راولپنڈی(خصوصی رپورٹر)فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں ورلڈ پولیو ڈے کے سلسلے میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ دنیا بھر میں ہر سال 24 اکتوبر کو منائے جانے والے ورلڈ پولیو ڈے کے حوالے سے منعقدہ اس تقریب کا موضوع شکریہ فرنٹ لائن ورکرز تھا۔ تقریب میں محکمہ صحت کے حکام، یونیورسٹی انتظامیہ، طلبہ اور ڈے کیئر بچوں نے شرکت کی اور بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے اور پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کی کوششوں میں فرنٹ لائن ورکرز کی اہم خدمات کو سراہا۔ طلبہ اور ڈے کیئر بچوں نے تقریب کے موضوع کے تحت فن پارے تیار کرکے فرنٹ لائن پولیو ورکرز کے لیے اپنی قدر دانی کا اظہار کیا۔ ان فن پاروں کے ذریعے ان کارکنوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا جو گھر گھر اور مختلف آبادیوں میں جا کر بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلانے کو یقینی بناتے ہیں۔ اس سرگرمی نے نوجوانوں کو فرنٹ لائن ورکرز کی خدمات کو تسلیم کرنے اور پولیو فری پاکستان کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کرنے کا تخلیقی موقع فراہم کیا۔ وزیراعلی پنجاب کی فوکل پرسن برائے پولیو عظمی کاردار نے فرنٹ لائن ورکرز کی لگن اور ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بچوں کی صحت کے تحفظ میں ان کی کوششوں کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کارکنوں کی محنت، والدین کے اعتماد اور کمیونٹی کے تعاون سے ہر بچے کو پولیو سے محفوظ بنانے میں مدد ملتی ہے۔ پنجاب انسداد پولیو پروگرام سربراہ خالد پرویز نے مسلسل نگرانی، مثر ویکسینیشن مہمات اور کمیونٹی کی شمولیت کے ذریعے پنجاب میں پولیو وائرس کے خلاف حاصل ہونے والی پیش رفت کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وائرس کی دوبارہ منتقلی روکنے کے لیے ہر مہم کے دوران ہر بچے کو پولیو سے بچا کے قطرے پلانا ضروری ہے۔ انہوں نے پنجاب کے 11 منتخب اضلاع میں 2 سے 8 نومبر تک جاری رہنے والی آئندہ انسدادِ پولیو مہم کا ذکر کرتے ہوئے والدین پر زور دیا کہ وہ پانچ سال سے کم عمر اپنے تمام بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے ضرور پلوائیں۔ یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر بشری مرزا نے والدین اور کمیونٹی میں آگاہی پیدا کرنے میں تعلیمی اداروں اور نوجوانوں کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے طلبہ کی شرکت اور فرنٹ لائن ورکرز کی خدمات کو تسلیم کرنے اور پولیو فری مستقبل کے مشترکہ مقصد کو فروغ دینے کے لئے ان کی تخلیقی کوششوں کو سراہا محکمہ صحت راولپنڈی کے سی ای او ڈاکٹر احسان غنی نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ صحت کے حکام، فرنٹ لائن ورکرز، والدین، تعلیمی اداروں اور کمیونٹیز کے درمیان مسلسل تعاون کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے ویکسینیشن اور اجتماعی ذمہ داری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
