رومانیہ کا پاکستان کیساتھ اسلام آباد (ملک منظور احمد)رومانیہ کے یوم دفاع کے موقع پر اسلام آباد میں رومانیہ کے سفیر سٹوئنیسکو اور رومانیہ کے دفاعی اتاشی کی جانب سے ایک بڑا استقبالیہ دیا گیا جس کے مہمان خصوصی ڈپٹی ائیر چیف مارشل شکیل غضنفر تھے اس تقریب میں یورپی ممالک اور دیگر ممالک کے سفیروں دفاعی اور اعلی سول فوجی حکام ارکان پارلیمنٹ اور دیگر اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس موقع پر مہمانوں کا استقبال رومانیہ کے سفیر نے خود کیا اس موقع پر سفیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا رومانیہ نے 2035 تک مجموعی قومی پیداوار کا ساڑھے تین فیصد براہِ راست دفاعی اخراجات جبکہ ڈیڑھ فیصد دفاع اور سلامتی سے متعلق دیگر اخراجات کے لیے مختص کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ رومانیہ نے مسلح افواج کو جدید بنانے، فضائی اور میزائل دفاعی نظام کو مضبوط کرنے، جنگی طیاروں کی صلاحیت بڑھانے، بحری و بری افواج کو جدید سازوسامان فراہم کرنے اور دفاعی صنعت کو فروغ دینے کو اپنی اہم ترجیحات قرار دیا ہے۔ رومانیہ کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے باعث بحیرہ اسود کے خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، جبکہ 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران رومانیہ کی فضائی حدود میں بلااجازت ڈرون داخل ہونے کے واقعات گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تین گنا بڑھ گئے ہیں۔رومانیہ کے قومی دن کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رومانیہ کے سفارتی نمائندے نے کہا کہ ملک اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ یورپی اتحادیوں اور نیٹو کے اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے بھی پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ رومانیہ اور پاکستان کے درمیان فوجی تعاون میں حالیہ عرصے کے دوران مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک باہمی شراکت داری کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ فروری میں اسلام آباد میں مشترکہ فوجی کمیٹی کا چوتھا اجلاس منعقد ہوا، جس میں دفاعی تعاون کے مختلف پہلوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں مشترکہ انسدادِ دہشت گردی تربیت، فضائی افواج کے تربیتی کورسز، فوجی تعلیم کے شعبے میں تجربات کا تبادلہ، مشترکہ بحری تربیت اور دفاعی صنعت میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ بحیرہ اسود اور جنوبی ایشیا کی سکیورٹی صورتحال سمیت اہم بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔رومانیہ کے نمائندے نے اعتماد ظاہر کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت مستقبل میں عملی اقدامات کی صورت اختیار کرے گی، جس سے دفاعی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں، پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانیوں کو بھی سراہا۔رومانیہ کے مطابق نیٹو اور یورپی یونین کے رکن کی حیثیت سے وہ یورپ اور شمالی امریکا کے درمیان مضبوط تعلقات کو اتحادی سلامتی اور استحکام کی بنیادی ضمانت سمجھتا ہے۔ رومانیہ نے کہا کہ اتحادی ممالک کے درمیان طویل المدتی تعاون نے یورپ میں امن کے قیام اور جمہوری نظام کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔خطاب میں کہا گیا کہ روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی اور نیٹو کے 2022 کے تزویراتی تصور میں روس کو اتحاد کی سلامتی کے لیے سب سے اہم اور براہِ راست خطرہ قرار دیے جانے کے بعد یورپی ممالک نے اپنی مسلح افواج کے سازوسامان اور دفاعی نظام کو جدید بنانے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے۔رومانیہ نے 2025 میں ہیگ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس میں اتحادی ممالک کی جانب سے کیے گئے وعدوں کے تناظر میں 2035 تک دفاع پر براہِ راست مجموعی قومی پیداوار کا ساڑھے تین فیصد خرچ کرنے، جبکہ دفاع اور سلامتی سے متعلق دیگر اخراجات کے لیے مزید ڈیڑھ فیصد مختص کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔رومانیہ کے مطابق یورپی یونین کے دفاعی تیاریوں سے متعلق منصوبے کے تحت مالی معاونت بھی دفاعی اخراجات میں اضافے اور ملکی دفاعی صنعت کی ترقی کے لیے اہم موقع فراہم کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں یورپی یونین کے دفاعی پروگرام سکیورٹی ایکشن فار یورپ کے تحت رومانیہ کو 16.68 ارب یورو مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم سے دفاعی سازوسامان کی خریداری کے منصوبوں میں تیزی لانے اور دفاعی شعبے میں صنعتی تعاون کے منصوبوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ رومانیہ کی مسلح افواج کو جدید بنانا قومی تزویراتی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے فضائی اور میزائل دفاع، جنگی ہوا بازی، بری اور بحری افواج کی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ بغیر پائلٹ طیاروں اور ڈرون مخالف نظاموں سمیت جدید ٹیکنالوجی کو دفاعی ڈھانچے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ فوجی تنصیبات کو جدید بنانے، رسد کی صلاحیت بہتر کرنے اور قومی دفاعی صنعت کی ترقی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔رومانیہ کے نمائندے نے بحیرہ اسود کے خطے کو یورپی اور بحرِ اوقیانوس کے دفاعی نظام کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے 2008 میں جارجیا پر حملے، 2014 میں یوکرین کے علاقے کریمیا کے الحاق اور 2022 میں یوکرین کے خلاف جنگ کے بعد اس خطے کی تزویراتی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2026 میں روس نے رومانیہ کی سرحدوں کے قریب دریائے ڈینیوب کے کنارے واقع یوکرینی بندرگاہوں پر حملے جاری رکھے، جن کے نتیجے میں رومانیہ کی فضائی حدود میں بھی واقعات پیش آئے۔ ان کے مطابق 2026 کے پہلے نو ماہ میں فضائی حدود میں بلااجازت ڈرون داخل ہونے کے واقعات گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تین گنا بڑھ گئے، جبکہ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ رومانیہ کی فضائیہ نے ایسے چار ڈرون مار گرائے۔رومانیہ کے نمائندے نے کہا کہ فضائی اور بحری ڈرونز کے واقعات، سائبر حملوں اور غلط معلومات پھیلانے کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اتحادی ممالک کی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کے رکن کی حیثیت سے رومانیہ اجتماعی دفاع، مثر دفاعی حکمت عملی اور اتحادی ممالک کی سلامتی کو مضبوط بنانے کے اقدامات میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ رومانیہ یورپی یونین کی مشترکہ سلامتی اور دفاعی پالیسی کے تحت مختلف فوجی مشنز اور کارروائیوں میں بھی حصہ لے رہا ہے۔ مشرقی ہمسائیگی اور مغربی بلقان کے خطے میں امن و استحکام رومانیہ کی اہم ترجیحات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رومانیہ چوتھی مرتبہ وسطی افریقی جمہوریہ میں یورپی یونین کے فوجی تربیتی مشن کی قیادت کر رہا ہے۔رومانیہ نے مالدووا کی یورپی یونین میں شمولیت کے ہدف کی بھی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ مالدووا کو سلامتی کے متعدد چیلنجز درپیش ہیں، جن میں روس کی جانب سے عدم استحکام پیدا کرنے کی مبینہ کوششیں بھی شامل ہیں۔ رومانیہ کے مطابق مالدووا یورپی خاندان کا حصہ ہے اور وہ 2030 تک اس کی یورپی یونین میں شمولیت کے ہدف کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔یوکرین کے حوالے سے رومانیہ نے کہا کہ وہ کیف کو مختلف شعبوں میں معاونت فراہم کرتے ہوئے اس کی سلامتی مضبوط بنانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ رومانیہ یوکرین کے دفاعی رابطہ گروپ اور اس کے تحت قائم صلاحیتی اتحادوں کی سرگرمیوں میں حصہ لیتا رہے گا۔ اس کے علاوہ یورپی یونین کے یوکرینی مسلح افواج کی تربیت سے متعلق مشن کے تحت یوکرینی فوجی اہلکاروں کو تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔پاکستان اور رومانیہ کے دفاعی تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون گزشتہ برسوں میں مسلسل ترقی کرتا رہا ہے۔ مشترکہ فوجی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی بات چیت سے دونوں ممالک کو تربیت، دفاعی تعلیم، انسدادِ دہشت گردی اور دفاعی صنعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے نئے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ رومانیہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں بھی مسلسل حصہ لیتا رہا ہے اور اقوامِ متحدہ کے بھارت اور پاکستان میں فوجی مبصرین کے گروپ کے لیے افسران بطور فوجی مبصر فراہم کرتا ہے۔خطاب کے اختتام پر رومانیہ کے نمائندے نے پاکستان کی جانب سے علاقائی امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کو سراہتے ہوئے پاکستانی فوجی اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانیوں اور بین الاقوامی امن، انسانی امداد اور دیگر کارروائیوں میں ان کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات موجود ہیں، جنہیں عملی شکل دے کر دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو نئی مضبوطی فراہم کی جا سکتی ہے۔
بریکنگ نیوز
- لاہور:ریلوے کوارٹرز کے متاثرین اپنے مطالبات کے حق میں ہیڈ کوارٹر آفس لاہور میں احتجاج کر رہے ہیں۔
- یوکرین کے روسی ٹیکنالوجی کمپنی کے ڈیٹا سینٹرز پر حملے، لاکھوں افراد کی رقم تک رسائی متاثر
- ٹرمپ کو قتل کی دھمکیاں دینے والا امریکی شہری گرفتار، مقدمہ درج
- وزیراعلیٰ سندھ کی کابینہ کو دورہ چین پر بریفنگ، سرمایہ کاری کے 34 معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں
- لاہور:کسان اپنے کھیت میں فصل اگانے سے پہلے ٹریکٹر کی مدد سے سطح ہموار کر رہا ہے۔
- سرگودہا ‘ تیزرفتار کار بے قابو ہو کر نہر میںگرگئی ،ڈرائیور جاں بحق
- پاک امریکہ معدنیات ‘ کان کنی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
- فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں ورلڈ پولیو ڈے پر تقریب کا انعقاد
- شوہر کے چھوٹے سے تحفے نے بیوی کو کروڑ پتی بنا دیا
- ہائی وولٹیج تاروں سے کرنٹ لگنے سے 2خواتین جاں بحق
- سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، پاکستان کا فضائی نظام متاثر
- غلام اسحاق خان کی بیسویں برسی 27اکتوبر کو منائی جائے گی
- سائبر کرائم متاثرین کیلئے بڑی سہولت پولیس ہیلپ لائن 15کو این سی سی آئی اے سے منسلک کر دیا گیا
- ملک میں شدید سردی کا دورانیہ 50 روز تک محدود ہونے کا انکشاف
- اسلام آباد:وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کھاد کی قیمت اور سپلائی کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔
- نمایاں پوزیشن حاصل کرنیوالے طلباء کے اعزاز میں کیش پرائز ایوارڈ تقریب
- فلیٹس کی الاٹمنٹ پالیسی تیار، فیز تھری بھی مکمل کیا جائیگا:بیرسٹر عقیل
- ڈیلاس، امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعیدشیخ پاک امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026ء سے خطاب کر رہے ہیں۔
- فیس بک، انسٹا پرگالی دینے والے کو3 کروڑ 80لاکھ تک جرمانے کی وارننگ
- دوطرفہ تعلقات سے متعلق شاہ سلمان کو امیر قطر کا تحریری پیغام موصول
