرنے میں ناکامی پر دنیا بھر میں تنقید ہو رہی ہے، اس لیے ٹیم میں تبدیلیاں ضروری ہوئیں۔
پاکستان نے تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے پہلے دونوں میچز بھاری مارجن سے ہارے۔ پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دی، جبکہ لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انگلینڈ نے سیریز میں 2-0 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کرلی۔
دوسرے ٹیسٹ کے بعد پی سی بی نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سرفراز احمد کو ریڈ بال ہیڈ کوچ کے عہدے سے ہٹا دیا، جبکہ سات کھلاڑیوں کو بھی اسکواڈ سے ریلیز کردیا۔ ان کی جگہ وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن نے ٹیسٹ ٹیم کی ذمہ داری سنبھالی۔
عاقب جاوید نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کی ذمہ داری صرف ایک شخص پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ ان کے مطابق قومی کرکٹ میں اصل مسئلہ کھلاڑیوں کی مسلسل ترقی اور معیار کا بھی ہے، جس پر طویل المدتی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اہم: عاقب جاوید کا مؤقف بنیادی طور پر ٹیم کمبی نیشن اور پلیئنگ الیون کے فیصلوں سے متعلق ہے؛ انہوں نے سلیکشن کمیٹی کی جانب سے منتخب کیے گئے اسکواڈ کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

