All posts by Khabrain News

بھارت میں سبزی خور مگرمچھ کی آخری رسومات ادا

کیرالہ: (ویب ڈیسک) بھارت کی ہندو برادری نے مندر کے تالاب میں کئی برس سے مقیم مگرمچھ کی آخری رسومات ادا کردیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مگر مچھ کی انسانوں کی طرح آخری رسومات کی ادائیگی کا واقعہ بھارتی ریاست کیرالہ میں پیش آیا جہاں مندر کے تالاب میں کئی برس سے موجود 75سالہ بابیہ نامی مگرمچھ طویل علالت کے بعد دم توڑ گیا۔
مگرمچھ اتوار کے روز تالاب میں مردہ حالت میں پایا گیا جس کے بعد اسے فریزر میں رکھا گیا تاکہ عوام مگرمچھ کا آخری دیدار کرسکیں، اس دوران شہریوں نے مگرمچھ پر پھول بھی نچھاور کیے بعدازاں مگر مچھ کی آخری رسومات ہندو رسم و رواج کے مطابق ادا کی گئیں۔
مندر کے پجاریوں کا کہنا ہے کہ مندر کے تالاب میں رہنے والا مگرمچھ تالاب میں مچھلیاں اور کچھوے ہونے کے باوجود انہیں کھاتا نہیں تھا بلکہ مگر مچھ کو مندر انتظامیہ کی جانب کھانا فراہم کیا جاتا تھا جو اکثر ابلے ہوئے چاول اور سبزیوں پر مشتمل ہوتا تھا۔

ہیلمٹ والا سبزی فروش سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا

نئی دہلی: (ویب ڈیسک) چالان کے ڈر سے ہیلمٹ پہن کرٹھیلے پر سبزی فروخت کرنے والے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
بھارت میں گلیوں میں گھوم کر ٹھیلے پر سبزی بیچنے والے نے ٹریفک پولیس کے چالان کے ڈر سے ہیلمٹ پہن لیا۔ سبزی فروش کی ہیلمٹ پہن کر سبزی بیچنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر مقبول ہوگئی۔
سبزی والے کو ہیلمٹ میں دیکھ کر لوگوں نے پوچھا کہ ہیلمٹ کیوں پہنا ہے تو اس نے جواب دیا کہ آگے جاؤں گا تو پولیس والے روک لیں گے۔ لوگوں کے سمجھانے پر ٹھیلے والا بمشکل ہیلمٹ اتارنے پر راضی ہوا۔
ہیلمٹ والے سبزی فروش کی ویڈیو اب تک ہزاروں افراد دیکھ اور پسند کرچکے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین نے سبزی فروش کی معصومیت پر اس کے لئے پسندیدگی کا اظہارکیا۔

دبئی میں الیکٹرک فلائنگ کار کا کامیاب تجربہ

دبئی: (ویب ڈیسک) الیکٹرک فلائنگ کار کا تجربہ کامیاب ہوگیا، سائنس دانوں نے دبئی کے مرینا ساحل پر فلائنگ کار کو کامیابی اڑا کر لینڈ کروایا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں چینی انجینئرز کی بنائی ہوئی الیکٹرک فلائنگ کار کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے۔
تجربے کے دوران کار کو عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ کرائی گئی جو کامیاب رہی۔
رپورٹ کے مطابق چینی انجینئرز کی تیار کردہ الیکٹرک فلائنگ کار مصنوعی ذہانت کنٹرول سسٹم سے لیس ہے، گاڑی میں صرف دو افراد کی سوار ہوسکتے ہیں اس کے علاوہ خودمختار طریقے سے بغیر کسی پائلٹ کے بھی اڑان بھرسکتی ہے۔
فلائنگ بنانے والی چینی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ آئندہ تین سے چار برسوں میں یہ گاڑی دبئی کی فضاؤں میں اڑتی ہوئی نظر آئے گی۔

میسیجنگ پلیٹ فارم ’’سِگنل‘‘ ایک نئے فیچر کی آزمائش میں مصروف

کیلیفورنیا: (ویب ڈیسک) میسیجنگ پلیٹ فارم سِگنل ایک نئے فیچر کی آزمائش کر رہا ہے جو انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کے اسٹوریز فیچرز سے انتہائی مشابہت رکھتا ہے، نئے فیچر کے تحت صارفین ویڈیو، تصاویر اور ٹیکسٹ میسج شیئر کرسکیں گے جو 24 گھنٹے بعد غائب ہو جائیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سِگنل کا کہنا تھا کہ ایپ کا نیا فیچر بِیٹا آزمائش کے لئے تیار ہے اور اس میں آنے والا کونٹینٹ اینڈ ٹو اینڈ اِنکریپٹڈ ہوگا، یہ فیچر صارفین کو ان کی پرائیویسی پر سمجھوتہ کئے بغیر رابطے کا ایک نیا راستہ دے گا۔
سِگنل کی جانب سے یہ اعلان سِگنل فورمز پر ایک پوسٹ پر کیا گیا جس میں واضح کیا گیا کہ وہ لوگ جو اسٹوریز میں دلچسپی نہیں رکھتے وہ اس فیچر کو مکمل طور پر غیر فعال کرسکتے ہیں، ایسا کرنا نہ صرف ان کو خود اسٹوریز لگانے سے روکے گا بلکہ دیگر افراد کی اسٹوریز دِکھانے سے بھی روکے گا۔
سِگنل کا نیا اسٹوریز فیچر فی الحال صرف ایپ کا بیٹا ورژن استعمال کرنے والوں کو دستیاب ہے اور صارفین کے لئے اس فیچر کا اجراء آئندہ ہفتوں میں متوقع ہے
تیزی سے مقبول ہوتا اسٹوریز کا فیچر جو فیس بک اور انسٹاگرام کا ایک اہم حصہ ہے حقیقت میں اس کی بنیاد ملٹی میڈیا انسٹنٹ میسیجنگ ایپ اسنیپ چیٹ نے رکھی تھی۔

ترسیلات زر میں کمی آنا شروع ہوگئی

کراچی: (ویب ڈیسک) ترسیلات زر میں کمی آنا شروع ہوگئی، جولائی سے ستمبر کے دوران ترسیلات 6 اعشاریہ 3 فی صد کم ہوئیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ستمبر میں ترسیلات 2 ارب 40 کروڑ ڈالر رہیں، ستمبر میں ترسیلات ماہانہ بنیاد پر 10 اعشاریہ 50 فی صد اور سالانہ بنیاد پر 12 اعشاریہ 3 فی صد کم ہوئیں۔
رواں مالی سال جولائی سے ستمبر کے دوران ترسیلات 7 ارب 70 کروڑ ڈالر رہیں، جولائی سے ستمبر تک ترسیلات گزشتہ مالی سال اسی عرصے کے مقابلے میں 6 اعشاریہ 3 فی صد کم ہوئیں۔

انٹربینک: روپیہ مضبوط، ڈالر مزید سستا ہوکر 216 روپے 80 پیسے کا ہوگیا

کراچی: (ویب ڈیسک) انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔
22 ستمبر سے انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری ہے۔
گزشتہ روز کاروباری ہفتے کے آغاز پر انٹربینک میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر ایک روپے 95 پیسے سستا ہوکر 217 روپے 97 پیسے پر بند ہوا۔
آج منگل کے روز بھی انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی جارہی ہے اور کاروبار کے دوران انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں مزید کمی ہوئی اور ڈالر ایک روپے 17 پیسے سستا ہوکر 216 روپے 80 پیسے کا ہوگیا۔
انٹربینک میں 22 ستمبر سے اب تک ڈالر 22 روپے 71 پیسے تک سستا ہوچکا ہے۔

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی مزار قائد پر حاضری

کراچی: (ویب ڈیسک) گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی مزار قائد پر حاضری دی اور مزار پر فاتحہ خوانی کے ساتھ ملک و صوبہ کی ترقی اور سلامتی کے لئے دعاکی۔
حلف لینے کے بعد سندھ کے چوتیسویں گورنرسندھ کامران خان ٹسوری نے مزار قائد پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ گورنر سندھ نے مزار پر رکھی مہمانوں کی کتاب میں بابائے قوم کے بارے میں تاثرات بھی درج کئے۔
گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ قائد اعظم نے اپنی ولولہ انگیز قیادت سے محروم مسلمانوں کو آزادی دلائی جب بابائے قوم نے برصغیر کے مسلمانوں کی قیادت سنبھالی وہ مایوسی کا شکار تھے محمد علی جناح ؒ نے ایک منتشر قوم کی کمان سنبھال کر ان میں آزادی کا جوش و جذبہ پیدا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا قیام قائد اعظم ہی کی عظیم قائدانہ صلاحیتوں کا ثمر ہے ،ملک کے موجودہ حالات قائد کے رہنما اصولوں کو اپنانے کا تقاضہ کرتے ہیں۔ سندھ میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا ئی ہے ،قائد کے رہنما اصول کام ، کام اور صرف کام سے اس قدرتی آفت سے نبرد آزما ہوا جاسکتا ہے۔

اوبر کا پاکستان کے پانچ بڑے شہروں میں سروس بند کرنے کا اعلان

لاہور : (ویب ڈیسک) معروف آن لائن کیب سروس اوبر نے لاہور کے سوا تمام شہروں میں سروس بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
اوبر ٹیکنالوجیز نے پاکستان میں صارفین کو مطلع کیا کہ کمپنی کراچی، اسلام آباد، فیصل آباد، ملتان اور پشاور میں اپنی خدمات فوری طور پر بند کر رہی ہے۔ تاہم، فرم نے لاہور میں کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کمپنی نے ایک بیان میں کہ ہم اپنے ذیلی کمپنی ’کریم‘ کے ساتھ ان پانچ شہروں کی خدمت جاری رکھیں گے اور لاہور میں Uber ایپ اپنی سروسز جاری رکھے گی۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ اوبر کی ٹیموں کے لیے ایک مشکل وقت ہے جنہوں نے پچھلے کچھ سالوں میں اس کاروبار کو بنانے کے لیے ناقابل یقین حد تک محنت کی ہے۔
کمپنی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مسافر اور ڈرائیورز پارٹنرز ان پانچ شہروں میں کریم ایپ استعمال کر سکتے ہیں جب کہUber ایپ لاہور میں ان مشکل وقتوں میں کمانے والوں کی مدد کے لیے نئی پروڈکٹ لانچ کے ساتھ دستیاب رہے گی۔
بیان میں کہا گیا، “ہم کراچی، ملتان، فیصل آباد، پشاور اور اسلام آباد میں Uber ایپ استعمال کرنے والے رائیڈرز اور ڈرائیور پارٹنرز کے ساتھ بات چیت کریں گے کہ وہ اپنے شہر میں کریم ایپ کو کس طرح استعمال کر سکتے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ 11 اکتوبر 2022 سے کراچی، اسلام آباد، فیصل آباد، ملتان اور پشاور میں Uber سروسز بند ہو جائیں گی۔

صدر مملکت کا سائفر سے متعلق خبروں کا نوٹس

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سائفر سے متعلق خبروں کا نوٹس لیے لیا۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سائفر کے حوالے سے بیان کو مکمل طور پر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور سیاق و سباق سے ہٹ کر بیانات کو پیش کرنا مزید خلیج کا باعث بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ سازش کے بارے میں شبہ ہے اور حتمی فیصلہ تحقیقات کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے، چیف جسٹس کو خط لکھنے سے لے کر اب تک میرے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ خط میں سپریم کورٹ سے معاملے کی مکمل انکوائری کرنے کی درخواست کی تھی اور پختہ یقین ہے کہ سائفر کے معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ معاملے کو سپریم کورٹ اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ سازش کا کوئی شک و شبہ نہیں تھا اور معاملہ ملک کے سابق وزیر اعظم کی جانب سے اٹھایا گیا تھا۔ تمام دستیاب شواہد سمیت پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ سائفر کے قومی سطح پر اثرات ہوئے اور سیاسی ہلچل پیدا ہوئی جبکہ سپریم کورٹ سے جاری کردہ ڈیمارش سے ہٹ کر بھی انکوائری کی درخواست کی۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی ہے صدر مملکت کے الفاظ کو سنجیدہ معاملے پر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا جس کے سنگین مضمرات ہوئے۔

سپریم کورٹ نے نیب سے ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) سے 1999 سے لے کر جون 2022 تک تمام ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا۔
سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب قانون میں تبدیلی سے بے نامی دار کی تعریف مشکل بنا دی گئی ہے اور معاملہ اہم سیاسی رہنماؤں کے کرپشن میں ملوث ہونے کا ہے۔ جہاں عوامی پیسے کا تعلق ہو وہ معاملہ بنیادی حقوق کے زمرے میں آتا ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کس آئینی شق کو بنیاد بنا کر نیب قانون کو کالعدم قرار دیں؟
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ معاشی پالیسز کو دیکھنا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے اور اگر کسی سے کوئی جرم ہوا ہے تو قانون میں شفاف ٹرائل کا طریقہ کار ہے۔
پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے کہا میں معاشی پالیسی کے الفاظ واپس لیتا ہوں۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کہیں ایسا نہ ہو پورا کیس مکمل ہو جائے اور بعد میں پتہ چلے بنیادی حقوق کا تو سوال ہی نہیں تھا، نیب ترامیم کے ذریعے کس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟ فرض کریں پارلیمنٹ نے ایک حد مقرر کردی اتنی کرپشن ہو گی تو نیب دیکھے گا۔ سوال یہ ہے کہ عام شہری کے حقوق کیسے متاثر ہوئے ہیں؟
پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ نیب قانون سے زیر التوا مقدمات والوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ کیا کوئی ایسی عدالتی نظیر ہے جہاں شہری کی درخواست پر عدالت نے سابقہ قانون کو بحال کیا ہو اور شہری کی درخواست پر عدالت پارلیمنٹ کا بنایا ہوا قانون کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پبلک منی کا معاملے پر عدالت قانون سازی کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
عدالت نے نیب سے 1999 سے لے کر جون 2022 تک تمام ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا کہ کتنے کرپشن کیسز ہیں جن میں سپریم کورٹ تک سزائیں برقرار رکھی گئی ہیں اور اب تک نیب قانون کے تحت کتنے ریفرنسز مکمل ہوئے جبکہ نیب قانون میں تبدیلی کے بعد کتنی تحقیقات مکمل ہوئیں۔ ان سب کا ریکارڈ پیش کیا جائے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ایف اے ٹی ایف نے ہمارے قوانین میں نقائص کی نشاندہی کی اور قوانین میں بہتری کے لیے وہ معیار اپنانا ہوگا جو دنیا بھر میں اپنایا گیا ہے۔ کیا نیب ترامیم سے جان بوجھ کر قانون میں نقائص پیدا کیے گئے؟ اور کیا نیب ترامیم مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی ہیں؟ اربوں روپے کرپشن کے 280 کیسز پہلے ہی واپس ہوچکے ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پارلیمان سے بدنیتی منصوب کر رہے ہیں؟
چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 1996 میں ایک کیس میں زندہ درخت کی مثال دی کہ درخت گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھے گا۔ پاکستان میں مختلف مافیاز ہیں، یہ ان پرتشدد ہیں بھی اور نہیں بھی لیکن میں کسی مافیا کا نام نہیں لینا چاہتا۔ دنیا میں جائیداد اور دولت پر ٹیکس لیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب وہ نکات ہیں جو سیاسی نوعیت کے ہیں اور پارلیمان نے طے کرنے ہیں جبکہ احتساب تندرست معاشرے اور ریاست کے لیے اہم ہے۔ کرپشن دنیا میں ہر جگہ موجود ہے لیکن نیب ترامیم میں کچھ نقائص بھی موجود ہیں اور نقص یہ بھی ہے کہ کچھ سرکاری ملازمین جیلیں کاٹ کر بری ہو چکے ہیں اور کچھ کاروباری شخصیات بھی نیب سے مایوس ہوئی ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیب ترامیم میں کچھ چیزیں بھی ہیں جن سے فائدہ ہوا تاہم ہم نے توازن قائم کرنا ہے۔ کچھ ایسی ترامیم بھی ہیں جو سنگین نوعیت کی بھی ہیں جیسے پلی بارگین اور 500 ملین روپے کی حد مقرر کرنے سے ملزمان کو فائدہ ہوا۔