اسلام آباد (عادل عباسی)وفاقی دارالحکومت کی تاریخی اخبار مارکیٹ کی بندش کا معاملہ قومی اسمبلی میں پہنچ گیا، سابق وزیراعظم اور رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ایوان میں معاملہ اٹھاتے ہوئے مارکیٹ کو سیل کرنے کی وجوہات پر سوالات اٹھا دیے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 1982 سے قائم اخبار مارکیٹ کو گزشتہ ہفتے سیل کیے جانے کے باعث تین روز تک پورے اسلام آباد میں اخبارات کی ترسیل ممکن نہ ہو سکی، جبکہ مارکیٹ کے ساتھ واقع ایسے خالی پلاٹ کے گرانڈ رینٹ کی عدم ادائیگی کو بندش کی وجہ بتایا گیا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اخبار مارکیٹ نے اسے کبھی الاٹ ہی نہیں کرایا۔قومی اسمبلی اجلاس کے دوران راجہ پرویز اشرف نے اخبار مارکیٹ کی بندش کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں اخبار مارکیٹ 1982 سے قائم ہے اور آبپارہ کے قریب اس کی عمارت سی ڈی اے نے خود تعمیر کرکے دی تھی۔ یہ مارکیٹ طویل عرصے سے اخبارات کی ترسیل اور اس سے وابستہ افراد کی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے، تاہم گزشتہ ہفتے اسے سیل کیے جانے سے اخبارات کی تقسیم کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔راجہ پرویز اشرف نے ایوان کو بتایا کہ مارکیٹ کی بندش کے نتیجے میں تین روز تک پورے شہر میں اخبارات کی ترسیل نہ ہو سکی، جس سے صحافتی سرگرمیوں اور اخبارات کی تقسیم کے نظام میں خلل پیدا ہوا۔ انہوں نے اس معاملے کو محض ایک عمارت کی بندش قرار دینے کے بجائے اخبارات کی ترسیل سے جڑے اہم مسئلے کے طور پر اٹھاتے ہوئے متعلقہ حکام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔ذرائع کے مطابق معاملے کا اہم پہلو مارکیٹ کے ساتھ واقع خالی پلاٹ کے گرانڈ رینٹ سے متعلق ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے ایوان میں مقف اختیار کیا کہ مذکورہ پلاٹ سی ڈی اے کی ملکیت ہے اور اخبار مارکیٹ نے اسے الاٹ نہیں کرایا، اس کے باوجود پلاٹ کا گرانڈ رینٹ ادا نہ کرنے کی بنیاد پر مارکیٹ کو سیل کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پلاٹ اخبار مارکیٹ کو الاٹ ہی نہیں کیا گیا تو اس کے گرانڈ رینٹ کی ادائیگی کا مطالبہ کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔راجہ پرویز اشرف نے مزید بتایا کہ متعلقہ اتھارٹی سے رابطہ کرنے پر انہیں کہا گیا کہ مارکیٹ آٹھ روز کے لیے کھول دی جائے گی، تاہم اس کے بعد اسے دوبارہ سیل کر دیا جائے گا۔ اس صورتحال نے مارکیٹ کی مستقل بحالی اور اخبارات کی ترسیل کے مستقبل کے حوالے سے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ معاملے کا مستقل حل نکالنے کے بجائے عارضی طور پر مارکیٹ کھولنے اور پھر دوبارہ سیل کرنے کی تجویز پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔سابق وزیراعظم نے مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی کے ایوان سے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی جائیں تاکہ اخبار مارکیٹ کی بندش کا مسئلہ حل ہو اور اخبارات کی ترسیل میں دوبارہ تعطل پیدا نہ ہو۔ انہوں نے معاملے کے حل کے لیے ایوان کی مداخلت کی ضرورت پر زور دیا۔راجہ پرویز اشرف کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے رکن قومی اسمبلی جنید انوار کو ہدایت کی کہ وہ اخبار مارکیٹ کی بندش کے معاملے کو دیکھیں اور اس حوالے سے ضروری اقدامات کریں۔ قومی اسمبلی میں معاملہ اٹھائے جانے کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہو گئی ہے کہ سی ڈی اے کی جانب سے مارکیٹ سیل کرنے کی وجوہات، پلاٹ کے گرانڈ رینٹ سے متعلق مقف اور مارکیٹ کی مستقل بحالی کے لیے کیا پیش رفت ہوتی ہے۔پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور صاف تواائی کے مستقبل کے لیے اسٹارچارج اور وٹین کے درمیان اہم اشتراک کا اعلان کر دیا گیا، مگر سوال یہ ہے کہ اس اشتراک سے پاکستان کے توانائی بحران اور مہنگی بجلی کے مسائل پر قابو پانے میں کتنی مدد ملے گی؟ اسلام آباد ( حبہ عباسی)عالمی کمپنی اسٹارچارج اور پاکستانی انفراسٹرکچر کمپنی وٹین نے الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ نیٹ ورک، بیٹری اسٹوریج، قابلِ تجدید توانائی اور جدید انرجی مینجمنٹ سسٹمز کے شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ وزیرِ مملکت برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اس اقدام کو سراہا، جبکہ اسٹارچارج پاکستا
