اسلام آباد ( نامہ نگار خصوصی) وزیر اعظم شہباز شریف نے پاک چین دوستی ہسپتال کا افتتاح کردیا۔
اس کے علاوہ ترکیہ کے 103 ویں یوم جمہوریہ پر ترک صدر اردوان، حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ترکیہ ایک دول، دو روحیں ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان چائنا فرینڈشپ ہسپتال کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہسپتال پاک چین دوستی کی لازوال مثال ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ چین نے کورونا وبا کے دوران پاکستان کو یہ ہسپتال تحفے میں دیا تھا، تاہم کورونا کے بعد ہسپتال کی بندش انتہائی افسوسناک اور مجرمانہ غفلت تھی۔شہباز شریف نے اعلان کیا کہ ہسپتال کے تمام اخراجات حکومت پاکستان برداشت کرے گی اور یہاں مریضوں کو مکمل طور پر مفت علاج فراہم کیا جائے گا، اسلام آباد سمیت ملک بھر سے آنے والے مریض اس سہولت سے مستفید ہوسکیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو بہتر علاج کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انڈس ہسپتال کی انتظامیہ نے سالانہ اخراجات اور سرمایہ کاری میں مناسب رعایت دی ہے، جبکہ انڈس ہسپتال غیر منافع بخش بنیادوں پر طبی خدمات فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان چین دوستی ہسپتال کا نام مستقل طور پر برقرار رہے گا۔ صحت کے شعبے میں عوام اور دکھی انسانیت کی خدمت سے بڑھ کر کوئی قومی خدمت نہیں، عوام کی خدمت کرنے والوں کو ہمیشہ دعائیں ملتی رہیں گی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر جیانگ ژی ڈونگ نے کہا کہ پاک چین فرینڈشپ ہسپتال وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی اور سرپرستی کا نتیجہ ہے۔ ہسپتال کو پاک چین فرینڈشپ ہسپتال کا نام دیا جانا قابلِ تحسین ہے۔چینی سفیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کی ہے، سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان کی معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کے اختتام پر پاک چین دوستی زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔ دریں اثناء وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی سلامتی اور مشترکہ دفاع کا عکاس ہے، گزشتہ برس معرکہ حق کے دوران جب پاکستان کے خلاف جارحیت کی گئی تو ترکیہ پاکستان کے ساتھ آن کھڑا ہوا اور کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا، پاکستان اور ترکیہ دو جان ایک قالب ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے 103 ویں یوم جمہوریہ پر ترکیہ کے سفیر کی رہائش گاہ پر عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی، تجارتی تعلیمی ثقافتی اور دفاعی شعبوں میں اشتراک عمل ہے۔آج اسلام اباد میں چاند تاروں کے جھرمٹ میں ہم ترکیہ کا 103 ویں یوم جمہوریہ منا رہے ہیں، پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے ترک صدر اردوان، حکومت اور عوام کو مبارک باد پیش کرتے ہیں، ترکیہ نے غازی مصطفی کمال پاشا اور قائدین کی قیادت مین جمہوریہ قائم کی اور آج ترکیہ دفاعی ٹیکنالوجیز اور دیگر شعبوں میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات پاکستان کے قیام سے بھی قدیم ہیں، تحریک خلافت کے دوران برصغیر کی ماؤں نے اپنے زیورات پیش کیے، دہائیوں بعد جب زلزلے نے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تو ترکیہ پاکستان کی امداد کو آنے والا پہلا ملک تھا۔ان کا کہنا تھا کہ تباہ کن سیلابوں میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، ترک خاتون اول امینے اردوان نے اپنا نیکلس سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے دیا، ترک عوام نے بھی انقرہ، استنبول اور اناطولیہ میں اپنے رہنماؤں کی کال پر پاکستانیوں کے لیے دل کھول دیے۔وزیراعظم نے کہا کہ سو برس قبل کی تحریک خلافت اور زلزلے اور سیلاب پر ترکیہ کی امداد وقت کے ایک ہی لمحے، گزشتہ برس معرکہ حق کے دوران جب پاکستان کے خلاف جارحیت کی گئی تو ترکیہ ہمارے ساتھ آ کھڑا ہوا۔انہوں نے کہا کہ دفاعی، تعلیم، ثقافت اور دفاعی تعاون میں دونوں ممالک کا اشتراک ہے، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی سلامتی اور دفاع کا عکاس ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ جولائی میں استنبول میں میں نے کراچی میں طیب اردوان اکنامک زون کے قیام کا اعلان کیا تھا، پاکستان ترکیہ ایک دل دو روحیں ہیں۔ترکیہ سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اولو نے عشائیے سے خطاب میں کہا کہ تاریخ میں ہمیشہ پاکستان اور ترکیہ کی قومیں اکٹھی رہی ہیں، پاکستان کو چوٹ پر ترکیہ درد محسوس کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف تاریخی تعلقات کو ایک پائیدار اسٹریٹجک شراکت داری میں بدلنا ہے، جس کی ایک شان دار مثال مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ہے، سفیر عرفان نذیر اولو نے اس موقع پر ترک صدر رجپ طیب اردوان کا خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا۔قبل ازیں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے، مہمانوں نے مشترکہ طور پر کیک بھی کاٹا اور عشایے میں خصوصی طور پر موسیقی کا انتظام کیا گیا تھا، جس کو شرکا نے بے حد سراہا۔قبل ازیںوزیرِ اعظم شہبازشریف نے لاہور اور کراچی ائیرپورٹس کی ماسٹر پلانز کے تحت توسیع کی منظوری دے دی جبکہ وزیرِ اعظم شہاز شریف نے ائیرپورٹس پر بین الاقوامی معیار کو مد نظر رکھ کر سہولیات مزید بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستانی ایئرپورٹس پر مسافروں کی سہولت اولین ترجیح بنائی جائے، ہوائی اڈوں پر مسافروں کیلئے بہترین کیٹررز کی خدمات لی جائیں اور کھانے پینے کی معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک کے بڑے شہروں میں ہوائی اڈوں کی توسیع اور ہوائی اڈوں پر مسافروں کو بہترین سفری سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس کو بڑے ائیرپورٹس پر سفری سہولیات کے معیار کو جانچنے کے حوالے سیحال ہی میں بین الاقوامی فرم کے زریعے مکمل کئے گئے سروے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ جار ی اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں وزیرِ اعظم نے لاہور اور کراچی ائیرپورٹس کی ماسٹر پلانز کے تحت توسیع کی منظوری دے دی۔وزیرِ اعظم نے توسیعی منصوبوں کو معینہ مدت میں مکمل کرنے او رتوسیعی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے اور انہیں بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔وزیرِ اعظم نے توسیعی منصوبوں اور مسافروں کی سفری سہولیات کو بہترین بنانے کیلئے اصلاحات کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ شہبازشریف نے کہاکہ ائیر پورٹس پر سفری سہولیات کو بہتر بنانے کیلئے بین الاقوامی شہرت یافتہ اداروں کی خدمات لی جائیں۔ شہبازشریف نے کہاکہ ہوائی اڈوں پر مسافروں کو سہولت فراہم کرنے والے افسران و عملے کو اعلی سروس ڈلیوری کی باقاعدہ تربیت فراہم کی جائے۔ شہبازشریف نے کہاکہ ہوائی اڈوں پر موجود مختلف اداروں کے درمیان روابط کو مزید بہتر بنایا جائے اور مسافروں کی سہولت کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہوائی اڈوں پر مسافروں کیلئے بہترین کیٹررز کی خدمات لی جائیں اور کھانے پینے کی معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا۔اجلاس کو کراچی اور لاہور ائیر پورٹس کے توسیعی منصوبوں کے علاوہ ملک بھر میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے مختلف ہوائی اڈوں کی اپ گریڈیشن و جاری ترقیاتی کاموں پر بریفنگ دی گئی۔
شہباز شریف

