تہران ، واشنگٹن ( نیوز ایجنسیاں) امریکہ نے ایران کو مذاکرات کیلئے خط لکھ دیا۔ ادھر پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے اوپر امریکی ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ ادھر امریکی نیوز وی سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے حملوں کی تیاری کرلی ہے جبکہ سعودی عرب نے ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ جنگ میں جلد بازی نہ کی جائے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں امریکی ایم کیو ون (MQ-1) ڈرون کو روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ویب سائٹ پر جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون کو فورس کے ایرو اسپیس ڈویژن نے ایران کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کے تحت کام کرنے والے جدید فضائی دفاعی نظام کی مدد سے نشانہ بنایا۔یران کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکی نائب صدر نے دوبارہ مذاکرات کیلئے ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کو خط بھیجا ہے ۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکا ایران کے ساتھ امن مذاکرات بحال کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔امریکی اخبار کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سیکرٹری ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل محسن رضائی کو خط لکھا ہے ۔ جے ڈی وینس نے امریکی صدر کی ہدایت پر خط لکھا ہے، خط کا مقصد ایران سے تعطل کا شکار امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنا ہے۔دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے یہ جنگ شروع نہیں کی۔ ایران کے پاس اب بھی میزائل موجود ہیں، تاہم ان کی تعداد پہلے کے مقابلے میں بہت کم رہ گئی ہے۔قبل ازیں سعودی حکام نے ایران کے دورے کے بعد وائٹ ہائوس سے اہم رابطہ کیا ہے جس میں ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ میں جلد بازی نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔امریکی نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیدار نے کہا کہ سعودی حکام نے بتایا کہ ایران کو وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ بمباری پر تشویش ہے۔ سعودی حکام نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے مزید وقت دینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے گریز کرے۔ادھر ایران کے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران معاشی استحکام، عوامی فلاح، قومی اتحاد، پائیدار سکیورٹی اور ملکی مفادات کے تحفظ کو اہم ترجیحات قرار دیا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق یہ ترجیحات صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقرقالیباف، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی سے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران سامنے آئیں۔دوسری جانب امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا و اسرائیل معاہدہ نہ ہونے پر ایران پر ایک ہفتہ طویل فوجی کارروائی کر سکتے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاریوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق وسط مدتی انتخابات کے بعد بھی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران پر ایک ہفتے تک حملے کیے جا سکتے ہیں۔ ممکنہ فوجی کارروائی میں ایرانی قیادت، توانائی کے شعبے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے۔دریں اثناء ایران نے وارننگ دی ہے کہ ایران پر نئے اسرائیلی حملے عالمی عالمی منڈیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا کہ خلیج فارس کے خطے میں اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی عالمی منڈیوں پر تباہ کن اثرات ڈالے گی، جو گیس فراہم کرنے والوں اور صارفین، دونوں کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث ہے۔عباس عراقچی نے کہا کہ ایران سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع دینے کے لئے تیار ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی فوج کے ٹاپ ملٹری پلانر لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سِلویا کو عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے۔ وہ امریکی فوج میں حکمت عملی، منصوبہ بندی اور پالیسی کے شعبے کے سربراہ تھے۔امریکی میڈیا کے مطابق لیفٹننٹ جنرل بریٹ سِلویا کی برطرفی کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 4 تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگئے تاہم جہازوں کی شناخت اور عملے کی صورت حال سے آگاہ نہیں کیا گیا۔بیان میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہش مند جہازوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری اطلاعات اور معلومات پر بھروسا نہ کریں اور اشتعال انگیز کارروائی سے گریز کریں۔ادھر روس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی اور خلیجی خطے میں فوجی کشیدگی روکنے کے لیے نئے سرے سے کوششیں کرنے کا اعلان کیا ہے۔الجزیرہ کے مطابق کریملن کے ترجمان نے کہا کہ اگر ایران اور امریکا درخواست کریں تو روس دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ روس خطے میں فوجی کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے بھی کوششیں کرنا چاہتا ہے۔کریملن کے ترجمان نے کہا کہ اگر ایران کے افزودہ یورینیم کا معاملہ مذاکرات میں رکاوٹ بنا رہا تو روس اسے اپنے ہاں وصول کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ترجمان نے انکشاف کیا کہ ایران کا معاملہ روس اور امریکا کے درمیان رابطوں میں باقاعدگی سے زیرِ بحث آتا ہے اور دونوں اپنے اپنے موقف کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔یاد رہے کہ روس اس سے قبل بھی ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنے ہاں محفوظ رکھنے اور جوہری تنازع کے حل میں مدد دینے کی پیشکش کر چکا ہے۔تاہم اپریل میں روسی حکام نے بتایا تھا کہ امریکا نے ایرانی یورینیم روس منتقل کرنے کی اس کی تجویز مسترد کردی تھی۔روس کی جانب سے جنگ بندی کے لیے فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش پر تاحال امریکا اور ایران نے کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی پر اختلافات تاحال برقرار ہیں جبکہ روس سفارتی رابطوں کے ذریعے تنازع کے حل میں کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کرتا رہا ہے۔
خط

