All posts by Khabrain News

توڑ پھوڑ میں شامل تھا نہ حق میں ہوں، جہاں تھا وہیں کھڑا ہوں: شاہ محمود قریشی

ملتان: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وہ کسی توڑ پھوڑ میں شامل نہیں تھے اور نہ ہی اس کے حق میں ہیں تاہم جہاں تھا وہیں کھڑا ہوں۔
ملتان سیشن کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مجھ پر ملتان میں پانچ کیسز درج کئے گئے، 9 مئی کے واقعات کی وجہ سے مجھ پر 13 دفعات لگائی گئیں جس میں سے ایک دفعہ بھی ثابت نہیں کی جاسکی۔
انہوں نے کہا کہ میں ملتان میں موجود ہی نہیں تھا اسلام آباد میں تھا، اسلام آباد میں گرفتار ہوا اور اڈیالہ جیل گیا، مقدمات ملتان میں درج ہو گئے، ان جھوٹے مقدمات سے انتظامیہ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ مجھے جیل میں تھری ایم پی او کے تحت بند کیا گیا، 9 مئی کے واقعات میں کسی توڑ پھوڑ میں شامل نہیں تھا اور نہ اس کے حق میں ہوں۔

حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان مذاکرات کامیاب، مارچ ختم کرنے کا اعلان

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے، مذاکرات کی کامیابی کے بعد ٹی ایل پی نے پاکستان بچاؤ مارچ ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں ٹی ایل پی رہنما شفیق امینی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ناموس رسالت کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، ناموس رسالت کے تحفظ کیلئے مل کر طریقہ کار طے کیا ہے، توہین مذہب کی روک تھام کیلئے مشاورت سے ایک لائحہ عمل تک پہنچے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں حکومت کے قانون نافذ کرنیوالے ادارے اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے علماء ہوں گے جو ان چیزوں کا جائزہ لیں گے اور تحفظ ناموس رسالت کو یقینی بنائیں گے، اللہ اس مقدس کام میں ہمیں کامیابی عطا فرمائے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر ہر پاکستانی غمزدہ ہے، ایک بے گناہ خاتون کو نہ صرف غلط سزا دی گئی اور قید میں بھی رکھا گیا ہے، پاکستان کے حالات پر کانگریس ارکان کو خط لکھنے والے ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ بھی دیکھیں، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر خط بھی لکھے گی۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کا ایک مطالبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا بھی تھا، پٹرول کی قیمتوں سے متعلق طریقہ کار ٹی ایل پی کے سامنے رکھا، اسحاق ڈار نے یقین دلایا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں واضح کمی آئے گی، ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ٹی ایل پی کے دوستوں کا تدبر ہے کہ انہوں نے ہمارے مؤقف کو سمجھا اور ان معاملات کر پُرامن طریقے سے حل کرنے کی اور اپنے احتجاج کو ختم کرنے کی حامی بھری، ہم نے خلوص دل سے کوشش کی کہ ان کے جذبات کو سمجھیں۔
حکومت نے ہمارے مطالبات مان لئے ہیں: شفیق امینی
اس موقع پر ٹی ایل پی رہنما شفیق امینی کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمارے مطالبات مان لئے ہیں، ہمارے مطالبات میں تحفظ ناموس رسالت، مہنگائی کا خاتمہ اور ڈاکٹرعافیہ کا معاملہ شامل تھا، ہم نے اپنے مطالبات کیلئے پرامن مارچ کیا۔
انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کا شکریہ کہ انہوں نے لاکھوں لوگوں کے جذبات کی قدر کی اور ہمارے مطالبات مانے گئے، غریبوں کی زندگی آسان کرنا ٹی ایل پی کا منشور ہے، ہمیں امید ہے کہ اس معاملے پر ہم آگے بڑھیں گے۔
ٹی ایل پی رہنما کا کہنا تھا کہ امید ہے ماضی کے تلخ تجربات دہرائے نہیں جائیں گے اور جو مطالبات تسلیم کئے گئے ہیں ان پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کا مطالبات کے حق میں کراچی تا اسلام آباد لانگ مارچ جاری تھا جو کہ حکومت نے جہلم کے قریب روک رکھا تھا۔

چودھری پرویز الہٰی سے پنجاب اسمبلی کا سٹاف واپس لے لیا گیا

لاہور: (ویب ڈیسک) سابق وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الہٰی سے پنجاب اسمبلی کا سٹاف واپس لے لیا گیا۔
ذرائع پنجاب اسمبلی کے مطابق سٹاف میں سکیورٹی اہلکار، ڈرائیور، باورچی سمیت 60 ملازم شامل تھے۔
واضح رہے کہ یکم جون کو چودھری پرویز الہٰی کو لاہور میں ان کے گھر کے قریب سے گرفتار کیا گیا تھا، انہیں اینٹی کرپشن پولیس نے گرفتار کیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر پرویز الہٰی کے خلاف اینٹی کرپشن میں سرکاری ٹھیکوں میں کمیشن لینے کے الزام پر مقدمہ درج ہے، ان کے خلاف لاہور کے تھانے میں کار سرکار میں مداخلت اور پولیس پر تشدد کا مقدمہ بھی درج ہے۔

یونان میں کشتی ڈوبنے کا معاملہ : 298 پاکستانیوں کی ہلاکت کا خدشہ،12 کوبچالیاگیا

ایتھنز : (ویب ڈیسک) جنوبی یونان کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے حادثے میں 298 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ 12 افراد کو زندہ بچا لیا گیاہے ۔
تفصیلات کے مطابق جنوبی یونان کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی لیبیا سے اٹلی جانے والی کشتی میں 78 افراد ہلاک ہوچکے ہیں ، کشتی میں 310 پاکستانیوں کے بھی سوار ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں سے 298 کی موت کا خدشہ بتایا جارہا ہے تاہم یونان میں پاکستانی سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ اب تک 12 شہریوں کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔
پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یونانی حکام نے چوتھے روز بھی سرچ آپریشن جاری رکھتے ہوئے 78 لاشیں نکالی ہیں ، تاہم جاں بحق ہونے والوں کی شہریت کا علم نہیں، اس حوالے سے یونانی حکام نے اپیل کی ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے صرف والدین یا بچوں کا ڈی این اے سیمپل بھیجا جائے ، ڈی این اے رپورٹ، لاپتہ افراد کا شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور رابطہ نمبر info@pakistanembassy.gr پر بھیجی جاسکتی ہیں ۔
یونان میں پاکستانی سفارت خانہ کے حکام نے کشتی حادثے میں زندہ بچ جانے والے 12 پاکستانیوں سے بھی ملاقات کی ہے ۔
یونانی حکام نے جن پاکستانیوں کو بچایا ہے ان میں سے محمد عدنان بشیر اور حسیب الرحمن کا تعلق ضلع کوٹلی سے ہے باقی افراد میں محمد حمزہ (گوجرانوالہ)، عظمت خان (گجرات)، محمد سنی (شیخوپورہ)، زاہد اکبر (شیخوپورہ)، مہتاب علی (منڈی بہاؤالدین)، رانا حسنین (سیالکوٹ)، عثمان صدیقی (گجرات)، ذیشان سرور (گوجرانوالہ) جبکہ عرفان احمد اور عمران آرائیں ہسپتال میں زِیرعلاج ہیں۔
اس کشتی میں پاکستان بالخصوص آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے 130 افراد سوار تھے جن میں 43 نوجوان بھی شامل ہیں ۔
اس حوالے سے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا ہے کہ یونان میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے کے بعد 500 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہے۔
خیال رہے کہ یونانی کوسٹ گارڈز کے مطابق یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیرلوس کے جنوب مغرب میں پیش آیا، اب بھی حادثہ کا شکار ہونے والے سینکروں افراد کی تلاش جاری ہے۔
حکام کے مطابق 65 سے 100 فٹ لمبی کشتی میں ممکنہ طورپر750 افراد سوار تھے، کشتی میں سوار افراد کی حتمی تعداد ابھی معلوم نہیں ہوسکی ہے تاہم کشتی میں بیشترتارکین وطن کا تعلق مصر، شام، افغانستان اور پاکستان سے ہے۔
حکام کے مطابق یونانی کوسٹ گارڈز اور نیوی کی کشتیاں، جہاز اور ہیلی کاپٹرز ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں۔
یونان کی عبوری حکومت نے کشتی کے اس بڑے حادثے کے پیش نظر ملک میں تین دن سوگ کا اعلان کیا ہے اور ہر طرح کی تقریبات منسوخ کر دی ہیں۔

بنگلہ دیشی قانون دان نصرت جہاں چودھری امریکہ میں پہلی مسلم خاتون وفاقی جج مقرر

نیویارک : (ویب ڈیسک) امریکی سینیٹ نے قانون دان نصرت جہاں چودھری کی نیو یارک کے مشرقی ضلع کے یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ کی جج کے طورپر منظوری دے دی ہے جس کے بعد وہ امریکہ کی پہلی بنگلہ دیشی امریکی اور پہلی وفاقی مسلم خاتون جج بن گئی ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی سینیٹ میں 47 سالہ بنگلہ دیشی نژاد امریکی وکیل نصرت جہاں چوہدری کی حمایت میں 50اور مخالفت میں 49ووٹ پڑے۔
نصرت چودھری نے اس سے پیشتر اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا بیشتر حصہ الی نوئے کی نیشنل امیریکن سول لبرٹیز یونین کے ساتھ گزارا جہاں انہوں نے نسلی انصاف اور قومی سلامتی کے مسائل پر کام کیا۔
وہ 2018 سے 2020 تک ادارے کے نسلی انصاف پروگرام کی ڈپٹی ڈائریکٹر رہیں، امریکی صدر جو بائیڈن نے جنوری 2022 میں انہیں وفاقی بنچ کے لئے نامزد کیا تھا۔
نصرت چودھری نے نیو یارک کے قریبی جنوبی ڈسٹرکٹ میں ایک جج کے لیے کلرک کے طور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کی سیکنڈ سرکٹ اپیلز کورٹ میں بھی خدمات انجام دی تھیں، جو نیو یارک، کنیٹی کٹ اور ورمونٹ کی وفاقی عدالتوں کے مقدمات کا جائزہ لیتی ہے۔
نصرت چوہدری 2021 میں پاکستانی نژاد امریکی زاہد قریشی کے بعد وفاقی بنچ کے لیے تصدیق شدہ دوسری مسلمان ہیں، سینیٹ نے 2021 میں نیو جرسی کی فیڈرل ٹرائل کورٹ کے لیے ان کی توثیق کی تھی۔
مسلم امریکن ایڈووکیسی گروپ نے نصرت جہاں چوہدری کی بطور وفاقی جج توثیق کو سراہا ہے۔

روسی صدر کا جوہری ہتھیاروں سے متعلق بیان، وائٹ ہاؤس کی مذمت

واشنگٹن : (ویب ڈیسک) وائٹ ہاؤس نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ان بیانات کی مذمت کی ہے جس میں انھوں نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کا عندیہ دیا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق ہفتے کے روز وائٹ ہاؤس نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ امریکہ نے صدر پیوٹن کے ان ریمارکس کے جواب میں اپنی جوہری حیثیت میں کوئی تبدیلی کی ہے۔
روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا تھا کہ اگر روس کی علاقائی سالمیت یا وجود کو خطرہ لاحق ہو تو وہ نظریاتی طور پر جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔
پیوٹن نے مزید کہا تھا کہ ان کے ملک نے جوہری ہتھیاروں کا پہلا گروپ بیلاروس کو منتقل کر دیا ہے، جوہری ہتھیار ہماری ملکی سلامتی کے وسیع تر مفہوم اور روسی ریاست کے وجود کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں لیکن ہمیں فی الحال ایسی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیلاروس میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے ساتھ مارچ میں اعلان کردہ ایک معاہدے کا نتیجہ ہے، بیلاروس نے یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے اپنے ملک کی سرزمین ماسکو کے اختیار میں رکھی تھی۔
اس حوالے سے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ماسکو کی جانب سے بیلاروس میں جوہری وار ہیڈز کی تعیناتی کے بعد امریکہ کے پاس اپنی جوہری حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، ہمیں روس کی جانب سے جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر آمادگی کا کوئی اشارہ نظر نہیں آتا۔
بلنکن نے یہ بھی کہا کہ روسی صدر کی جانب سے بیلاروس کو جوہری ہتھیاروں کی منتقلی ایک ستم ظریفی ہے۔

یوگنڈا میں عسکریت پسندوں کا سکول پرحملہ ، 25 افراد ہلاک

کمپالا: (ویب ڈیسک) مغربی یوگنڈا میں کانگو کی سرحد کے قریب ایک سکول پر دہشتگرد تنظیم سے منسلک اے ڈی ایف عسکریت پسندوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک ہوگئے ۔
عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ الائیڈ ڈیموکریٹک فورسز (اے ایف ڈی) کے ارکان نے مشرقی کانگو میں واقع یوگنڈا کے ایک گروپ جس نے اسلامک اسٹیٹ سے وفاداری کا عہد کیا ہے، نے مپونڈوے میں لوبیریرا سیکنڈری سکول پر حملہ کیا، ایک ہاسٹلر کو آگ لگا دی اور کھانا لوٹ لیا۔
پولیس کے مطابق اب تک سکول سے 25 لاشیں برآمد کی گئی ہیں اور انہیں بویرا ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، حملے میں زخمی 8 افراد ہسپتال میں زیرعلاج ہیں جن کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے تاہم پولیس نے مرنے والوں میں سکول کے بچوں کی تعداد سے متعلق آگاہ نہیں کیا ۔
حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز حملہ آوروں کا تعاقب کر رہے تھے جو ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ویرونگا نیشنل پارک کی طرف بھاگے تھے۔
یاد رہے کہ اپریل میں بھی اے ایف ڈی نے کانگو کے ایک گاؤں پر حملے میں کم از کم 20 افراد ہلاک کردیا تھا۔
سال 1998 میں اے ایف ڈی نے کانگو کے ایک انسٹی ٹیوٹ پرحملہ کرکے 80 بچوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا تھا ، اے ڈی ایف کا تعلق وسطی افریقا میں دہشتگرد تنظیم کے ساتھ ہے۔

سعودی وزیر خارجہ آج ایران کا سرکاری دورہ کریں گے

ریاض: (ویب ڈیسک) سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آج ایران کا سرکاری دورہ کریں گے۔
سعودی میڈیا کے مطابق سعودی وزیرِ خارجہ تہران میں اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقات کریں گے ، سعودی وزیرِ خارجہ اس ایک روزہ دورے کے دوران اپنے ہم منصب سے بھی ملاقات کریں گے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اس سے قبل مارچ میں ایران اور سعودی عرب کی چین کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے میں سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد سے دونوں وزرائے خارجہ کی نیوٹرل مقامات پر 2 ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ کی پہلی ملاقات اپریل میں بیجنگ میں ہوئی تھی جبکہ دوسری ملاقات مئی میں جنوبی افریقا میں برکس اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے 2016 میں تہران میں اپنے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر حکومت کے حامی مظاہرین کے حملے کے بعد ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔

حج سیزن کے دوران مکہ مکرمہ کی تمام مساجد میں نمازِ جمعہ کی اجازت

ریاض : (ویب ڈیسک) حج سیزن کے دوران مکہ مکرمہ کی تمام چھوٹی بڑی مساجد میں نمازِ جمعہ کی اجازت دے دی گئی۔
سعودی وزیر اسلامی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے کہا ہے کہ یہ اقدام لاکھوں عازمین کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے۔
سعودی وزیر کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عازمین کو حرم تک آمد و رفت کی پریشانی نہیں ہوگی ، شہر میں قائم تمام چھوٹی اوربڑی مساجد میں 16 جون سے حج سیزن کے اختتام تک نماز جمعہ پڑھائی جائے گی ۔
واضح رہے کہ مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے قریب اور چھوٹی مساجد میں عام طور پر جمعہ کی نماز نہیں پڑھائی جاتی اور نمازِ جمعہ مسجد الحرام میں ادا کی جاتی ہے تاہم مسجد الحرام سے دور جامع مساجد میں بھی اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

قومی اسمبلی کی انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کی ہدایت

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے یونان میں مبینہ طورپرکشتی کے حادثہ میں جاں بحق افراد کے واقعے کو اندوہناک قراردیتے ہوئے انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے عبدالاکبرچترالی نے نکتہ اعتراض پرکہاکہ یونان میں کشتی کے حادثہ میں مبینہ طورپر سینکڑوں پاکستانی جاں بحق ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ انسانی سمگلنگ کے تدارک کیلئے اب تک کیا گیاہے، اس واقعہ کا نوٹس لیا جائے۔
سپیکر کاکہنا تھا کہ یہ اندوہناک واقعہ ہے، انسانی سمگلنگ بھیانک جرم ہے، میں چاہوں گا کہ حکومت نوٹس لیں اورمکروہ دھندہ میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپورکارروائی کرے۔
واضح رہے کہ یونان کے سمندر میں کشتی ڈوبنے کے حادثے میں لاپتہ افراد کی تلاش کیلئے چوتھے روز بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے ، اب تک 78 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ 104 افراد کو بچالیا گیا۔
کشتی ڈوبنے کے حادثے میں 298 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ 12 افراد کو زندہ بچا لیا گیاہے۔
یورپی حکام کی جانب سے اس سانحے کو بحیرہ روم کی تاریخ کا بدترین حادثہ قرار دیا جارہا ہے ۔