پرتگال کے صدر انتونیو ژوزے سیگورو نے عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے والے لباس پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔ مقامی میڈیا میں اس قانون کو ’’برقع قانون‘‘ کہا جا رہا ہے، جبکہ قانون میں براہِ راست برقع یا نقاب کا نام لینے کے بجائے ایسے لباس پر پابندی عائد کی گئی ہے جو چہرے کو چھپانے یا شناخت میں رکاوٹ بننے کے لیے استعمال ہوں۔
قانون کے تحت عوامی سڑکوں، عوام کے لیے کھلی جگہوں، سرکاری خدمات کی عمارتوں، کھیلوں کی تقریبات اور مظاہروں سمیت مختلف عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے والے لباس کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ یہ قانون 23 ستمبر 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
خلاف ورزی پر غفلت کی صورت میں 150 سے 750 یورو جبکہ جان بوجھ کر خلاف ورزی کرنے پر 400 سے 3,000 یورو تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
تاہم قانون میں متعدد استثنیٰ بھی رکھے گئے ہیں۔ صحت، پیشہ ورانہ کام، فنون، تفریح یا اشتہاری سرگرمیوں، موسمی حالات اور بعض سکیورٹی وجوہات کی بنا پر چہرہ ڈھانپنے کی اجازت ہوگی۔ ہوائی جہازوں، سفارتی و قونصلر مقامات اور عبادت گاہوں میں بھی یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی۔
قانون کے تحت کسی شخص کو جنس، مذہب، عمر یا اصل کی بنیاد پر چہرہ ڈھانپنے پر مجبور کرنا بھی جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر دو سال تک قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ قانون کا مقصد عوامی مقامات پر شناخت اور سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ دوسری جانب بائیں بازو کی جماعتوں اور بعض حقوقِ انسانی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ قانون سے مسلم خواتین خاص طور پر متاثر ہوں گی اور اس سے اسلاموفوبیا کو تقویت مل سکتی ہے۔
اہم وضاحت: یہ پابندی صرف مذہبی لباس کے نام پر نہیں بلکہ عمومی طور پر چہرہ چھپانے والے لباس پر عائد کی گئی ہے؛ اس لیے عام حجاب، جس میں چہرہ کھلا رہتا ہے، اس قانون کے دائرے میں نہیں آتا۔

