چکوال(بیورپورٹ)بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں ایک دلچسپ اور کسی حد تک متضاد صورتحال کی عکاسی کر رہی ہیں، جہاں ایک طرف پنجاب حکومت انتظامی معاملات میں سرگرم دکھائی دیتی ہے، تو دوسری جانب مسلم لیگ (ن)کے پارلیمنٹیرینز کی سیاسی سرگرمیاں تاحال نمایاں نہیں ہو سکیں۔ بلدیاتی انتخابات مقامی سطح پر سیاسی قوت
کے اظہار، عوامی رابطوں کی بحالی اور آئندہ سیاسی صف بندی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود حکمران جماعت کے منتخب نمائندوں کی جانب سے وہ سرگرمی نظر نہیں آ رہی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اس کے برعکس بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند امیدواروں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور عوامی رابطوں کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔چند روز قبل مسلم لیگ (ن)کے ضلعی صدر کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں بھی پارلیمنٹیرینز کو بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے فعال کردار ادا کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود عملی سطح پر کوئی نمایاں تبدیلی سامنے نہ آنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پارٹی کی انتخابی حکمتِ عملی ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب پنجاب حکومت یا مسلم لیگ (ن)کی قیادت کی جانب سے پارلیمنٹیرینز کو انتخابی تیاریوں کے لیے کوئی واضح ہدایات اور لائحہ عمل بھی دکھائی نہیں دیتا، جس سے سیاسی سرگرمیوں میں عدم توازن محسوس ہوتا ہے۔انتخابات کے انعقاد کے معاملے پر حکومتِ پنجاب نے الیکشن کمیشن سے دسمبر کے بجائے اپریل میں انتخابات کرانے کی درخواست کی تھی، تاہم یہ درخواست مسترد کر دی گئی اور دسمبر میں ہی انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور متعلقہ انتخابی عملے کی تعیناتی کے لیے فہرستیں طلب کیں، جس پر حکومتِ پنجاب نے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو ضروری احکامات جاری کر دیے۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابی عمل کے انتظامی تقاضوں پر کام جاری ہے، لیکن سیاسی تیاریوں کے حوالے سے اب بھی کئی پہلو غیر واضح ہیں۔موجودہ صورتحال میں بنیادی سوال یہی ہے کہ جب انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ ہو چکا ہے اور انتظامی مشینری بھی حرکت میں آ رہی ہے تو سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندے اپنی سرگرمیوں میں تیزی کیوں نہیں لا رہے؟ مسلم لیگ (ن)کے لیے یہ مرحلہ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی صرف انتظامی تیاریوں سے نہیں بلکہ مؤثر عوامی رابطوں، واضح سیاسی حکمتِ عملی اور بروقت انتخابی مہم سے بھی وابستہ ہوتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی قیادت اپنے پارلیمنٹیرینز کو متحرک کرنے کے لیے کب عملی اقدامات کرتی ہے اور بلدیاتی انتخابات کی سیاسی بساط پر اگلی چال کس کی جانب سے چلائی جاتی ہے۔
