لاہور ( نیوز ایجنسیاں) وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پہلا پنجاب اینوویشن فار ویلیو، اپر چونیٹی اینڈ ٹر
انسفارمیشن لانچ کردیا۔ پیوٹ (PIVOT) پنجاب میں اقدار،مواقع اورتبدیلی کیلئے جدت کا پروگرام ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پیوٹ کیلئے STEP پورٹل بھی لانچ کردیا۔ تقریب میں گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد،پاکستان بزنس کونسل کے ارکان، مایہ نازسرمایہ کاروں اور نمایاں صنعت کاروں نے شرکت کی۔ صنعتکاروں اورسرمایہ کاروں کی جانب سے پیوٹ (PIVOT) کے اجراء کا خیر مقدم کیا اوربھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان نے پیوٹ (PIVOT)کے بارے میں ارتقائی جائزہ پیش کیااور بتایا کہ پی این ڈی میں پیوٹ (PIVOT) سیکرٹریٹ قائم ہوگا،چیف سیکرٹری آفس میں بھی پیوٹ سیل بنے گا۔ہر ضلع میں متعلقہ ڈپٹی کمشنر پیوٹ (PIVOT) کیلئے فوکل پرسن ہوں گے۔محض 6ماہ میں پیوٹ(PIVOT) کے تصور کو عملی شکل دیناوزیراعلیٰ مریم نوازشریف کے ویژن کی کامیابی ہے۔ سینئر منسٹر مریم اورنگزیب نے تین سالہ پنجاب اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان2026ـ29 پیش کیا اور کہا کہ انڈسٹری اور حکومت کی پارٹنر شپ کے تصور کو وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کے تصور کے مطابق عملی شکل دی جارہی ہے۔پنجاب کے علاوہ سندھ،کے پی کے اوردیگر علاقوں سے آنے والے صنعتکاروں کے اعتماد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ممتاز صنعتکار عارف حبیب نے لاہور سی بی ڈی ون میں پاکستان کی بلند ترین بلڈنگ بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ پیوٹ(PIVOT)جیسے پروگرام کی پاکستان کو ضرورت ہے۔مریم نوازشریف میں محمد نواشریف کی جھلک نظر آتی ہے،1991سے محمد نوازشریف کے ساتھ کام کررہے ہیں۔صنعت کارفواد مختار نے و وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے پیوٹ کے ذریعے ہر چیز کو مناسب اوربہتر انداز سے پیش کیا۔صنعت کارعثمان خالد وحید نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر پر اعتماد کرنے پر وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے اپنے خطاب میں شرکاء کو پیوٹ (PIVOT)کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کہا کہ نئے تین سالہ اکنامک ٹرانسفارمیشن پلانPIVOT سے 10 لاکھ لوگوں کی زندگی میں یقینی بہتری، میعار زندگی بلند ہوگا۔ اکنامک ٹرانسفارمیشن پلانPIVOT سے ایک لاکھ 62 ہزار روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان PIVOT سے ایکسپورٹ میں 6.8 ارب ڈالر اضافہ ہوگا۔ اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان PIVOT پر عملدرآمد سے 906 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری آئیگی۔ PIVOT، انڈسٹری، ایگریکلچر، سیاحت، سکلز اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں معاشی انقلاب برپا کرے گا۔ پیوٹ کے ذریعے پنجاب میں جامع اقتصادی تبدیلی کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیوٹ کے تحت صوبے بھر میں نئے اقتصادی مواقع، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہے۔ تین سالوں میں ایک ملین افراد کو روزگارکیساتھ ایک لاکھ62 ہزار اضافی ملازمتیں اور ایکسپورٹ میں 6.8 بلین ڈالر کا اضافہ ہوگا۔پیوٹ میں حکومتی سرمایہ کاری تقریبا 1,089 ارب روپے اور پرائیویٹ سیکٹر سے 906 ارب روپے آئیں گے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پیوٹ پلان کے تحت پنجاب کے صنعتی شعبے کو مضبوط بنانے کیلئے 753.7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پیوٹ کے ذریعے اسکلنگ تحت تین سال میں 402,060 افراد کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پیوٹ پلان کے تحت مشینری ڈیوٹی کی واپسی، سولر اور بیٹری توانائی کے ذخیرہ کرنے والے نظام (BESS) کی سہولت بھی فراہم کی جائیگی۔پیوٹ سے پنجاب کی اوسطاً سالانہ اقتصادی ترقی کی شرح میں بھی اضافہ متوقع ہے۔پیوٹ سے پنجاب کو مینو فیکچرنگ، بین الاقوامی معیار کے پروڈکٹس اور ایکسپورٹ پر مبنی ترقی کی طرف گامزن کیا جائیگا۔ سرمایہ کاری تک محدود رسائی، ناقص صنعتی انفراسٹرکچر، مہارت کی کمی، ریگولیٹری پیچیدگیاں اور توانائی کی زیادہ لاگت جیسے اہم مسائل کو پیوٹ کے ذریعے حل کیا جائیگا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پیوٹ پلان کے تحت رعایتی مالیات، صنعتی علاقے، کلسٹر انفراسٹرکچر اور کاروباری سہولیات شامل کیا گیا ہے۔ سٹپ فنانسنگ پروگرام کے تحت صنعتی ترقی اور برآمدات کو فروغ دیا جائے گا۔صنعتی منصوبوں کے لیے زیرو سے پانچ فیصد کی شرح پر 300 ارب روپے کے رعایتی قرضے دئیے جائیں گے۔ ویلیو ایڈیشن کیلئے پیوٹ پلان کے تحت سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ اور بھکر میں چار ایگرو پروسیسنگ پارکس بنائے جائیں گے۔ ایگروپروسیسنگ پارکس فروٹ میں پروسیسنگ، کولڈ سٹوریج، گریڈنگ اور دیگر ویلیو ایڈڈ سرگرمیوں میں سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کریں گے۔ زرعی پارکس کے قیام سے کسانوں کے لیے مارکیٹ تک رسائی بہتر ہوگی۔ پیوٹ پلان کے تحت پنجاب کی قائم شدہ صنعتی ویلیو چین نظام کومزید مضبوط کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیوٹ میں ملبوسات، کھیلوں کا سامان، چمڑا اور جوتے، ادویات، پنکھے اور سرامکس شامل ہیں۔ پیوٹ سے ٹیکنالوجی اپ گریڈز اور برآمدی مارکیٹوں تک بہتر رسائی کیلئے بہتر اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ جدید فارم میکانائزیشن، بہتر ذخیرہ کاری، گوشت اور ڈیری پروسیسنگ، بیماری کی روک تھام اور کسانوں کے لیے مالی معاونت کی جائیگی۔پیوٹ کے ذریعے ایکوافارمنگ منصوبے جھینگے کی پرورش، ماہی گیری کے انفراسٹرکچر اور برآمدی پیداوار میں اضافہ کیا جائیگا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ پیوٹ سے تاریخی، مذہبی سیاحتی مقامات، تفریحی سہولیات اور سیاحتی سرکٹس کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائیگا۔پیوٹ کے تحت لاہور نائٹ اکانومی، پوٹھوہار علاقے، چولستان اور دیگر سیاحتی مقامات کو شامل کیاجائیگا۔ نوجوانوں کوملکی صنعت کی ضروریات اور بین الاقوامی مزدور منڈی کی ڈیمانڈ کے مطابق تیار کیا جاسکے۔ٹیکنالوجی پروگرام جدید ڈیجیٹل مہارتوں، آئی ٹی انٹرنشپس، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرٹیفیکیشنز، اسٹارٹ اپ انکیوبیشن اور کاروباری صلاحیتوں کی پیوٹ کے ذریعے مدد کی جائیگی۔ پیوٹ میں اقتصادی اصلاحات کوبھی شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلکـپرائیویٹ شراکت داری، صنعتی زمین پالیسی، لیبر قوانین کوبزنس فرینڈلی بنایا جائے گا۔سرمایہ کار کی سہولت اور شفاف نگرانی سے پیوٹ سرمایہ کاری کو بہتر بنایا جائے گا۔ حکومت پنجاب کاروباری کمیونٹی، مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کیساتھ کام کرنے کیلئے پر عزم ہے۔ پیوٹ پلان کا مقصد زیادہ سرمایہ کاری، مضبوط برآمدات، مفید روزگار اور مستحکم اقتصادی ترقی میں تبدیل کیا جا سکے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کو ڈیجیٹل دور میں شامل کرانے کے لئے اختراعی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔پنجاب کی 36 ملین کی ورک فورس ہے، ہر انڈسٹری سکلڈ لیبر کی ڈیمانڈ کرتی ہے۔ پنجاب کو چار لاکھ سکلڈ ورکرز دیئے ہیں، چھ لاکھ مزید بھی دیں گے۔ سکلڈ نا ہونے کی وجہ سے بیرون ملک جانے والوں کو اچھی جاب نہیں۔ پنجاب میں فارماسیوٹیکل انڈسٹری تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ پیوٹ کے ذریعے کاروباراور سرمایہ کاری کیلئے ساز گار ماحول فراہم کررہے ہیں۔آسان کاروبار سکیم میں تقریباً 200 ارب روپے کے لون جار ی کرچکے ہیں۔ای بزنس کے ذریعے دو لاکھ سے زیادہ لوگ این او سی اور دیگر اجازت نامے حاصل کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بے یقینی،بے امنی اور روز باروز جہاں احتجاج ہو وہاں کاروبار کیسے ہوگا۔وزراء سے کہتی ہوں کہ پروٹوکول اور سکیورٹی کم سے کم رکھیں۔ ڈالا کلچراور قبضہ مافیا کا پنجاب سے خاتمہ کر دیا، سالوں پرانے قبضہ ختم کررہے ہیں۔ راستے ریڑھیوں کیلئے نہیں ہوتے، گزرنے کیلئے ہوتے ہیں، ریڑھیوں کیلئے الگ جگہیں بنائی گئیں ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ کوئی بزنس کرنا چاہتا ہے، بالکل نہیں پوچھنا چاہتی ہوں، سرمایہ کہاں سے آیا۔ پنجاب میں نیا ٹیکس نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ بڑھانے پر توجہ دی، پنجاب کا ریونیو 200 ارب سے ایک کھرب تک پہنچ رہا ہے۔ پیوٹ شروع کرنے سے پہلے ہر محکمہ سے سرخ فیتہ ختم کرنے کا عہد لیا۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں سے درخواست کرتی ہوں کہ بزنس فنانس فراہم کرنے کیلئے ضوابط کو آسان بنائیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں رشوت لینے والے ملازمین کو سرکاری محکموں سے فارغ کیا جارہا ہے۔ ہر پیسہ والے کوچور سمجھنا غلط ہے۔ فیفا اور بڑے ادارے سرٹیفکیشن نہ ہونے کی وجہ سے سپورٹس گڈز نہیں لے رہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ عوام میری فیملی ہیں، آپ کے خوراک کی ذمہ داری بھی میری ہے۔ کوئی بھی ملک خود کو بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ کیے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ پنجاب میں لائیو سٹاک اور زراعت کیلئے بہت بڑا بجٹ مختص ہے۔ کسانوں کو سبسڈی پر ٹریکٹرز اور سپرسیڈرز فراہم کیے جارہے ہیں۔ کھانے کے کاروبار کرنے والے ناقص کھانا نہ دیں۔کسی کا بزنس کا بند کرنے کا شوق نہیں، لوگوں کو صاف ستھرا ماحول اور صحت بخش غذاکی فراہمی ہدف ہے۔
مریم نواز
