مندرہ (بیورو رپورٹ)سکھو کے رہائشی خرم شیراز نے ایف آئی آر میں مقف اختیار کیا ہے کہ اس کے کم عمر بیٹے محمد اسماعیل، طالب علم پنجاب کالج گوجرخان، کو احسن قریشی اور اس کے بھائی محسن قریشی نے پتنگیں دلوانے کے بہانے مبینہ طور پر اپنے ساتھ لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا، ایک کمرے میں محبوس رکھا اور برہنہ کرکے ویڈیو بنائی، جبکہ کسی کو بتانے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ والد کے مطابق بعدازاں ویڈیو کے اسکرین شاٹس مختلف افراد کو بھیجے گئے اور ریحان ظفر نے بھی مبینہ طور پر انہیں استعمال کرتے ہوئے بیٹے کو بلیک میل کیا اور نازیبا مطالبات کیے۔ سوشل میڈیا پر معاملہ وائرل ہونے کے بعد تھانہ مندرہ پولیس نے پولیس اہلکار اور دو بھائیوں کے خلاف مقدمہ نمبر 319/26 درج کر لیا۔ واقعے پر عوامی حلقوں نے شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کا بنیادی فریضہ شہریوں کی جان، عزت اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے، لیکن جب کسی پولیس اہلکار کا نام ہی ایسے سنگین مقدمے میں سامنے آئے تو معاملہ محض ایک ایف آئی آر تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے محکمے کی ساکھ اور عوامی اعتماد کا امتحان بن جاتا ہے۔ شہریوں نے سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا سے مطالبہ کیا ہے کہ کیس کی غیر معمولی سنگینی کے پیش نظر اسے ٹیسٹنگ کیس کے طور پر لیا جائے، تمام پہلوں سے شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، نامزد افراد کے کردار کا تعین کیا جائے اور الزامات ثابت ہونے پر سخت قانونی و محکمانہ کارروائی یقینی بنائی جائے۔ عوامی حلقوں نے زور دیا کہ معاملے کو کسی دبا یا مبینہ اثرورسوخ کی نذر نہ ہونے دیا جائے، متاثرہ طالب علم کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اس کی برہنہ ویڈیو یا تصاویر کی مزید ترسیل روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ اتنے سنگین الزامات کے حامل مقدمے میں کسی ممکنہ صلح کو تحقیقات کا متبادل نہیں بننا چاہیے، اگر فریقین میں صلح ہو بھی جائے تو اس سے حقائق جاننے اور قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ضرورت ختم نہیں ہو جاتی۔ تاہم، اگر تحقیقات میں کسی جانب سے دانستہ جھوٹے الزامات یا شواہد میں جعل سازی ثابت ہو تو متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ عوامی حلقوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں شفاف تحقیقات اور قانون کی یکساں عمل داری ہی پولیس پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے کا راستہ ہے۔
