راولپنڈی(شاہد ملک سے) کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ (سی اینڈ ڈبلیو) پنجاب نے ضلع راولپنڈی میں 143 سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو مکمل یا جزوی طور پر خطرناک قرار دے دیا ہے جس میں راولپنڈی شہر کے گورنمنٹ پہلوی ہائی سکول کی مخدوش عمارت کو مکمل طور خطرناک قرار دیتے ہوئے خالی کرالیا گیا مخدوش اور خطرناک عمارتوں کا انکشاف خصوصی سیفٹی آڈٹ کے دوران ہوا پشاور میں نجی سکول کی عمارت گرنے کے سانحہ کے بعد پنجاب حکومت نے راولپنڈی سمیت پنجاب بھر میں تمام سکولوں کے سروے اور عمارتوں کی جانچ پڑتال کا حکم دیا تھا جس پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی راولپنڈی نے 47 سیفٹی آڈٹ ٹیمیں تشکیل دی تھیں جنہوں نے ضلع بھر میں نجی سکولوں کی عمارتوں کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے تاہم این ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ نے راولپنڈی میں بارانی یونیورسٹی کے قریب واقع گورنمنٹ پہلوی ہائی سکول فار بوائز کی عمارت کو خستہ حالی اور مخدوش ہونے پر قرار دے دیا جس پر عمارت فوری طور پر خالی کروا کے یہاں زیر تعلیم طلبا کو عارضی طور پر زرعی فارم سکول میں منتقل کردیا گیا ہے اسی طرح ضلع بھر میں مجموعی طور پر 143 ایسے سکولوں کی عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے 20 سے 80 فیصد تک حصے انتہائی خستہ حال ہونے کے باعث خطرناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں جو کسی بھی وقت کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتے ہیں اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی راولپنڈی کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) یاسین بلوچ نے بتایا کہ سامنے آنے والی 143 عمارتوں میں سے بیشتر جزوی طور پر خطرناک قرار دی گئی ہیں کیونکہ بیشتر عمارتوں میں ایک بلاک، چند کمرے یا بانڈری وال سمیت کوئی نہ کوئی حصہ خستہ حال ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ جہاں صورتحال معمولی نوعیت کی ہے وہاں پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کردیا گیا جبکہ زیادہ خطرناک حصوں کی دوبارہ تعمیر کے لئے پنجاب حکومت کو سفارشات بھجوائی گئی ہیں اور فنڈز کا اجرا ہوتے ہی یہاں پر تعمیر نو کا کام شروع کردیا جائے گا تاہم کسی بھی عمارت میں خطرناک قرار دئیے گئے حصے کو خالی کرالیا گیا اور ان سکولوں میں متبادل جگہوں پر تدریس کا سلسلہ جاری ہے انہوں نے کہا صوبائی حکومت کی ہدایات پر نجی تعلیمی اداروں کا سیفٹی آڈٹ بھی شروع کردیا گیا ہے جس کے لئے 47 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو رواں ہفتے سیفٹی آڈٹ مکمل کرنے کے بعد رپورٹ پیش کریں گی۔
