All posts by Khabrain News

بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی نے قومی سلامتی کے سابق مشیر ڈاکٹر معید یوسف کو وائس چانسلر مقرر کردیا

لاہور(پ ر):پاکستان کی پہلی غیر منافع بخش لبرل آرٹس یونیورسٹی،بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی (بی این یو) نے ڈاکٹر معید.ڈبلیو.یوسف کو تیسرا وائس چانسلر مقرر کردیا ہے۔تعلیمی شعبہ اور پالیسی سازی میں اپنی وسیع مہارت اور تعلیمی تجربہ کے ساتھ ڈاکٹر یوسف اس باوقار ادارے میں علم اور لیڈر شپ کا باعث بنیں گے۔
ڈاکٹر یوسف کا بی این یو میں چیئر پرسن بورڈآف گورنرزمسز نسرین محمود قصوری،اور بورڈ آف گورنرز کے اراکین خورشید محمود قصوری،قاسم قصوری،ڈاکٹر پرویز حسن،معین افضل اور ڈاکٹر عشرت حسین سمیت دیگر نے پرتپاک استقبال کیا۔
اپنے عہد کے سرکردہ اسکالرز میں سے ایک کے طور پر پہچانے جانے والے ڈاکٹر یوسف بھرپور علمی پس منظر رکھتے ہیں،جنہوں نے بوسٹن یونیورسٹی،جارج واشنگٹن یونیورسٹی،لاہو ر یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز،اور قائد اعظم یونیورسٹی جیسے معروف تعلیمی اداروں میں سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات عامہ کی تعلیم دی ہے۔وہ اپنے پورے کیریئر میں متعدد اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں،جس میں حال ہی میں پاکستان کے سب سے کم عمر قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر فرائض سر انجام دینا بھی شامل ہے۔وہ بوسٹن یونیورسٹی کے پرڈی اسکول اور ہارورڈ یونیورسٹی کے کینیڈی اسکول میں ریسرچ فیلو اور یو ایس یونیورسٹی آف پیس میں ایسوسی ایٹ وائس پریذیڈنٹ بھی رہ چکے ہیں۔ایک ماہر مصنف کے طور پر ڈاکٹر یوسف کی بڑے پیمانے پر تصانیف بھی موجود ہیں،ان کی آخری کتاب Brokered Bargaining
اسٹینفورڈ یونیورسٹی پریس نے 2018میں شائع کی تھی۔انہوں نے بوسٹن یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز اورسیاسیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے۔
ڈاکٹر معید یوسف اپنے وسیع اور متنوع تجربہ،نقطہ نظر اور تعلیمی و بین الاقوامی امور میں غیر معمولی شراکت کے ساتھ بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر انمول قائدانہ تجربہ کا باعث بنیں گے۔

بپر جوئے کراچی سے 420 کلو میٹر دور، شہر میں گرد آلود ہوائیں چلنے لگیں

کراچی:(ویب ڈیسک) سمندری طوفان ’’بپر جوئے‘‘کا کراچی سے فاصلہ کم ہو کر 420 کلو میٹر رہ گیا جس کے باعث شہر میں گرد آلود ہوائیں چلنے لگی ہیں اور بعض مقامات پر مٹی کا طوفان بھی آیا، ناخوشگوار حالات سے نمٹنے کیلئے پاک فوج کے حفاظتی دستے بھی تیار ہیں۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے سمندری طوفان کے حوالے سے 15 واں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق یہ سسٹم کراچی سے 420 کلومیٹر، ٹھٹھہ سے 460 کلومیٹر اور اورماڑہ سے 650 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے، طوفان مسلسل شمال کی جانب 4 سے 5 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے، طوفان کا رخ شمال مشرق کی جانب مڑنے کا امکان ہے۔
چیف میٹرو لوجسٹ نے کہا کہ طوفان کی زیادہ سے زیادہ شدت کے ساتھ ہوائیں 140سے 170 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں، جبکہ طوفان کے اطراف 30 فٹ اونچی لہریں اٹھ رہی ہیں، سمندر کی سطح کا درجہ حرارت 29 سے 31 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔
سمندر بپھرنے سے پانی اورماڑہ کے رہائشی علاقے میں داخل
سمندری طوفان “بپر جوئے” کے اثرات سامنے آنے لگے، سمندر بپھرنے سے پانی رہائشی علاقے میں داخل ہوگیا۔
بحیرہ عرب میں موجود سمندری طوفان کے باعث مکران کی سمندری حدود میں طغیانی کے سبب اورماڑہ دیمی زر میں سمندر بپھر گیا، سمندر کا پانی کنارے والی سڑک کو پار کر کے دکانوں، کمپنیوں اور آبادی کے علاقوں میں داخل ہو گیا۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سائیکلون بپر جوئے کل کیٹی بند سے ٹکرانے کا امکان ہے۔
پانی آبادی میں داخل ہونے سے لوگ شدید پریشان ہیں، سمندر میں شدید طغیانی کے سبب ماہی گیروں کی املاک کو شدید نقصانات کا اندیشہ ہے۔
سندھ میں تیز ہوائیں اور بارش متوقع
چیف میٹرولوجسٹ کا کہنا ہے کہ طوفان کے باعث ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا، آج سے 17 جون کے دوران ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر، عمرکورٹ میں 80 سے 120 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں گی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے چار دنوں میں کراچی، حیدر آباد، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، میرپور خاص میں 60 سے 80 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوائیں متوقع ہیں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے، طوفان کے اثرات پری مون سون موسم پر بھی ہوں گے۔

پرویز الٰہی کے دوبارہ جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ معطل، فریقین سے جواب طلب

لاہور: (ویب ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے چودھری پرویز الٰہی کو دوبارہ جسمانی ریمانڈ کیلئے پیش کرنے کا سیشن عدالت کا فیصلہ معطل کر دیا، عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی اپیل منظور کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس وحید خان نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے دوبارہ جسمانی ریمانڈ کیخلاف اپیل کی سماعت کی۔
عدالت عالیہ نے پرویز الٰہی کی اپیل منظور کرتے ہوئے دوبارہ جسمانی ریمانڈ کیلئے پیش کرنے کا سیشن عدالت کا فیصلہ معطل کر دیا اور فریقین سے جواب طلب کر لئے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے قانونی طور پر چودھری پرویز الٰہی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا، انہوں نے جوڈیشل ریمانڈ کے بعد ضمانت کیلئے درخواست دی، محکمہ اینٹی کرپشن نے جسمانی ریمانڈ نہ دینے پر فیصلے کو سیشن عدالت میں چیلنج کر دیا۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ سیشن عدالت نے کسی قانونی جواز کے بغیر جوڈیشل مجسٹریٹ کا حکم معطل کیا، دوبارہ جسمانی ریمانڈ دینے کا فیصلہ بے بنیاد ہے، عدالت سیشن عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔

پی ٹی آئی کی ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظرثانی اور ریویو آف ججمنٹس کیس میں فریق بننے کی درخواست منظور کرلی تاہم ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔
سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظرثانی اور ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس کیس کی سماعت ہوئی، پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے فریق بننے کی درخواست کی جسے عدالت عظمیٰ نے منظور کرلیا۔
عدالت عظمیٰ نے ججمنٹ ریویو ایکٹ فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی، ریویو ایکٹ کیخلاف وکلاء کے دلائل کل بھی جاری رہیں گے۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اپیل اور نظر ثانی میں بہت فرق ہے، اب ایکٹ سے اپیل اور نظرثانی کو یکساں کردیا گیا ہے، کیا اب اس اپیل کیخلاف بھی نظرثانی میں جانے کا آپشن ہو گا؟
جسٹس اعجاز الاحسن نے علی ظفر سے مکالمے میں کہا کہ آپ کو یہیں مطمئن کرنا ہو گا، علی ظفر نے کہا کہ ایسے ہی قوانین بنتے رہے تو کیا پتہ کل سیکنڈ اپیل کا قانون آجائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ بھارت میں ان چیمبر کیوریٹیو لگایا گیا ہے وہاں یہ ریویو 2 گراؤنڈز پر ہوتا ہے، ہمارے یہاں ریویو ایکٹ میں آرٹیکل 187 بھی شامل ہوتا تو اچھا نہیں تھا، آپ کو نہیں لگتا یہ معاملات جلد بازی کے بجائے تحمل سے دیکھے جائیں۔
اس سے قبل چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ نے یہ درخواستیں کس کی جانب سے دائر کیں؟ علی ظفر نے بتایا کہ درخواست پی ٹی آئی رہنماء عمر ایوب نے دائر کی ہے، سپریم کورٹ کے پاس اختیار ہے فیصلوں پر نظرثانی کرسکتی ہے، آرٹیکل 188 میں ریویو کا ذکر ہے، ریویو کا کیا مطلب ہوتا ہے یہ واضح ہے۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے پوچھا کہ بتائیں پھر دونوں قوانین میں کیا یکساں ہے؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ریویو ایکٹ آرٹیکل 10 اے کے خلاف ہے، ریویو عدلیہ کی آزادی میں بھی مداخلت ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اور ریویو ایکٹ کا مقصد ایک ہی ہے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ دونوں قوانین الگ الگ دائرہ اختیار سے متعلق ہیں، وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ محض قانون سازی سے سپریم کورٹ میں اپیل کا حق دینا خلاف آئین ہے۔
علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حتمی ہونے کا ایک تصور موجود ہے، نظرثانی میں شواہد دوبارہ نہیں دیکھے جاتے، نظرثانی کا دائرہ اختیار اپیل جیسا نہیں ہوسکتا، نظرثانی صرف اس لئے ہوتی ہے کہ سابقہ فیصلے میں کوئی غلطی نہ ہو۔
انہوں نے کہا ہے کہ جسٹس دراب پٹیل، جسٹس فخر الدین جی ابراہیم جیسے ججز اس پر فیصلے دے چکے ہیں، یہ سب ہیوی ویٹ ججز تھے جو بہت کلیئر تھے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 188 ایکٹ آف پارلیمنٹ کی بھی بات کرتا ہے، جس پر علی ظفر نے دلائل دیئے کہ نظر ثانی اور اپیل دو الگ الگ دائرہ اختیار ہیں، آئین سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا نہیں کہتا۔
جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ نظر ثانی کا سکوپ اپیل جیسا ہوگا۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ہم نے پہلے ایک قانون کو معطل کیا، دوسرا معطل نہیں کر سکتے۔
بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظرثانی اور ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ: پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کی بحالی کا فیصلہ معطل

لاہور: (ویب ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے مستعفی ہونے والے ارکان قومی اسمبلی کی بحالی کا فیصلہ معطل کر دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حسین کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی، اپیل میں فواد چودھری، شاہ محمود قریشی، حماد اظہر سمیت 61 مستعفی اراکین قومی اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے، سپیکر قومی اسمبلی، الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر تحریک انصاف کے 123 ممبران قومی اسمبلی نے استعفیٰ دیئے، 28 مئی کو سپیکر قومی اسمبلی نے 11 ممبران کے درست استعفے منظور کر لئے، سپیکر قومی اسمبلی نے قانون کے مطابق 17 جنوری کو باقی پی ٹی آئی ممبران کے استعفے منظور کر لئے۔
سیکرٹری قومی اسمبلی کی جانب سے مزید کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے قانون کے برعکس 19 مئی کو ممبران کی بحالی کا فیصلہ دیا۔
درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ عدالت انٹرا کورٹ اپیل منظور کر کے سنگل بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔
بعدازاں عدالت نے تحریک انصاف کے مستعفی ہونے والے ممبران قومی اسمبلی کی بحالی کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے 21 جون تک فریقین سے جواب طلب کر لیا۔

عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں: مصدق ملک

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیر مملکت پٹرولیم مصدق ملک نے کہا ہے کہ مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کیلئے تگ ودو کر رہے ہیں، ہماری ہر پالیسی کا محور پاکستان ہے، روس سے درآمد شدہ تیل سے جلد عوام مستفید ہوں گے، ملکی تاریخ میں پہلی بار روس سے تیل پاکستان پہنچا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ہمارے دوستوں نے کہا کہ روس سے پٹرول نہیں آئے گا، دوستوں نے کہا ہماری حکومت روس جانے کی وجہ سے گئی، جو آپ نہ کر سکے وہ ہم نے کر دکھایا، ریفائنری پالیسی تسلیم کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سائفر کے ڈرامے کے بعد امریکا کے آگے گڑ گڑانے تک کا سفر عوام نے دیکھ لیا، مانتے ہیں مہنگائی ہے، اس کیلئے کام کر رہے ہیں، 75 سال میں پہلی بار روسی تیل کا جہاز پاکستان آیا تھا۔
وزیر مملکت پٹرولیم نے کہا کہ دوستوں نے کہا امریکا نے روس سے تیل لانے پر ہماری حکومت ختم کرائی، امریکا ہمارے خلاف سازش کر رہا ہے، پرانی ریفائنریز کو اپ ڈیٹ کرنے کی سمری کابینہ کے پاس موجود ہے، آذربائیجان ہر ماہ پاکستان کو ایل این جی کا ایک کارگو فراہم کرے گا۔
رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ ہماری پالیسی کا محور پاکستان کی ترقی ہے، ہر روز پوچھتے تھے کہاں ہے تمہارا تیل کا جہاز، ہم ترکمانستان سے گیس پاکستان لانا چاہتے ہیں، یورپی ممالک کو دعوت دی ہے کہ پاکستان میں ایل این جی کے کارخانے لگائیں۔
مصدق ملک نے یہ بھی کہا کہ ملکی گیس کے گردشی قرضے کو صفر کر دیا ہے، ایک لاکھ ٹن روسی خام تیل ’یورول‘ خریدا ہے، سیمپل کی ٹیسٹنگ ہو چکی ہے۔

ای او بی آئی کیس: سپریم کورٹ کا 6 ہفتوں میں مسئلہ حل کرنے کا حکم

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے ای او بی آئی کو 6 ہفتوں میں جائیدادوں کے تنازع سے متعلق فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا، عدالت نے پیشرفت سے متعلق آگاہ رکھنے کی بھی ہدایت کردی۔
ای او بی آئی کیس میں متاثرین کے وکیل مخدوم علی خان نے 10 سال سے ادائیگیاں نہ ہونے کا نکتہ اٹھایا تو چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا 10 سال کے مقابلے میں آج پراپرٹی کی قیمتیں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ جن کے کروڑوں پھنسے ہوئے ہیں وہ بھی پاکستانی شہری ہیں، ای او بی آئی ایک بڑا ادارہ ہے، اسے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کریں، امید ہے ای او بی آئی دیانت داری کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جن کے پیسے واپس کرنے ہیں واپس کریں، ورنہ پراپرٹی ان کے حوالے کی جائے، اس مسئلے کا ای او بی آئی کو حل نکالنا ہوگا۔
بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ای او بی آٸی حکام کی مہلت کی استدعا پر کیس کی مزید سماعت اگست تک ملتوی کردی۔

ہنگامہ آرائی کیس: شاہ محمود قریشی کی 19 جون تک ضمانت منظور

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی۔
ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا کی عدالت میں شاہ محمود قریشی کے خلاف تھانہ ترنول میں درج 9 مئی ہنگامہ آرائی کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر رہنما پی ٹی آئی خود پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سِپرا نے وکیل علی بخاری سے سوال کیا کہ کل آپ کدھر تھے؟ جس پر وکیل علی بخاری نے بتایا کہ چیف کمشنر آفس میں درخواست کے معاملے پر مصروف تھا۔
جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر آپ کا کوئی وکیل پیش نہیں ہوا، میں نے ان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی، 19 جون کو دیگر شریکِ ملزمان کی بھی ضمانتوں کی سماعتیں مقرر ہیں۔
وکیل علی بخاری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی قانون کی بالادستی کی بات کرتے ہیں، کوئی مسئلہ نہیں۔
بعدازاں عدالت نے 10 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض 19 جون تک شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی۔

اسلام آباد پولیس نے سابق وزیر علی افضل ساہی کو گرفتار کر لیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پنجاب کے سابق وزیر علی افضل ساہی کو پیشی کے موقع پر اسلام آباد پولیس نے گرفتار کر لیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں سابق صوبائی وزیر علی افضل ساہی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جس کے بعد ان کو گرفتار کیا گیا۔
علی افضل ساہی کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے علی افضل ساہی کی تھانہ گولڑہ مقدمے میں عبوری ضمانت میں 3 جولائی تک توسیع کی ہے، سابق وزیر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔
وکیل نے کہا کہ پیشی کے بعد جوڈیشل کمپلیکس سے واپسی پر سابق صوبائی وزیر کو گرفتار کیا گیا۔
واضح رہے کہ سابق صوبائی وزیر کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی پیشی کے موقع پر تھانہ گولڑہ میں دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔

کے پی، بلوچستان پولیس کو بشریٰ بی بی کیخلاف مقدمات کی تفصیلات پیش کرنیکاحکم

لاہور : (ویب ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے کے پی کے اور بلوچستان پولیس کو بشریٰ بی بی کےخلاف مقدمات کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ میں سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے کے پی کے اور بلوچستان پولیس سے مقدمات کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
آئی جی اسلام آباد نے تحریری رپورٹ میں بتایا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف تھانہ کوہسار میں ایک مقدمہ درج ہے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ سندھ اور پنجاب میں بشریٰ بی بی کےخلاف کوئی مقدمہ درج نہیں۔
بشری بی بی کے وکیل نے دلائل دئیے کہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف ٹرائل ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اطلاعات ہیں کہ بشری بی بی کے خلاف مقدمات درج کرکے انہیں سیل کر دیا گیا ہے، شفاف ٹرائل کے لئے مقدمات کے اندراج کی معلومات اور ان تک رسائی ہر شہری کا قانونی حق ہے، عدالت بشریٰ بی بی کے خلاف درج تمام مقدمات کی تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے۔
بعدازاں لاہور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان پولیس کو سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمات کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دے دیا۔