لاسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے آئندہ انتخابات کو شفاف اور قابل اعتماد بنانے کیلئے انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینے اور پارلیمانی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے انتخابی اصلاحات کے معاملے پر اپوزیشن کو باضابطہ مذاکرات کی دعوت دینے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا کہ آئندہ انتخابات میں شفافیت کے لیے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی جائے گی۔وزیراعظم نے انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹی میں شامل کرنے کی ہدایت کر دی، 20رکنی پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات میں اپوزیشن کے 5ارکان شامل کیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے اپوزیشن سے پارلیمانی کمیٹی کیلئے ارکان کے نام طلب کرنے کی بھی ہدایت کی۔الیکشن اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کیلئے بیرسٹرعقیل ملک نے سینیٹ میں قرارداد پیش کی۔دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت کی دعوت دی ۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر پیپلزپارٹی کے وفد نے سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کے چیمبر میں ملاقات کی ،پیپلزپارٹی کے وفد نے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت کی دعوت دی ۔پیپلزپارٹی کے وفد نے شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو مشترکہ تجاویز مرتب کرنے کا کہا۔ اس موقع پر شیری رحمن نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں کے اعتماد کا حامل انتخابی نظام وضع کرنا پیپلزپارٹی کا مقصد ہے، اپوزیشن جماعتیں انتخابی اصلاحات کمیٹی میں اپنی تجاویز پیش کریں۔ شیری رحمن نے کہاکہ انتخابی عمل پر بار بار اٹھنے والے سوالات پارلیمان کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں، شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ووٹرز کے حقوق کے تحفظ اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہیں۔شیری رحمان نے کہاکہ بلاول بھٹو زرداری کی تجویز پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل انتخابی اصلاحات کمیٹی کے قیام کی قرارداد منظور ہوئی۔ نائب صدر پیپلز پارٹی نے کہاکہ انتخابی اصلاحات کمیٹی اپنی سفارشات منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کرے گی ۔علامہ راجہ ناصر عباس نے انتخابات میں شفافیت مؤثر بنانے کی تجویز سے اتفاق کیا ،ملاقات میں پیپلز پارٹی کے وفد کی قیادت شیری رحمان نے کی ، دیگر ارکان میں نیئر بخاری،ندیم افضل چن اور سینیٹر وقار مہدی شامل تھے ،اپوزیشن وفد میں علامہ راجا ناصر عباس،محمود اچکزئی،نور الحق قادری اور سینیٹر علی ظفر شامل تھے ۔ دریں اثناء سپیکر قومی اسمبلی نے انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے قیام کیلئے وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر، چیئرمین سینیٹ، وفاقی وزیر پارلیمانی امور کو خطوط بھیج دیے۔ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق سپیکر ایاز صادق نے انتخابی اصلاحات سے متعلق کمیٹی کے قیام کیلئے وزیر اعظم شہباز شریف، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، چیئرمین سینیٹ وفاقی وزیر پارلیمانی امور کو خطوط بھیج دیے۔ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق انتخابات اصلاحات کیلئے 30رکنی کمیٹی بنائی جائے گی جس میں 20اراکین قومی اسمبلی اور 10سینیٹرز شامل ہوں گے۔قومی اسمبلی کے اراکین میں 15حکومتی اور 5اپوزیشن اراکین شامل ہوں گے جبکہ چیئرمین سینیٹ کمیٹی کیلئے 10اراکین کے نام بھجوائیں گے جن میں حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان شامل ہوں گے۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے انتخابی اصلاحات کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کی برابر کی نمائندگی کا مطالبہ کردیا۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھاکہ آپ کے 15ہمارے 5، ایسے بیٹھنے سے تو نہ بیٹھنا بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کیلئے حکومت اور اپوزیشن کی نمائندگی برابر ہونی چاہیے، انتخابی اصلاحات غیرجانبدار اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونی چاہئیں۔ان کا کہنا تھاکہ بیرونی انتشار کا پوری قوم مل کر مقابلہ کرتی ہے، اندرونی انتشار ملک کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے، ملک میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے سیاسی رہنماؤں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔بیرسٹرگوہر کا کہنا تھاکہ مولانا فضل الرحمان کی تقریرمیں بعض الفاظ ادا نہ ہوتے تو بہتر تھا،مولاناصاحب کی تقریرکے جواب میں جس طرح حملے کیے گئے وہ بھی نامناسب ہیں، ملک میں تناؤ بہت حد تک پہنچ چکاہے،کشیدگی مزید نہیں بڑھنی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہم ریڈلائن کراس کرنے والے نہیں، ہمارا موقف ہے پاکستان پہلے اور ریاست پہلے، سیاسی قیادت اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریزکرناچاہیے۔خیال رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی دعوت پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)انتخابی اصلاحات کے لیے تعاون پر آمادہ ہوگئی اور باضابطہ جواب چند روز میں دیے جانے کا امکان ہے۔انتخابی اصلاحات کمیٹی 2024کے عام انتخابات، ضمنی انتخابات، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر انتخابات کا جائزہ لے گی، اگر کوئی دھاندلی ثابت ہوئی تو ذمے داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔اس سلسلہ میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی سے الیکشن ریفارمز کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی جا چکی ہے، جس کے بعدسپیکر قومی اسمبلی جلد کمیٹی کے قیام کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ کمیٹی کے اراکین کے ناموں کو حتمی شکل دینے کا عمل ابھی باقی ہے، قومی اسمبلی میں جب موشن پیش کی گئی تو تحریک انصاف نے اس کی مخالفت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ کمیٹی 30ارکان پر مشتمل ہوگی، جس میں قومی اسمبلی سے 20جبکہ سینیٹ سے 10اراکین شامل ہوں گے، کمیٹی میں نشستوں کی تقسیم ایوان میں جماعتوں کی عددی تناسب کے تحت ہو گی، کمیٹی کی تشکیل کا مقصد انتخابی نظام میں بہتری، شفافیت اور اصلاحات کے لیے پارلیمانی سطح پر مشاورت اور اتفاقِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ انتخابی اصلاحات کے عمل میں اپوزیشن سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کی مثبت، تعمیری اور قابلِ عمل تجاویز کو مناسب اہمیت دی جائے، تاکہ ایک ایسا انتخابی نظام تشکیل دیا جا سکے جو شفافیت، اعتماد اور جمہوری اقدار کو مزید مضبوط بنائے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کا مشترکہ قومی معاملہ ہیں، اس مقصد کے حصول کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی مشاورت اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہئے۔قبل ازیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن شاہدہ رحمانی نے کام کی جگہ پر خواتین کی ہراسانی کے خلاف قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں ہراسانی کی تعریف کو صرف جنسی نوعیت کے رویے تک محدود نہ رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ قرارداد کے مطابق صنفی امتیاز، دھمکانا، تذلیل، توہین آمیز سلوک، مخاصمانہ رویہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال بھی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے خواہ اس کی نوعیت جنسی ہو یا غیر جنسی۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ جنسی پیش قدمی یا مطالبے کی عدم موجودگی صنفی بنیادوں پر ہراسانی یا امتیازی سلوک کی سنگینی کم نہیں کرتی۔ قرار داد میں آئین کے آرٹیکل 14 اور 25 کے تحت ہر فرد کے وقار، مساوات اور تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ ایوان نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے سے تحفظ کے قانون 2010 اور 2022 کی ترامیم کے تحت صنفی امتیاز کو بھی ہراسانی کی قانونی تعریف میں شامل قرار دیا۔قرارداد میں وفاقی حکومت اور تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ موجودہ قانون پر اس کی مکمل روح کے مطابق موثر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ غیر جنسی نوعیت کی ہراسانی کا شکار افراد کو بھی قانونی تحفظ مل سکے۔ ایوان نے قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی۔
انتخابی اصلاحات
