All posts by Khabrain News

12 اکتوبر ملکی درد ناک تاریخ سے سبق سیکھنے کا دن ہے: نواز شریف

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ 12 اکتوبر کا دن پاکستان کی درد ناک تاریخ سے سبق سیکھنے کا دن ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں سابق وزیراعظم نے لکھا کہ آج 12 اکتوبر کے دن آئین روندا گیا، قانون توڑا گیا، پارلیمنٹ توڑی گئی۔ چار بار ہم نے یہ تماشہ دیکھا۔ پھر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان پیچھے کیوں رہ گیا؟ ملک ترقی کیوں نہیں کرتا؟
انہوں نے مزید لکھا کہ آج کا دن پاکستان کی اس درد ناک تاریخ سے سبق سیکھنے کا دن ہے۔ بہت ٹھوکریں کھا لیں،بہت دکھ سہہ لئے۔ اب بھی وقت ہے۔

ہم نے عمران خان کی تمام سازشیں ناکام بنا دیں، مولانا فضل الرحمان

پشاور: (ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکوت کو سازش کے تحت ہٹایا نہیں گیا بلکہ اسے سازش کے تحت اقتدارمیں لایا گیا تھا اور اب وہ دوبارہ اقتدارمیں نہیں آسکے گا۔
میلہ منڈی تخت بھائی میں منعقدہ انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے اسے اقتدارسے نکالا ہے، عمران خان کا ملک دشمن ایجنڈا کبھی بھی پورانہیں ہوگاہماراواسطہ عجیب انسان سے ہے جو 9 حلقوں سے الیکشن لڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں پاکستان معاشی دیوالیہ پن کی دہلیز پر پہنچ گیا تھا، ریاست داو پرلگی ہوئی تھی لیکن ہم نے ملک بچالیا، اسے اقتدارمیں لانے کے لیے سازش کی گئی تھی ہٹانے کے لیے نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ امریکا کی پشت پناہی سے اقتدارمیں آیا جس کے لیے اسرائیل اوربھارت نے فنڈنگ کی، الیکشن کمیشن میں عمران خان کی چوری عیاں ہوگئی۔ انہوں نےکہاکہ اس نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں فروخت کردیا اسی لیے اقتدارمیں لایا گیا۔
جے یو آئی کے سرابرہ نے کہا کہ عمران خان نے امریکا کے کہنے پر سی پیک منصوبہ ناکام بنایا، یہ امریکی ایجنٹ ہے اس کے خلاف امریکہ کیوں سازش کرے گا، ہم پر تںقید کرنے کی بجائے عمران خان اپنے گریبان میں جھانکے، حیرت ہے کہ پختون کیسے اس شخص کے ساتھ پارٹی میں ہیں۔

بالی ووڈ کی وہ کونسی فلم ہے جو کترینہ بار بار دیکھنا چاہتی ہیں؟

ممبئی: (ویب ڈیسک) بال وڈ سپر اسٹار گرل کترینہ کیف کا کہنا ہے کے بھول بھلیاں 2 دیکھ کر دل نہیں بھرا یہ ایک ایسی فلم ہے جسے وہ بار بار دیکھنا چاہتی ہیں۔
کترینہ کیف نے اپنی آنے والی فلم “فون بھوت” کے حوالے سے گفتگو کے دوران انکشاف کیا کہ بھول بھلیاں 2 ایک ایسی فلم ہے جسے آپ کئی بار دیکھ سکتے ہیں،ان کہنا تھا کہ کارتیک آریان کی فلم ان چند ہندی فلموں میں سے ایک ہے جو باکس آفس پر کامیاب رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فلم کی کامیڈی آؤٹ کلاس ہے اور یہی اس فلم میں دلچسپی کی بنیادی وجہ ہے، فلم میں تبو کی انٹری سنسی خیز ہے۔
اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے کترینہ نے بتایا کے آنے والی فلم میں وہ خود ایک بھوت کا کردار ادا کر رہی ہیں ، اس لئے بھوت سے کیا ڈرنا۔
کترینہ کیف کا کہنا تھا کہ فون بھوت ایک کامیڈی مووی ہے جس میں رومانس بھی موجود ہے،کچھ غلطیاں ہیں جنہیں نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔
ڈائریکٹر فون بھوت فرحان اختر کا کہنا ہے کے فلم میں بھوت کا کردار کترینہ کیف کو ان کی خواہش پر دیا گیا، دوسروں کی طرح ہمارا بھی یہی خیال تھا کہ کترینہ کا بھوت کی شکل میں کیسے دکھائیں۔

غیر یکساں گول پوسٹ کی وجہ سے میچ تاخیر کا شکار

وِگن: (ویب ڈیسک) برطانیہ میں ایک فٹبال چیمپئن شپ میچ گول پوسٹ کے یکساں سائز نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈی ڈبلیو اسٹیڈیم میں وِگن اتھلیٹک کے خلاف میچ سے قبل کارڈف سٹی کوچنگ اسٹاف نے بتایا کہ میدان کا ایک گول 8 فٹ سے دو انچ بڑا ہے۔
کارڈف کے کیئر ٹیک منیجر مارک ہڈسن کی جانب سے یہ معاملہ اٹھایا گیا لیکن یہ بتائے جانے پر کہ گولز کے سائز کی تحقیق میں دو گھنٹے تک کا وقت لگ سکتا ہے، سات منٹ کی تاخیر کے بعد وہ کھیل شروع کرنے پر آمادہ ہو گئے۔
کارڈِف نے میچ 1-3 سے اپنے نام کیا۔ فاتح ٹیم کی جانب سے تیسرا گول اس ہی جانب کیا گیا جو مبینہ طور پر سائز میں بڑا تھا۔
مارک ہڈسن کا کہنا تھا کہ دو کھلاڑیوں کا خیال تھا کہ گول کے سائز کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے۔ دونوں گول میں سے ایک دو انچ زیادہ بلند ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے فوراً معاملہ اٹھایا اور پھر ان کو ہاک آئی سسٹم سے گول کی دوبارہ پیمائش کرنی پڑی۔ہمیں بتایا گیا کہ گول کو دو انچ پست کرنے میں دو گھنٹے کا وقت لگ سکتا ہے۔ ہم نے کھیل کو ایسے ہی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ یہ دونوں ٹیموں کے لیے ایک سی صورتحال تھی۔

وفاق کا دہشتگردی کی کارروائیوں کو روکنے کیلئے کے پی حکومت کی مدد کا فیصلہ

لاہور: (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے صوبائی حکومت کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق قائم سٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں کمیٹی اراکین خالد مقبول صدیقی، خالد حسین مگسی، محسن داوڑ، انجینئر امیر مقام، انجینئر شوکت اللہ خان، محمد صالح شاہ شریک ہوئے۔ اجلاس میں دعوت کے باوجود کمیٹی ممبران پی ٹی آئی کے علی محمد خان اور بیرسٹر محمد علی سیف نے شرکت نہیں کی۔
اجلاس میں دہشت گردی واقعات کے مکمل کنٹرول کے حوالے سے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا، سٹیئرنگ کمیٹی نے خیبر پختونخوا بالخصوص سوات میں حالیہ دشت گردی واقعات کا بھی جائزہ لیا۔
اجلاس کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر رانا ثناء اللہ نے لکھا کہ آج میں نے سٹیئرنگ کمیٹی برائے امن کے اجلاس کی صدارت کی جہاں کے پی کے بالخصوص سوات میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے لکھا کہ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کمیٹی نے دعوت کے باوجود اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے لکھا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے صوبائی حکومت کی مدد کرنے کا متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی حکومت کو وفاقی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کے نام پر چھوٹی موٹی سیاست کرنے کے بجائے صوبے میں امن کو یقینی بنانا چاہیے۔

اپنا جج نہ آرمی چیف چاہیے، اداروں کو مضبوط کرنے کیلئے میرٹ پرتعیناتیاں چاہتا ہوں: عمران خان

شرقپور: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکمران نیب، ایف آئی اے کے سربراہوں کو چوری روکنے کے لیے نہیں چوری سے بچانےکے لیے رکھتے ہیں، شہباز شریف، حمزہ شہبازکیس کے چار گواہ مر چکے ہیں، یہ وہ لوگ ہے جو کبھی بھی اداروں کو مضبوط نہیں ہونے دیں گے، ساڑھے تین سال حکومت کی ایک آدمی کا نام بتا دیں جس کومیں نے سفارش پر لگوایا ہو، مجھے اپنا جج اور نہ مجھے اپنا آرمی چیف چاہیے، میں لوگوں کومیرٹ پرلانا چاہتا ہوں جو اداروں کو مضبوط کریں۔چوروں کو مسلط کر کے ان کی چوری معاف کرانا قوم نہیں بھولے گی۔ جن کا پیسہ سب کچھ باہر ہے ان کے لیے آج ہماری ایجنسیز کھڑی ہیں۔
شیخوپورہ کی تحصیل شرقپور میں پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اتواروالے دن ضمنی الیکشن ہے، امید ہے شرقپورکے لوگ دوبارہ ہمیں جتوائیں گے، شرقپور جلسے میں خواتین کی شرکت پرخراج تحسین پیش کرتا ہوں،یہ الیکشن پاکستان کی حقیقی آزادی کی جنگ کا حصہ ہے،ہمارے ملک پربڑے بڑے مجرموں کومسلط کردیا گیا ہے، انہوں نے قوم کا پیسہ چوری کیا تھا اب این آر او لیکر پیسہ معاف کرا رہے ہیں، مجرم نیب کا قانون بدل کر 1100 ارب معاف کرا رہے ہیں، قوم کا پیسہ انہوں نے چوری کر کے باہر بھیج دیا۔ جن پیسوں سے ترقیاتی کام ہونا تھے اس کو چوری کرلیا گیا، کرپشن ملکوں کوتباہ کردیتی ہے۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ 26سال سے کرپشن کے خلاف جہاد کر رہا ہوں،30 سال سے دو خاندان ملک میں چوری کررہے ہیں، یہ باہر بیٹھ کر این آراو لیتے ہیں، پہلے پرویز مشرف سے این آر او لیا پھرآ کر ملک لوٹا، مشرف کے این آراوکے بعد 6 ہزارارب سے پاکستان کا قرضہ 30 ہزارارب تک بڑھا،قرضوں کی قسطیں قوم اپنے خون سے ادا کرتی ہے، ہمارے دورمیں آدھا پیسہ ان کے لیے ہوئے قرضوں کی قسطوں پرچلا گیا تھا،یہ پیسہ چوری کرنے کے لیے ادارے بھی تباہ کرتے ہیں،اب انہوں نے نیب کے اوپر اپنا بندہ بٹھا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا انصاف کا نظام طاقتور ڈاکو کو نہیں پکڑسکتا، انصاف کا نظام سائیکل، بھینس چور کو پکڑسکتا ہے۔ ماضی میں انہوں نے ایماندارچیف جسٹس سجاد علی شاہ کو ڈنڈوں سے بھگایا تھا، یہ ماضی میں ٹیلی فون کر کے ججزسے فیصلے لیتے تھے،یہ اپنی چوری کوبچانے کے لیے نظام کو تباہ کرتے ہیں،اس طرح قومیں تباہ ہوتی ہیں،یہ سلیکشن میرٹ پر نہیں چوری بچانے والی کی سلیکشن کرتے ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ آئی جی وہ رکھتے ہیں جوان کی نوکری کرتا ہے، اسلام آباد کے آئی جی کو لاہورسیف سٹی کیس میں سزا ہونا تھی،اسی شخص کواسلام آباد کا آئی جی لگا دیا گیا، یہ نیب ،ایف آئی اے کے ہیڈ کو چوری روکنے کے لیے نہیں چوری سے بچانےکے لیے رکھتے ہیں،شہبازشریف، حمزہ شہبازکیس کے چار گواہ مر چکے ہیں، کیا ہوا چاروں گواہان کو ہارٹ اٹیک ہو گیا؟ ایف آئی اے کا تفتیشی افسرڈاکٹر رضوان کو بھی ہارٹ اٹیک ہو گیا تھا، شہبازشریف اوراس کے بیٹوں کی چوری پر پانی پھرگیا، یہ وہ لوگ ہے جوکبھی بھی اداروں کومضبوط نہیں ہونے دیں گے، یہ ہروہ آدمی کواوپرلگائیں گے جوان کی مدد کرے گا، ساڑھے تین سال حکومت کی ایک آدمی کا نام بتادیں جس کومیں نے سفارش پرلگوایا ہو،میں نے چوری نہیں کرنی نا کرپشن چھپانی ہے،مجھے اپنا جج اورنا مجھے اپنا آرمی چیف چاہیے،میں لوگوں کومیرٹ پرلانا چاہتا ہوں جواداروں کومضبوط کریں۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے ایماندار امیدوار ابو بکر شرقپوری ہیں، دوسری طرف چوروں کی پارٹی کے امیدوارہیں،مریم نوازسے دس سال پہلے لندن فلیٹس کا پوچھا توکہا میری توپاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں،بیچاری مریم کی کوئی پراپرٹی نہیں ہے،چارسال بعد پاناما پیپرزکا انکشاف ہوا توپتا چلا لندن فلیٹس کی مالکہ مریم نوازہیں،مریم نوازکوتونہیں پتا تھا پاناما پیپرزکا انکشاف ہوجانا ہے،پاناما انکشاف کے بعد حسین نوازنے کہا لندن فلیٹس ہمارے ہیں،حسین نوازنے کہا مریم نوازلندن فلیٹس کی مالکہ ہیں،مریم نوازنے پاناما پیپرزکے بعد کہا دادا سے پیسہ منتقل ہوا،مریم نوازبڑے اعتماد کے ساتھ جھوٹ بولتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز دادا کو اربوں پتی کہتی ہیں، شہبازشریف کہتے ہیں والد کا غریب کسان گھرانے سے ہے،ایک جھوٹ بولنے کے لیے انہوں نے سو جھوٹ بولے، افسوس کی بات یہ ہے جب جج نے نیب سے پوچھا تو نیب نے کہا ثابت نہیں کر سکتے کیونکہ میچ تو فکس تھا، یہ پاکستان کا المیہ ہے، غریب آدمی کو چوری کرنے پر پولیس اتنا مارتی ہے وہ چوری مان لیتا ہے،میری قوم سن لے یہ پاکستان کی تباہی کا راستہ ہے،ہمارے نبی نے پہلے ہی کہہ دیا تھا جو قوم بڑے چور کو نہ پکڑے وہ قوم تباہ ہو جاتی ہے، پاکستانیوں سارے ڈاکو اقتدار میں آ کر ملک کو لوٹ رہے ہیں، ٹیپس بنائی جارہی ہیں، یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح مجھے نااہل کریں،میرا مقابلہ ایک چور، بزدل سے نہ کرو، میرا مقابلہ اس سے کرو جس میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہو۔
عمران خان نے مزید کہا کہ ٹیپ میں کہہ رہا ہوں مراسلے کی تفتیش کی جائے، کیا ڈونلڈ لُو نے ہمارے سفیر کو نہیں کہا تھا عمران خان کو عدم اعتماد میں ہٹاؤ،جب بھی سائفر پر تفتیش ہو گی تو قوم کے سامنے سب کچھ آ جائے گا،سائفر کی تحقیقات ہو گی تو پتا چلے گا، غلامی نہیں کرنا چاہتا تھا،اس کو اس لیے لائے یہ غلامی کرنا چاہتا تھا،شہبازشریف اپنی آڈیو میں کہہ رہا ہے 70 کروڑکی مشینری بھارت سے درآمد کریں گے،شہباز شریف آڈیومیں کہتا ہے مشینری درآمد کرنے کا طریقہ تلاش کریں،واضح ہوگیا چیف الیکشن کمشنر(ن)لیگ کے لیے دھاندلی کررہا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ ڈیپ فیک آڈیوز، ویڈیو بنا رہے ہیں تاکہ ان کی چوریوں سے عوام کی نظریں ہٹ جائیں،آج ملک میں مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے،آج ملک کی انڈسٹریزبند ہورہی ہے،ہمارے دورمیں ریکارڈ ایکسپورٹ اور آج ایکسپورٹ بند ہو رہی ہے،ہمارے دورمیں17سال بعد معیشت 6 فیصد گروتھ کر رہی تھی، اس وقت انہوں نے حکومت گرائی اور چوروں کو لیکر آئے، شہبازشریف دنیا سے پیسے مانگ رہا ہے،چوری شہباز شریف اور محنت قوم کرتی ہے،شرقپور والو! آپ کا مقابلہ چوروں سے ہے،گھر، گھر جا کر تحریک انصاف کا پیغام پہنچائیں۔
انہوں نے کہا کہ جس نے بھی ان کومسلط کیا تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی،قوم ایسے لوگوں کو نہیں بھولے گی،اس سے زیادہ ملک کے ساتھ دشمنی کون کرسکتا ہے،چوروں کومسلط کر کے ان کی چوری معاف کرانا قوم نہیں بھولے گی۔ پچاس سالوں میں کبھی ایسا سلوک میرے ساتھ نہیں ہوا،جب وزیراعظم تھا تو میرے آفس اور گھر کے فون ٹیپ کیے جا رہے تھے، ایسے جیسے میں ملک کا دشمن ہوں،جن کا پیسہ سب کچھ باہر ان کے لیے آج ہماری ایجنسیز کھڑی ہیں، وزیراعظم آفس کی سکیورٹی لیپس کا کون ذمہ دارہے؟شرقپوروالوں ضمنی الیکشن حقیقی آزادی کی تحریک کا ایک حصہ ہے،میری کال اب زیادہ دور نہیں ہے، یہ سیاست نہیں جہاد ہے، ساری قوم نے ملک کے مستقبل اوراپنے بچوں کے لیے باہرنکلنا ہے۔

خوشحالی صرف فارن فنڈڈ فتنہ کے قانون کی گرفت میں آنے سے آئے گی، مریم اورنگزیب

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اب خوشحالی صرف فارن فنڈڈ فتنہ کے قانون کی گرفت میں آنے سے آئے گی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی ترجمان اور وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خطاب پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ذمہ داری واقعی آپ کی تھی لیکن حکمرانی بشریٰ بی بی اور فرح کے پاس تھی۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ ملک کو سیکیورٹی تھریٹ صرف فارن فنڈڈ ایبسلوٹلی فراڈ فتنہ سے ہے، آدھی پاور کے ساتھ ملک کو لوٹنے کا یہ عالم ہے، پوری مل جاتی تو اللہ ہی حافظ تھا۔
انہوں نے کہا کہ آدھی پاور کے ساتھ آپ نے ملکی مفاد کے ساتھ کھیل کھیلا، آدھی پاور تھی اور حکمرانی نہیں تھی تو چار سال کیوں نہیں بتایا؟
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعظم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنی پوری پاور کو سیاسی مخالفین کے خلاف سیاسی انتقام کیلئے استعمال کیا۔

ریاستی قوت کے استعمال کے باوجود سرخرو ہوئے، شہباز شریف کا بریت پر ردعمل

لاہور: (ویب ڈیسک) لاہور کی اسپیشل کورٹ نے ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو بری کردیا۔
عدالت سے بریت کے بعد اپنی ٹوئٹ میں وزیراعظم کا کہنا تھاکہ حق ذات نے پھر فضل فرمایا اور منی لانڈرنگ کے جھوٹے، بے بنیاد، سیاسی انتقام پر مبنی مقدمے سے بریت کا یہ دن دکھایا جس پر اللہ تعالیٰ کا جتناشکر اداکریں، کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدترین چیرہ دستیوں، ریاستی قوت کے استعمال اور اداروں کو یرغمال بنانے کے باوجود ہم عدالت، قانون اور عوام کے سامنے سرخرو ہوئے۔
خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف دو روزہ سرکاری دورے پر قازقستان میں موجود ہیں۔

منی لانڈرنگ کیس میں شہبازشریف اور حمزہ کی بریت پر فواد چوہدری کا ردعمل

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری کا ردعمل سامنے آگیا۔
ایک بیان میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ 24 ارب روپے کی منی لانڈرنگ شہباز شریف اور حمزہ شریف کے سر پر واری، ساتھ ہی انہوں نے قرار دیا کہ یہ عدالتی نظام کا عوام کے منہ پر ایک اور طمانچہ ہے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ 14 ہزار اکاؤنٹس پر عرق ریز محنت ہوئی اور فول پروف مقدمہ تھا، یہ پاکستان کے لوگوں کے پیسے ہیں، ایک طرف سیلاب زدگان کے لیے پیسے مانگ رہے ہیں، دوسری طرف ایک خاندان اربوں روپےکھا گیا۔
خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں بری ہوگئے ہیں۔
اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہور نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کا فیصلہ سنادیا ہے۔

پورے ملک کے بجلی کے زائد بلوں کی تحقیقات کریں، اسپیکرکی وزیر توانائی کو ہدایت

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیرکو ہدایت کی ہے کہ پورے ملک کے بجلی کے زائد بلوں کی تحقیقات کریں۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اگست میں بجلی کے زائد بلوں کا معاملے پر بحث ہوئی، جماعت اسلامی کے رکن عبدالاکبر چترالی نے بجلی بلوں پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔
وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیرکا کہنا تھا کہ جولائی میں جو یونٹ استعمال ہوئے ان کا بل اگست میں آیا، فیول ایڈجسٹمنٹ جون کے استعمال ہونے والے یونٹ پر ہوئی تھی، سو یونٹ یا اسے کم بجلی استعمال پر فیول ایڈجسٹمنٹ نہیں لگایا گیا تھا، کسانوں نے بھی زیادہ بلوں پر احتجاج کیا، تین سو یونٹ استعمال کرنے والوں کو وزیراعظم نے رعایت دی۔
ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں امپورٹڈ ایندھن سے بجلی نہیں بنائیں گے، آئندہ بجلی صرف 5 ذرائع سے ہی بنائیں گے، شمسی و جوہری توانائی، ونڈ، ہائیڈل اور تھرکول۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نےکہا کہ میرے گھر کا بل 33 ہزار ہے اور فیول ایڈجسٹمنٹ دولاکھ روپے ہے۔
خرم دستگیر نےکہا کہ سید خورشید شاہ کے بل پر تحقیقات کی جائےگی، جس پر اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے ہدایت کی کہ پورے ملک کے زائد بلوں کی تحقیقات کریں۔
اسپیکر نے بجلی قیمتوں کا معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا۔