All posts by Khabrain News

گرے لسٹ سے نام نکالنے سے متعلق خبر پرسوں تک آئے گی: اسحاق ڈار

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کر رہا، مارکیٹ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، امید ہے آنے والے دنوں میں اچھی خبریں آئیں گی، ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے پاکستان نے اپنا کام مکمل کر دیا ہے، ہم ایف اے ٹی ایف کے اعلان سے پہلے اعلان نہیں کر سکتے، گرے لسٹ سے نام نکالنے سے متعلق خبر پرسوں تک آئے گی، بھارت روس سے تیل لے سکتا ہے تو ہم بھی لے سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائرآئندہ دنوں میں بہتر ہوں گے، بہتری کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، عمران خان غیر ذمہ دارانہ بیانات دیتے ہیں، عمران خان کو ذاتی مفادات کی سیاست کو ترک کردینا چاہیے۔
وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، ایل ایل ون کی لاگت 6 ارب سے بڑھ کر 12 ارب ڈالر ہوگئی ہے، ڈالر کی اصل قدر 200 روپے سے کم بنتی ہے، اضافہ مصنوعی ہے، روس سے پٹرولیم مصنوعات خریدنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کیا گیا ہے اس پر عمل کریں گے، ابھی تک پاکستان سودی نظام پر چل رہا ہے اور کوشش ہے کہ سودی نظام کو ختم کیا جائے، اسلامی نظام میں اثاثوں کو گروی رکھنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت سے اگر روس تیل لے سکتا ہے تو ہم بھی لے سکتے ہیں، روس سے تیل کے حصول کیلئے حکومت غور کر رہی ہے۔
اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کررہا مارکیٹ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، پاکستان ٹھیک ہوگا، سیاست بعد میں ہوتی رہے گی، ہم نے اقتدار سوچ سمجھ کر سنبھالا ہے، گزشتہ چار سال کی مس منیجمنٹ کی وجہ سے مہنگائی ہے، پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے میں کامیاب ہوگئے ہیں، ہم نے مہنگائی کو کم اور روپے کی قدر کو مستحکم کرنا ہے۔

جھوٹا آدمی ہر شخص پر الزام لگاتا، خود بڑا چور نکلا: بلاول کی عمران پر تنقید

کراچی: (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب خود مانتا ہے اس کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں تھا، اگر اختیار نہیں تھا تو استعفیٰ دینا چاہیے تھا، جھوٹا آدمی ہر شخص پر الزام لگاتا ہے، خود سب سے بڑا چور نکلا، ہم آگے جاکر بھی اس کٹھ پتلی کو شکست دیں گے، اس کی پوری کی پوری سیاست جھوٹ پر مبنی ہے، پہلے بھی سلیکٹڈ اب دوبارہ سلیکٹڈ ہونے کی جدوجہد کر رہا ہے۔
کراچی کے علاقے ملیر کے دورہ کے موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ملیر کے جوانوں نے ایک بار پھر پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا ہے، جیالوں نے ثابت کر دیا کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے، جیالوں نے ہردور کے فرعون، آمروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، سلیکٹڈ، نااہل، نالائق، ناجائز کٹھ پتلی کا بھی مقابلہ کیا، آپ نے نااہل کو تاریخی شکست دلوائی ہے، یہ نوجوان حقیقی آزادی کی اصل جنگ لڑ رہے ہیں، 2018 میں آپ کے ووٹ پر ڈاکہ مارا گیا تھا، چار سال پورے پاکستان کے عوام نے نقصان بھگتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا، ہم مل کر ملیر، کراچی کے عوام کی خدمت کریں گے، کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں، مجھے کارکنوں کی محنت پر فخر ہے، پی ڈی ایم جماعتوں کا بھی ساتھ دینے پر شکر گزار ہوں، ہم نے ملکر سلیکٹڈ کو ہرایا ہے، یہ ایک جھوٹا اور منافق آدمی ہے، اس شخص نے گھر بنانے کے بجائے غریبوں سے چھت چھینیں، جب ہم کہتے تھے اس کی ڈوریں کہیں اور سے ہلتی ہیں، تب نہیں مانتا تھا، ہر کسی کو چور، چور کہتا ہے، خود زکوٰۃ، چندہ چور نکلا، اس نے کینسر ہسپتال میں بھی ڈاکہ مارا، یہ اپنا کچن شوکت خانم ہسپتال سے چلاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کا تبدیلی کا نعرہ تباہی ہے، عمران کی سیاست نفرت، پیپلز پارٹی کی سیاست محبت کی سیاست ہے، آنے والا وقت ثابت کرے گا پاکستان نوجوان قیادت کے لیے تیار ہے، عمران جیسے سیاست دانوں کو ہمیشہ کے لیے ریٹائرمنٹ پر بھیجیں گے، وقت آگیا ہے عمران سیاست چھوڑ کر بنی گالہ میں مزہ کرے، آپ نے شہید بھٹو کی طرح میرا ساتھ دینا ہے، اگر ملیرکے نوجوان، خواتین ہمارے ساتھ تو دنیا کی کوئی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی، حکیم بلوچ کے تمام مسائل کو 90 دن کے اندر حل کرائیں گے
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ 90 دن کے اندر مجھے مسائل کو حل کرنے بارے رپورٹ دیں گے، ہم جانتے ہیں سیاسی دجال سازشیں کر رہے ہیں، اس وقت سیاست نہیں سیلاب متاثرین اہم ایشو ہے، ہمارے پاس وسائل بہت ہی کم ہیں، سیلاب متاثرین اس وقت مشکلات کا شکار ہیں، سیاست چمکانے والوں کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، عمران اپنی سیاست کھیلتے رہے ہم متاثرین کی مدد کرتے رہیں گے، ضمنی الیکشن اور آنے والا الیکشن بھی آپ کا ہے۔

ٹی 20 رینکنگ: محمد رضوان کی حکمرانی برقرار

لاہور: (ویب ڈیسک) قومی ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی ٹی 20 رینکنگ میں حکمرانی برقرار ہے۔
آئی سی سی کی جانب سے جاری رینکنگ کے مطابق پاکستان کے محمد رضوان کی ٹی 20 بیٹرز میں پہلی پوزیشن برقرار ہے اور رضوان کے رینکنگ پوائنٹس 853 سےبڑھ کر 861 ہوگئے، بھارت کے سوریا کمار یادیو کا دوسرا نمبر برقرارہے جب کہ پاکستان کے کپتان بابراعظم تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔
رینکنگ کے مطابق ٹی 20 باؤلرز میں آسٹریلیا کے جوش ہیزل ووڈ کی پہلی اور افغانستان کے راشد خان کی دوسری پوزیشن برقرار ہے، سری لنکا کے وانندو ہسارنگا تیسرے نمبر پر آگئے ہیں اور جنوبی افریقا کے تبریز شمسی چوتھے نمبر پر چلے گئے۔
رینکنگ میں حارث رؤف کا 14 اور شاداب خان کا 15 واں نمبر ہے جبکہ آل راؤنڈرز کی رینکنگ میں شکیب الحسن نمبر ون پر آگئے اور افغانستان کے محمد نبی کا دوسرا نمبر ہے۔

ہم حالت جنگ میں، سیلاب کے بعد بحالی کیلئے اربوں کے قرض درکار ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد:(ویب ڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی تباہی کے خلاف حالت جنگ میں ہیں، سیلاب کے بعد بحالی کے منصوبوں کیلئے اربوں روپے کے قرض درکار ہیں۔
وزیراعظم آفس کے اکاؤنٹس سے جاری سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کھڑے پانی کی تصویر کے ساتھ کئے گئے ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فنانشل ٹائمز کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ جو کچھ ہمارے مطالبات ہیں اور جو کچھ ہمیں موصول ہو رہا ہے اس میں بہت بڑا فرق ہے، ہم ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی تباہی کے خلاف حالت جنگ میں ہیں اور ہم اس کا شکا رہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج اگر ہم اس کا شکار ہیں تو کل کوئی دوسرا ملک اس کا شکار ہو سکتا ہے اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے بیرونی قرضوں کو ری شیڈول کرنے کی کوشش نہیں کر رہا لیکن اسے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں، پلوں اور دیگر انفراسٹرکچر کی تعمیر نو جیسے بڑے منصوبوں کے لیے خطیر رقم درکار ہے، سائنسدانوں نے سیلاب کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا نتیجہ قرار دیا ہے، ہم صرف موسمیاتی انصاف مانگ رہے ہیں، تلافی کا لفظ بالکل استعمال نہیں کر رہے۔
لاہور میں اپنی رہائشگاہ پر ”فنانشل ٹائمز” کو ایک انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم کسی بھی قسم کے اقدامات بشمول ری شیڈولنگ یا موریٹوریم کے لیے نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ اضافی فنڈز مانگ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات اور جو کچھ ہمیں موصول ہوا ہے اس کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جو روز بروز وسیع ہوتا جا رہا ہے، ہم واضح طور پر فکر مند ہیں کیونکہ اگر عدم اطمینان گہرے سیاسی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے اور ہم اپنے بنیادی تقاضوں اور اہداف کو پورا نہیں کر پاتے ہیں تو یہ ظاہر ہے کہ گھمبیر مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں یہ کسی بھی قسم کے خطرے کے لحاظ سے نہیں کہہ رہا لیکن اس کا حقیقی امکان موجود ہے، ہم صرف موسمیاتی انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں، ہم ”معاوضہ” کا لفظ بالکل استعمال نہیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جہاں سے بھی ہو سکے اضافی فنڈز حاصل کرے گا، ہم موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی تباہی کا شکار ہیں اور اس کے خلاف جنگ میں ہیں، کل کوئی دوسرا ملک بھی ہو سکتا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔

روسی صدر نے جبری الحاق شدہ یوکرین کے 4 شہروں میں مارشل لا نافذ کردیا

ماسکو: (ویب ڈیسک) صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرین کے اُن چار شہروں میں مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے جن کا فوجی قبضے کے بعد متنازع ریفرنڈم کے ذریعے روس سے الحاق کیا گیا تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی صدر نے امن عامہ کا بہانہ بناکر اپنے زیر قبضہ یوکرین کے شہروں خیرسون، زاپوریژیا، ڈونیٹسک اور لوہانسک میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔
گزشتہ ماہ کی 30 تاریخ کو متنازع ریفرنڈم کے ذریعے ان شہروں کو روس میں ضم کیا گیا تھا۔ ان چاروں شہروں میں روس کے حمایت یافتہ باغی یوکرین سے علیحدگی کے لیے کافی عرصے سے جدوجہد کر رہے تھے۔
رواں برس فروری میں روس نے یوکرین پر فوج کشی کی اور ان باغیوں کی مدد سے خیرسون، زاپوریژیا، ڈونیٹسک اور لوہانسک میں قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں یوکرینی شہری نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔
ان علاقوں کے الحاق کے باوجود روسی فوج کو یہاں مزاحمت کا سامنا تھا جسے مکمل طور پر کچلنے کے لیے صدر پوٹن نے ان شہروں میں مارشل لا نافذ کیا ہے۔

مجھے اس وقت بلایا جاتا ہے جب معیشت کا بٹھہ بیٹھ جاتا ہے، اسحاق ڈار

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہمیں امید ہے تمام سیاسی جماعتیں مل کر پاکستان کے لیے کام کریں گی۔ مجھے اس وقت بلایا جاتا ہے جب معیشت کا بٹھہ بیٹھ جاتا ہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی بہت بڑا چیلنج ہے اور معاشی ترقی میں ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس صدی میں گڈ گورننس ٹیکنالوجی کو بڑی باریکی سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ملک 4 سال پہلے کچھ اور تھا لیکن اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ملک کی معیشت کو بہتر کریں اور ہم نے یہ ذمہ داری لی ہے۔ ہم نے 5 دن کے اندر ہی بجٹ پیش کیا اور ایک مہینے میں ہم نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدہ کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ امید ہے تمام سیاسی جماعتیں پاکستان کے لیے مل کر کام کریں گی اور ملکی معیشت کے استحکام کے لیے متعدد اقدامات کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے دور میں پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا۔ ہمارے دور میں معیشت 6 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی تھی اور اگر پاکستان اس طرح ترقی کرتا رہتا تو 2030 تک دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو جاتا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے چارٹر آف اکانومی پر متفق ہونا ہو گا۔ اتحادی حکومت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے اور پاکستان کی بہتری کے لیے سب کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ ملک ہے تو سیاست ہے اور ملک نہیں ہو گا تو سیاست کہاں سے ہو گی۔ اس لیے پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس کی ترقی کے لیے کام کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مارکیٹ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں ہو گا۔ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے میں ہم کامیاب ہو گئے ہیں اور ہم نے اپنے ملک کے مفاد کو نقصان نہ پہنچانے کی قسم کھائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لگتا ہے آپ 18 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کو بھول گئے ہیں اور ہم نے وعدہ کیا تھا لوڈ شیڈنگ کو ختم کریں گے اور یہ ہم پورا کر دیا۔ ہم نے ضرب عضب اور ردالفساد آپریشن بھی کیا اب کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مجھے اس وقت بلایا جاتا ہے جب معیشت کا بٹھہ بیٹھ جاتا ہے تاہم ہم نے ماضی میں بھی چیزیں بہتر کی ہیں اور اب بھی بہتر کریں گے۔ یہ مہنگائی پونے 4 سال میں آئی ہے، مہنگائی نہ 6 مہینے میں آتی ہے نہ 6 مہینے میں جاتی ہے۔

ملک کی کسی بھی وزارت میں آڈیٹر تعینات نہیں: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں انکشاف

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کی کسی بھی وزارت میں آڈیٹر تعینات نہیں، 40 وزارتوں میں سے صرف 16 میں چیف فنانشل آفیسر موجود ہیں۔
پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا جس میں متعلقہ حکام نے بریفنگ دی۔
بریفنگ میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک کی کسی بھی وزارت میں آڈیٹر تعینات نہیں ہے، 40 وزارتوں میں سے صرف 16 میں چیف فنانشل آفیسر موجود ہیں۔
پی اے سی نے آڈیٹرز کی فوری تعیناتی، تمام وزارتوں اورمحکموں میں انٹرنل آڈٹ سمیت تمام ریکارڈ آڈیٹرجنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا کہ تمام وزارتوں کے آڈٹ میں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔
کمیٹی اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایف بی آر فیلڈ آفسز نے 7 ہزار کے قریب کیسز میں ویلیوایڈیشن ٹیکس وصول نہیں کیا جس سے قومی خزانےکو2 ارب 56 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، درآمدی اور ضبط شدہ اشیا کی بغیر ٹیکس وصولی کلیئرنس کی گئی۔
نور عالم خان نے کہا کہ ملوث افسران کےنام سامنے لانے چاہئیں تاکہ ان کی ترقی نہ ہو۔

سیاست کے لبادے میں قابض گروہ آئین و جمہوریت پر حملہ آور ہے، عمران خان

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیشہ کی طرح لانگ مارچ میں بھی ہمارا سوشل میڈیا کلیدی کردار ادا کرے گا، سوشل میڈیا نے خوف کے پردوں کو چاک کیا اور عوام کی آواز کو پہلے سے بڑھ کر گونج دی۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے یہ بات پی ٹی آئی شمالی پنجاب کے سوشل میڈیا کے ذمہ داران سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال سمیت پی ٹی آئی کے بیانیے کے خدوخال سمیت اہم متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاست کے لبادے میں قابض گروہ آئین و جمہوریت پر حملہ آور ہے، پاکستان کو بیرونی سازش سے سیاسی و معاشی بحران کی دلدل میں دھکیلا گیا، قوم نے سازش کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کی توہین پر شدید ردعمل دیا۔
عمران خان نے کہا کہ بیرونی سازش کامیاب ہوئی تو عوام کسی تحریک کے بغیر سڑکوں پر نکلی، امپورٹڈ سرکار نے عوام کو دبانے کیلئے بدترین فسطائیت کا سہارہ لیا، میڈیا میں موجود آزاد اور غیرجانبدار آوازوں کو دبا کرجبر کا سکوت طاری کرنے کی کوشش کی۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ اظہار کی آزادی کو سلب کرنا اب سیاسی طالع آزماؤں کیلئے ممکن نہیں رہا ہے، لازم ہے کہ کارکنان حقیقی آزادی کا پیغام ہر فرد تک پہنچائیں۔

ریکوڈک صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر، سپریم کورٹ کا لارجر بنچ تشکیل

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے ریکوڈک صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے 5 رکنی لارجر بنچ تشکیل دے دیا۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنی سربراہی میں صدارتی ریفرنس پر سماعت کیلئے پانچ رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا، سپریم کورٹ ریکوڈک صدارتی ریفرنس پر 25 اکتوبر کو سماعت کرے گی۔
بنچ میں جسٹس اعجاز الااحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیٰ آفریدی، جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے ریکوڈک ریفرنس کی منظوری دی تھی، وزیر اعظم کی ایڈوائس پر صدر عارف علوی نے ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجا تھا۔

نیب قانون کے مطابق ججز کو استثنیٰ نہیں: سپریم کورٹ پاکستان

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف درخواست پر سماعت میں جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ نیب قانون کے مطابق ججز کو استثنیٰ نہیں، ججز کے حوالے سے کوئی پردہ داری ہو تو علیحدہ بات ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی خصوصی بنچ نے نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا کوئی رہ گیا ہے جسے نیب قانون سے استثنی نہ ملا ہو، تحصیل کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے فیصلے بھی مستثنیٰ ہوگئے ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ بظاہر افسران کو عوامی عہدیداران کو فیصلہ سازی کی آزادی دی گئی ہے، نیب قانون کے مطابق ججز کو استثنیٰ نہیں، ججز کے حوالے سے کوئی پردہ داری ہو تو علیحدہ بات ہے۔
وکیل عمران خان خواجہ حارث نے کہا کہ ایسے فیصلہ سازوں سے ہی ماضی میں آٹھ ارب سے زائد ریکوری ہوئی، جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا ریکوری عوامی عہدیداران سے ہوئی تھی؟، خواجہ حارث نے جواب دیا کہ عوامی عہدیداروں کیلئے پیسے پکڑنے والوں سے ریکوری ہوئی تھی۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ہر سرکاری فیصلے کا کسی نہ کسی طبقے کو فائدہ ہوتا ہی ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ جب تک پہنچایا گیا فائدہ غیر قانونی نہ ہو تو کوئی قباحت نہیں، مخصوص افسر کو غیر قانونی فائدہ پہنچانے پر اس کیخلاف کارروائی نہ ہونا غلط ہے، اب تو کسی ریگولیٹری اتھارٹی اور سرکاری کمپنی پر نیب ہاتھ نہیں ڈال سکتا، نیب ترامیم کے ذریعے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے جرائم کو ختم کردیا گیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اثاثوں کا آمدن سے محض زائد ہونا کافی نہیں، اثاثہ جات میں کرپشن یا بے ایمانی کا ہونا بھی ضروری ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کل کو کوئی عدالت آکر کہے کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات پر پھانسی ہونی چاہیے۔
چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں بھی توازن ہوتا ہے، عام شہری کے حقوق ہیں تو دوسری طرف قومی مفاد اور معاشرے کے بھی بنیادی حقوق ہیں، دونوں کے مابین توازن ہونا چاہیے، آپ انفرادی انفرادی کو فائدہ ملنے کو معاشرے کے حقوق کیساتھ لنک کر رہے ہیں، اگر دیگر فورمز پر کیسز جائیں تو کیا ہوگا ہمیں اس پر معاونت درکار ہے، نیب قانون عوام مفاد کیلئے نقصان دہ کیسے ہے، یہ سوال اہم ہے۔
وکیل نے جواب دیا کہ کرپشن پر نیب کی کارروائی کی حد پچاس کروڑ روپے سے کم کرکے دس کروڑ بھی ہوسکتی ہے، ہمارا اعتراض نیب قانون کا اطلاق ماضی سے کرنے پر اعتراض ہے۔
بعدازاں سپریم کورٹ نے نیب قانون میں حالیہ ترامیم کیخلاف تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔