All posts by Khabrain News

پاک امریکا معاہدے پر دستخط، پاکستان کو 132 ملین ڈالرز قرض کی واپسی مؤخر

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سیلاب زدگان کی امداد اور انفرا اسٹرکچر کی بحالی سے متعلق پاکستان اور امریکا کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوگئے جس کے تحت پاکستان کو 132 ملین ڈالرز قرض کی واپسی مؤخرکردی۔
اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے کی ٹویٹ کے مطابق امریکی سفیرڈونلڈ بلوم نے ’جی 20 ڈیٹ سروس سسپینشن انیشیٹو‘ کے تحت دوسرے پاک امریکا معاہدے پر دستخط کردیے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو 132 ملین ڈالرز قرض کی واپسی مؤخرکردی۔
امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے اپن ٹویٹ میں کہا ہے ہماری ترجیح پاکستان میں اہم وسائل کو ری ڈائریکٹ کرنا ہے۔

ایون فیلڈ ریفرنس سے نواز شریف اور مریم کو بدنام کرنے کیلئے استعمال کیا گیا: وزیراعظم

لاہور: (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس سے نواز شریف اور مریم نواز کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ ایون فیلڈ ریفرنس اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کس طرح احتساب کے نظام کو مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
وزیراعظم نے مزید لکھا کہ اس طرح کے انتقام پر مبنی عمل نے ملک کے جمہوری ارتقا میں خلل ڈالا اور سیاسی عدم استحکام کا باعث بنا جس نے سیاست کو خوفناک نقصان پہنچایا۔

سیلاب سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی بڑا چیلنج ہے: این ڈی ایم اے حکام

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کو این ڈی ایم اے حکام نے بتایا ہے کہ سیلاب سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی بڑا چیلنج ہے، 15 اکتوبر تک نقصانات کا سروے مکمل کر دینگے، گیسٹرو کی بیماری سیلاب زدہ علاقوں میں بڑھ گئی۔
چیئر پرسن کشور زہرہ کے زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں این ڈی ایم اے حکام نے سیلاب پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بارش کا 30 سال ریکارڈ کے مطابق 137 ملی میٹر تک بارشیں ہوئی، اس مرتبہ عام روٹین سے 30 فیصد تک بڑھ کر بارش ہونیکی توقع تھی، مون سون سیزن میں 400 فیصد تک زیادہ بارشیں پاکستان میں ہوگئی، صوبہ سندھ میں تیس سال میں 123.3 ملی میٹر اوسط بارش ریکارڈ تھی، 160 ملی میٹر کی بارشیں سندھ میں توقع تھی جو 696 ملی میٹر سے زیادہ ہوئی، چار سے پانچ ہفتے لگاتار بارش ہوئی جس سے زمین کی پانی جذب کرنیکی صلاحیت بھی ختم ہوگئی۔
این ڈے ایم اے حکام کے مطابق اب تک تقریبا بارشوں سے متاثرہ علاقہ 5.2 ملین ایکڑ ہے،اب تک 7 لاکھ 20 ہزار لوگوں کو ریسکیو کیا، 28 ستمبرتک ڈیٹا کے مطابق 1 ہزار 666 افراد جاں بحق ہوا جس میں 615 بچے شامل ہیں، اب جو اموات ہورہی ہیں وہ گھروں کی چھتیں گرنے سے ہو رہی ہیں، ہم عوامی آگاہی پیغام لوگوں کو بھیج رہے ہیں کہ چھت گرنے سے کوئی اموات نہ ہوں، 12 ہزار 664 افراد زخمی ہوئی ہیں، سندھ میں 8 ہزار 422 افراد زخمی ہوئے، ملک بھر میں 13 ہزار 73 کلومیٹر سڑکیں متاثر ہوئی، یہ مرکزی شاہراہیں ہیں، 410 پل ملک بھر میں تباہ ہوئے ہیں، 105 سمال ڈیمز کو نقصان پہنچا ہے، ملک بھر میں 20 لاکھ گھر متاثر ہوئے، 9 لاکھ 73 ہزار لائیو سٹاک متاثر ہوا، اسوقت ڈائیریا، کالرا اور جلدی امراض پھیل رہی ہیں، بخار اور ملیریا کی دوائی کی اسوقت قلت ہے، کوہستان میں پھنسے پانچ بھائیوں کی موت کا معاملہ کمیٹی میں اٹھا دیا گیا۔
رکن کمیٹی محمد ابو بکر نے معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کوہستان میں سیلاب کے باعث پھنسے پانچ بھائی مددوکے منتظر رہے ، این ڈی ایم اے ان کو ایک جہاز تک فراہم نہ کر سکا، دنیا میں بھی اس سے ملک کی بدنامی ہوئی۔
این ڈی ایم اے حکام نے کہا کہ بڑے پیمانے پر تباہی ہوچکی ہے، تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی بڑا چیلنج ہے، پندرہ اکتوبر تک نقصانات کا سروے مکمل کر دینگے، گیسٹرو کی بیماری سیلاب زدہ علاقوں میں بڑھ گئی، جہاز سے سامان پھینکنے کے معاملے پر چیئر پرسن کمیٹی نے این ڈی ایم اے حکام سے مکالمہ کیا اور کشور زہرہ نے کہا کہ متاثرین کو جہاز کے ذریعے سامان پھینگا گیا کیا وہ قابل استعمال رہا، وہ سارے تھیلے پھٹ جاتے تھے عوام کو کیا ملا ہوگا۔
این ڈی ایم اے حکام نے کہا کہ ایمرجنسی صورتحال میں ایسا کیا گیا، جہاز کو ایک حد نیچے لا سکتے تھے اس سے نیچے خطرہ ہو سکتا تھا، چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ جہاز کو بچانے کیلئے سامان کے تھیلے اتنی بلندی سے پھینکے وہ سارے پھٹ گئے، این ڈی ایم اے حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس ہیلی محدود تعداد میں ہیں انکو بچانا ضروری تھا۔

ظلم کیخلاف نکلنے کیلئے قوم کو جلد کال دوں گا پھر واپسی نہیں ہو گی: عمران خان

پشاور: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ظلم کیخلاف نکلنے کیلئے قوم کو جلد کال دوں گا۔ جب کال دوں گا تو پھر واپسی نہیں ہو گی، قوم پر جو ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے یہ میں کبھی برداشت نہیں کروں گا۔
پشاور میں ایڈورڈ کالج کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں کالج کے پرنسپل کا شکریہ ادا کرتا ہوں مجھے یہاں دعوت دی، میلو اور ڈیزل کو بھی دعوت دیں اور ڈیزل سے پوچھیں چوروں کے ساتھ کیسے کھڑے ہو گئے ہو۔ ہم میلو اور ڈیزل پر ضرور بات کریں گے لیکن آج میں لیڈر شپ پر بات کرنے آیا ہے۔ دنیا کے سب سے لیڈر ہماے پیارے نبی ﷺ رہے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے چیز جو کی وہ قانون کی بالادستی ہے، ریاست مدینہ قانون وانصاف پر قائم کی گئی ۔ جتنے بہتر لیڈر ہوتے ہیں اتنی ہی بہتر تعلیم ہوتی ہے اور قانون کی بالادستی سے انسان اور جانوروں کے معاشرے میں فرق پیدا کرتا ہے جبکہ قانون کے معاشرے میں سب قانون کے نیچے ہوتے ہیں۔
پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ چوروں، ڈاکووں کو این آر او دیا گیا ہے، ان سے ڈیل کی گئی ہے اور آج چور اور ڈاکو وطن واپس آ رہے ہیں ان کے کیسز کو ختم کیا جا رہا ہے اور اربوں روپے لوٹ کر باہر جانے والوں کو این آر او سے واپس لایا جا رہا ہے۔ آج پاکستان بدترین مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، قوم نیچے جا رہی ہے اور ابھی بھی پیٹ نہیں بھرا ہے، مریم اپنے داماد کے لیے پیسہ بنا رہی ہے۔ جانور غیر سیاسی ہوتے ہیں اور جو ظلم کے خلاف کھڑا نہیں ہوتا ان میں اور بھیڑ بکریوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں قوم کو تیار کر رہا ہوں لیکن مجھے اکیلا بھی نکلنا پڑا تو ان کے خلاف نکلوں گا کیونکہ میں جیل جانے سے نہیں ڈرتا ہوں، میری کال کا انتظار کرنا۔ چوروں کے ذریعےقوم پر ڈاکے کو کسی صورت برداشت نہیں کروں گا۔
انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی بریچ ہوئی ہے تومطلب دشمن کے پاس ڈیٹا چلا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں تباہی کا راستہ آرہا ہے اور ملک کا مستقبل تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ آج پاکستان میں عدالت نے مریم نواز کو بری کردیا ہے جبکہ لندن فلیٹس پرمریم کہتی ہےلندن توپاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں ہے اور حسین نواز کہتا ہے مریم اپارٹمنٹ کی مالک ہیں۔ ان کے خلاف آواز اٹھانے پر بول نیوز کو بھی بند کیا گیا ہے۔

سینیٹ اجلاس، ڈاکٹر شہزاد وسیم نے سائفر کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سینٹ میں قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم نے سائفر کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا،سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہ یہ رجیم چیج تبدیلی کے مجرم ہیں،تحقیقات کرائیں کہ سائفر کی حقیقت کیا تھی۔
سینیٹ کا اجلاس چئیرمین صادق سنجرانی کی زیرصدرات ہوا،قائد خزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں میں آئین قانون پارلیمان جمہوریت سب کے چہرے سے نقاب اتر گیا، آئین قانون پارلیمان جمہوریت سے کس طرح کھیلا جاتا ہےجمہوریت میں سے جمہور نکال کر بچہ جمہورا بٹھا دیاایوان میں قانون لاکر اسے بلڈوز کرتے ہیں، بولنے نہیں دیتےانہوں نے این آر او 2 کا قانون یہاں بلڈوز کیاانہوں نے بڑی تیزی سے اپنے کیسز دفن کر کے ساتھ معیشت کو دفن کیا ہےایون فیلڈ کو ایک استعارہ بنا کھڑا ہے انکے پاس منی ٹریل نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آڈیو لیکس نے مہر ثبت کر دی ہےآڈیو لیکس میں ثابت ہوا کہ انکے بزنس مفادات پاکستان کے مفاد سے افضل ہیںاپنی مشین بھارت سے منگوانی ہے آج کسان سڑکوں پر ہے لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی،پاکستانی قوم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اپنی حالات خود بدلیں گے، جمہور کی آواز ہو گی اپنی چوری کی معافی پر مٹھائیں کھلائی جارہی ہیں اس حکومت کی کوئی اخلاقی اتھارٹی باقی نہیں رہی،ہم بوکھلاہٹ کا شکار نہیں،حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہےیہ رجیم چیج تبدیلی کے مجرم ہیں،تحقیقات کرائیں کہ سائفر کی حقیقت کیا تھی ہم سائفر پر ایوان میں بحث کرنے تیار ہیں۔

کوہلو میں بم دھماکا، ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی

کوہلو: (ویب ڈیسک) بلوچستان کے ضلع کوہلو کے مرکزی بازار میں بم دھماکے کے باعث ایک افراد جاں بحق ہو گیا جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق کوہلو کے مرکزی بازار میں ہونے والا دھماکا مٹھائی کی دکان میں ہوا، اس دوران 20 افراد شدید زخمی ہوئے جن میں سے 12 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جنہیں طبی امداد کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
دھماکے کے باعث ایک شخص جاں بحق ہو گیا ہے جس کی نعش کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے باعث دکان زمین بوس ہو گئی، اس دوران کئی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، لیویز اور ایف سی نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جب کہ ڈی ایچ کیو میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

منی لانڈرنگ کیس: مونس الٰہی کیخلاف چالان سماعت کیلئے منظور

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی کیخلاف منی لانڈرنگ کیس کے معاملے پر لاہور کی بنکنگ کورٹ نے ملزمان کے خلاف ایف آئی اے کا چالان سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ملزمان کو 11 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
بنکنگ جرائم کورٹ کے جج اسلم گوندل نے چالان سماعت کے لیے منظور کیا، ایف آئی اے کی جانب سے چودھری مونس الٰہی سمیت دیگر کے خلاف تحقیقات مکمل کر کے عدالت پیش کیا، عدالت نے کارروائی کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر سمیت نامزد ملزمان کو طلب کرلیا۔
عدالت نے 11 اکتوبر کو ملزمان کو پیش ہونے کا سمن جاری کردیا، دیگر ملزمان میں پرویز الٰہی، مظہر عباس، واجد بھٹی، نواز احمد کو نامزد کیا گیا، ایف آئی اے نے گزشتہ روز مونس الٰہی کے خلاف چالان جمع کروایا تھا۔

عوامی حمایت کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، شیخ رشید

راولپنڈی: (ویب ڈیسک) سابق وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ عوامی حمایت کے بغیر ملک نہیں چل سکتا۔
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ پاکستان میں ہر کیس کے پیچھے بڑا چہرہ ہوتا ہے اور لوگ چہرہ دیکھتے ہیں، کیس نہیں۔
انہوں نے کہا کہ 50 کروڑ سے کم کرپشن کی کھلی چھٹی ہے اور یہ مٹھائی بھی اپنے گھرمیں بانٹتے ہیں۔ جہاں ہر چیز بکتی ہو، وہاں قوم نہیں بنتی کیونکہ عوامی حمایت کے بغیر ملک نہیں چل سکتا۔
شیخ رشید احمد نے کہا کہ کمیشن خور مافیا ہمیشہ این آر او لے لیتا ہے جبکہ جیلیں صرف غریبوں کے لیے بنی ہیں۔

شریف، زرداری خاندان کے بیرون ملک پیسوں کا پاکستانیوں کو علم ہی نہیں، فواد چودھری

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ شریف، زرداری خاندان کے باہر موجود پیسوں کا پاکستانیوں کو علم ہی نہیں۔
پی ٹی آئی کے رہنما فواد چودھری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف درخواست دے چکے ہیں اور ایون فیلڈ ریفرنس میں بریت انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ شہباز شریف نے کہا تھا والد غریب اور محنت کش آدمی تھے۔
انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کی 1998 تک کمپنیاں بڑھ کر 27 ہو گئیں جبکہ شہباز شریف سمیت 7 بھائیوں نے محنت کی اور اتفاق فاؤنڈری کی بنیاد رکھی اور حکومت پاکستان کی طرف سے فاؤنڈری چلانے کے لیے 50 کروڑ روپے قرض دیا گیا لیکن جہاں 7 بھائیوں کی ایک فیکٹری تھی وہاں 27 کمپنیاں بن گئیں۔
فواد چودھری نے کہا کہ 1990 میں نواز شریف وزیر اعظم بنے تو انہوں نے اسلام آباد لاہور موٹروے بنانے کا سوچا اور اسلام آباد لاہور موٹروے اس وقت ایشیا کا سب سے مہنگا کنٹریکٹ تھا لیکن اس دوران گفتگو شروع ہوئی کہ ملک کا پیسہ لندن جا رہا ہے اور شریف خاندان کی منی لانڈرنگ میں اہم کردار اسحاق ڈار کا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سے 15 ملین ڈالر منتقل کیے گئے اور 1994 کو تحقیقات کا عمل شروع ہوا اور مشرف دور میں پہلا ریفرنس دائر ہوا۔ 2000 میں یہ ریفرنس عدالت پہنچا ہی تھا کہ سعد حریری اور ایک نمائندہ پاکستان آئے اور جب پیسہ پاکستان سے گیا تو اس کے دو حصے ہوئے۔ ایک حصہ پارک لین میں پرآپرٹی خریدی گئی دوسرا پاکستان واپس آیا۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت آئی تو رحمان ملک نے حدیبیہ تحقیقات شروع کیں اور شہباز شریف نے حلف لیا اور 2 دن بعد ہی منی لانڈرنگ کیس کا وکیل تبدیل ہو گیا۔ 3 اپریل 2016 کو جرمن اخبار نے بڑا اسکینڈ ل شائع کیا جس میں پتہ چلا کہ دنیا کے کئی حکمرانوں نے پانامہ میں شیل کمپنیاں بنائی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کی بیٹیوں اور بیٹوں نے پاکستان میں تعلیم حاصل کی اور جب شریف خاندان کے بیٹوں سے حساب کا پوچھا تو کہا گیا کہ ہم پاکستانی شہری نہیں۔ جعلی آفشور کمپنیاں بنا کر حکمرانوں نے بیرون ملک جائیدادیں خریدیں اور شریف، زرداری خاندان کے باہر پڑے پیسے کا پاکستانیوں کو علم ہی نہیں۔

بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

سری نگر: (ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں مزید 2 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے اس طرح صرف دو روز میں شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد 5 ہوگئی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنت نظیر وادی کے ضلع بارہ مولا میں قابض بھارتی فوج نے بلاجواز سرچ آپریش کیا جس کے دوران چادر و چار دیواری کے تقدس کے پامال کرتے ہوئے گھر گھر تلاشی لی گئی اور موبائل، نیٹ سروس منقطع کردی گئی۔
سرچ آپریشن کے دوران قابض بھارتی فوج نے ایک گھر پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے۔ بدھ کے روز بھی ضلع کلگام میں سرچ آپریشن کے دوران تین نوجوانوں کو شہید کردیا گیا تھا۔
گزشتہ ماہ بھی قابض بھارتی فوج نے 19 نوجوانوں کو شہید کیا تھا جن میں سے 8 کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا تھا جب کہ سیکیورٹی فورسز ان میں سے کسی بھی نوجوان پر دہشت گردی کے الزام کو ثابت نہیں کرپائی تھی۔
واضح رہے کہ مودی کی فاشسٹ حکومت نے سیاہ قانون کے ذریعے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت خو ختم کرکے اسے تین حصوں میں تقسیم کیا اور وفاقی اکائیاں تسلیم کی تھیں جس کے بعد سرچ آپریشن کے ذریعے کشمیریوں کی نسل کشی کا عمل جاری ہے۔