All posts by Khabrain News

آسکر ایوارڈ کیلئے نامزد بھارتی فلم کا 10 سالہ ہیرو چل بسا

احمدآباد: (ویب ڈیسک) بھارت کی جانب سے آسکر ایوارڈ کیلئے نامزد فلم چھیلو شو کا 10 سالہ ہیرو راہول کولی چل بسا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گجراتی فلم ‘ چھیلو شو’ کو بھارت کی جانب سے اگلے سال آسکر ایوارڈ کی نامزدگی کیلئے بھیجا گیا ہے اور یہ فلم بھارت میں 14 اکتوبر کو ریلیز ہونی ہے۔
فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والے 10 سالہ اداکار راہول کولی فلم کی ریلیز سے قبل ہی چل بسے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق راہول کولی کا انتقال 2 اکتوبر کو احمد آباد کے اسپتال میں ہوا اور وہ بلڈ کینسر سے نبرد آزما تھے۔
راہول کولی کی فلم گزشتہ سال کئی بین الاقوامی فلم فیسٹولز میں نمائش کیلئے پیش کی گئی تھی اور کئی ایوارڈز اپنے نام کیے۔

فارن فنڈنگ کیس، عمران خان سمیت 11 افراد کیخلاف مقدمہ درج

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے فارن فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اورسابق وزیراعظم عمران خان سمیت 11 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ مقدمہ کارپوریٹ بینکنگ سرکل نے درج کیا۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے فارن ایکسچینج ایکٹ کی خلاف ورزی کی، سردار اظہر طارق، سیف اللہ نیازی، سید یونس، عامر کیانی، طارق شیخ، طارق شفیع بھی نامزد کیے گئے ہیں، ملزمان نجی بینک اکاونٹ کے بینفشری ہیں۔ تحریک انصاف کا نجی بینک میں اکاونٹ تھا، نجی بینک کا منیجر بھی مقدمہ میں شامل کیا گیا ہے۔
متن کے مطابق نیا پاکستان کے نام پر بینک اکاونٹ بنایا گیا، بینک مینجر نےغیر قانونی بینک اکاونٹ آپریٹ کرنے کی اجازت دی، بینک اکاونٹ میں ابراج گروپ آف کمپنی سے 21 لاکھ ڈالر آئے، تحریک انصاف نےعارف نقوی کا الیکشن کمیشن میں بیان حلفی جمع کرایا، ابراج گروپ کمپنی نے تحریک انصاف کے اکاونٹ میں پیسے بھیجے، بیان حلفی جھوٹا اورجعلی ہے، ووٹن کرکٹ کلب سے دو مزید اکاونٹ سے رقم وصول ہوئی، نجی بینک کے سربراہ نے مشتبہ غیر قانونی تفصیلات میں مدد کی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آج منفی دن رہا

کراچی: (ویب ڈیسک) پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آج ملا جلا دن رہا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 56 پوائنٹس کمی سے 42155 پر بند ہوا۔ حصص بازار میں آج 30 کروڑ شیئرز کا کاروبار 9.84 ارب روپے میں طے ہوا جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 27 ارب روپے کم ہوکر 6848 ارب روپے ہے۔

صدر علوی کا سائفر سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کا سخت نوٹس

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سیاق و سباق سے ہٹ کر بیانات کو پیش کرنا پہلے سے ہی تقسیم شدہ ماحول میں مزید خلیج کا باعث بنتا ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے میڈیا میں شائع /نشر ہونے والی خبروں کا سخت نوٹس لیا ہے جن میں پیر کو نجی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران سائفر کے حوالے سے صدر کے بیان کو مکمل طور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
اپنے انٹرویو میں صدر مملکت نے واضح طور پر کہا تھا کہ انہیں سازش کے بارے میں شبہ “suspicion” ہے تاہم اس کا حتمی فیصلہ مکمل تحقیقات کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھنے سے لیکر اب تک ان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اس خط میں انہوں نے سپریم کورٹ سے معاملے کی مکمل انکوائری کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ انہیں پختہ یقین ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
صدر مملکت نے اس معاملے کو سپریم کورٹ میں اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ انھیں سازش کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں تھا، بلکہ اس لیے کہ یہ معاملہ ملک کے سابق وزیر اعظم کی جانب سے اٹھایا گیا تھا ، لہٰذا، تمام دستیاب واقعاتی شواہد سمیت پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ سائفر کے قومی سطح پر اثرات ہوئے اور ان کے باعث سیاسی ہلچل پیدا ہوئی ۔ اس لیے انہوں نے سپریم کورٹ سے حکومت ِپاکستان کی طرف سے جاری کردہ ڈیمارش سے ہٹ کر بھی غیر جانبدارانہ انکوائری کی درخواست کی ۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ صدر مملکت کے الفاظ کو ایک انتہائی سنجیدہ معاملے پر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا جس سے سنگین مضمرات مرتب ہوئے ۔
بیان کے مطابق صدر مملکت پارلیمنٹ میں اور اس کے علاوہ بھی متعدد مرتبہ ’’سیاق و سباق سے ہٹ کر‘‘تصویر کشی کے مضمرات کے بارے میں بات کر چکے ہیں اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے بیانات پہلے سے ہی تقسیم شدہ ماحول میں مزید خلیج پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

ویمنز ایشیا کپ: سری لنکا کو 5 وکٹ سے شکست، پاکستان سیمی فائنل میں داخل

لاہور: (ویب ڈیسک) ویمنز ایشیا کپ ٹی 20 کے اہم میچ میں سری لنکا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 5 وکٹ سے شکست دے کر قومی ٹیم نے سیمی فائنل کے لئے کوالیفائی کر لیا۔
بنگلا دیش کے سلہٹ کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے گئے ایشیا کپ کے میچ میں 113 رنز کا ہدف گرلز ان گرین نے سات گیندیں قبل 5 وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
پہلے کھیلتے ہوئے سری لنکا نے مقررہ 20 اوورز میں 112 رنز بنائے، کپتان چماری اتاپتو نے سب سے زیادہ 41 رنز کی اننگز کھیلی، اوشادی رانا سنگھے 26 سکور بناکر دوسری نمایاں بیٹر رہیں۔
قومی ٹیم کی جانب سے عمیمہ سہیل نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 13 رنز دیکر 5 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، طوبیٰ حسن نے 2 اور ندا ڈار نے ایک وکٹ اپنے نام کی۔
113 رنز کا ہدف پاکستانی ٹیم نے 5 وکٹ کے نقصان پر 19 اعشاریہ 5 اوورز حاصل کرلیا، عائشہ نسیم نے مسلسل دو چھکے لگا کر فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ندا ڈٓر نے سب سے زیادہ ناٹ آؤٹ 26 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ عائشہ نسیم نے 2 چھکوں کی مدد سے 5 گیندوں پر 16 رنز بنائے اور ناقابل شکست رہیں، منیبہ علی نے 10، سدرہ امین اور کپتان بسمہ معروف نے 13،13 رنز بنائے، عمیمہ سہیل نے 7 سکور بنائے جبکہ عالیہ ریاض 20 رنز بناکر پویلین لوٹیں۔
شکست خوردہ ٹیم کی جانب سے کویشا دلہاری نے 2، اوشادی رانا سنگھے، اچینی کولاسوریا اور انوکا رانا ویرا نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔
گرلز ان گرین کی عمیمہ سہیل کو 4 اوورز میں 13 رنز کے عوض 5 وکٹ اور میچ میں 2 کیچ لینے پر بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔

قومی اسکواڈ دوبارہ جوائن کرنے کیلئے پرجوش ہوں، شاہین شاہ آفریدی

لاہور: (ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اسکواڈ کو دوبارہ جوائن کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔
پی سی بی کے مطابق شاہین شاہ آفریدی لندن میں پی سی بی ایڈوائزری پینل کی زیر نگرانی ری ہیب مکمل کرنے کے بعد آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے 15 اکتوبر کو برسبین میں قومی اسکواڈ کو جوائن کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ میگا ایونٹ کے لیے پاکستان کے 17 اور 19 اکتوبر کو بالرتیتب انگلینڈ اور افغانستان کے خلاف شیڈول وارم اپ میچز میں شرکت کے لیے دستیاب ہوں گے، جہاں ان کی فٹنس کا جائزہ لیا جائے گا۔
پی سی بی کے مطابق شاہین کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ دس روز سے روزانہ بغیر کسی درد کے تیزرفتاری سے چھ سے آٹھ اوورز پھینک رہے ہیں۔

سائفرکے معاملے پر کریڈبل ججز پر مشتمل کمیشن بننا چاہیے: عمران خان

ننکانہ صاحب: (ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کا شکر گزارہوں سائفر کا معاملہ دوبارہ اٹھا دیا، سائفرکے معاملے پر کریڈبل (معتبر) ججز پر مشتمل کمیشن بننا چاہیے۔ چور مجھے گندہ کرنے کے لیے ڈیپ فیک ویڈیو تیار کر رہے ہیں، میں عدالت میں جا رہا ہوں، وزیراعظم آفس، گھر کی سکیورلائن کو کس نے ٹیپ اور کس نے لیک کی؟ وزیراعظم کے فون کو ٹیپ کریں لیکن اس کو لیک کرنا جرم ہے، عدالت میں پتا چلاؤں گا کونسی ایجنسیز یہ کام کر رہی ہے، میرے ساتھ دشمنوں والا سلوک کیا جا رہا ہے۔
ننکانہ میں پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ بجلی،ڈیزل، پٹرول کی قیمتیں دگنا ہو چکی ہیں، بجلی کی قیمت دگنی سے بھی اوپرچلی گئی ہے، یہاں پر کوئی یونیورسٹی نہیں ہے، تحریک انصاف نے ایک تعلیمی نظام بنانے کی کوشش کی، ہماری حکومت کو بیرونی سازش کے تحت گرایا گیا، مجھے ہٹا کران کے جوتے پالش کرنے والے نوکر کو لایا گیا، حکومت کا شکرگزارہوں سائفر کا معاملہ دوبارہ اٹھا دیا، سائفر معاملے پر کمیشن یہ حکومت نہیں بناسکتی یہ تو خود سازش کا حصہ تھے،سائفرکے معاملے پر کریڈبل (معتبر) ججز پر کمیشن بننا چاہیے، مدینہ کی ریاست میں عدل اور انصاف تھا، عدل اورانصاف کا مطلب قانون سے کوئی اوپرنہیں ہوسکتا۔
پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ بڑا ڈاکو چوری کرے تو این آر او مل جائے وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں، سایئکل چور کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، نواز شریف، مریم نوازکہتے ہیں بڑا ظلم ہوا بے، قصور ہے، نوازشریف نے بیٹی کے نام پرلندن میں چاراربوں روپے کےمحلات خریدے۔ لندن فلیٹس بارے یہ جھوٹ بولتے رہے، پاناما انکشافات ہوئے توسب کچھ سامنے آگیا، دس سال پہلے مریم نواز سے فلیٹ بارے پوچھا تو کہا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں، اس بیچاری کو نہیں پتا تھا اللہ سچ سامنے لے آئے گا، پاناما انکشافات کے بعد حسین نوازنے چارلندن فلیٹ کوتسلیم کیا، اب اگلا سوال یہ ہے لندن فلیٹس کا پیسہ کدھرسے آیا، مریم نوازاپنے دادا کوارب پتی کہتی ہیں، شہبازشریف نے کہا ان کےوالد کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا، تم لوگ چوری چھپانے کے لیے کتنے جھوٹ بولوگے، قوم وسائل کی کمی سے نہیں جب اس طرح کے ڈاکومسلط ہوتب تباہ ہوتی ہے، ڈاکوپہلے پیسہ چوری کرتے ہیں پھر ملک سے منی لانڈرنگ کرتے ہیں۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب یہ منی لانڈرنگ کرتے ہیں تو ملک میں ڈالروں کی کمی ہوتی ہے، پیسہ باہر بھیجنے کے لیے ملک کے اداروں میں اپنے آدمی رکھواتے ہیں، یہ اپنی چوری بچانے کے لیے نیب کے قانون بدلتے ہیں، قانون بدلنے کے بعد پھران کو اپنے جج چاہیے ہوتے ہیں، جسٹس سجاد علی شاہ کو انہوں نے ڈنڈے کے ذریعے عدالت سے بھگایا تھا، اگرایف آئی اے مقصود چپڑاسی کیس کی غیر جانبدار طریقے سے انویسٹی گیشن کرے تو شہبازشریف پکڑا جائے گا، ان کا سارا ماضی یہ ہے اپنے آئی جیز بھی رکھتے ہیں، اس ملک میں میرٹ کا قتل عام کرتے ہیں، جب ان کی چوری نہ پکڑی جائے تو ملک مقروض ہو جاتا ہے، مشرف نے دونوں ڈاکوؤں کو 2008ء میں این آر او دیا، مشرف کے این آر او کے بعد ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا، قرضوں کی قیمت عوام مہنگائی کی شکل میں ادا کررہی ہے، ملک کے اندرمیرجعفر، میرصادق ملک تباہ کرتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ آپ سب تیاری کریں،کال میں زیادہ دیرنہیں ہے، پوری تیاری کر رہا ہوں، چور مجھے گندہ کرنے کے لیے ڈیپ فیک ویڈیو تیار کر رہے ہیں، میں عدالت میں جا رہا ہوں، وزیراعظم آفس، گھر کی سکیورلائن کو کس نے ٹیپ اور کس نے لیک کی؟ وزیراعظم کے فون کو ٹیپ کریں لیکن اس کو لیک کرنا جرم ہے، عدالت میں پتا چلاؤں گا کونسی ایجنسیز یہ کام کر رہی ہے، میرے ساتھ دشمنوں والا سلوک کیا جا رہا ہے، چیلنج کرتا ہوں یہ جو مرضی کریں عوام کے انقلاب کو نہیں روک سکیں گے، اپنے آپ کو بچانے کے لیے یہ گند پھیلانا چاہتا ہے، اب آپ سمجھ گئے ہیں ن لیگ والے اس طرح ڈی فیک ویڈیو بنا رہے ہیں، یہ چورایک طرف اور قوم ہمارے ساتھ کھڑی ہے، یہ خوف میں ہرقسم کے حربے استعمال کریں گے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اللہ نے موقع دیا تو ننکانہ کو خوشحال ڈسٹرکٹ بنائیں گے، ننکانہ جلسے میں خواتین کی آمد پرسلام پیش کرتا ہوں۔
جلسے کے دوران شریک عمران خان خود سمیت کارکنوں سے حلف لیا گیا، سینیٹرفیصل جاوید نے حلف لیا، عمران خان کی موجودگی میں حلف لیا گیا ہم پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ کریں گے، ہم کبھی بھی اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے، ہم پاکستان کی اس حقیقی آزادی کی جہاد میں عمران خان کے شانہ بشانہ جدوجہد کریں گے، ہم ہرقسم کی قربانی کے لیے تیاررہیں گے۔

حکومتی درخواست مسترد، ضمنی انتخابات معمول کے مطابق ہی کرانیکا اعلان

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزارت داخلہ کی جانب سے 90 روز کے لیے ضمنی الیکشن ملتوی کیے جانے کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات معمول کے مطابق ہوں گے۔
یاد رہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو آف پاکستان کو خط ارسال کیا گیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ضمنی انتخابات 90 روز کے لیے ملتوی کر دیئے جائیں کیونکہ ایک سیاسی جماعت اسلام آباد پر قبضہ کرنے کے لیے آ رہی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں اجلاس ہوا اجلاس کے دوران ضمنی الیکشن کے بارے میں سکیورٹی سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری دفاع، سیکرٹری دفاع نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ ضمنی انتخابات مقررہ وقت پر کروائے جائیں گے، این اے 45 کرم میں امن و امان کے حالات کے باعث الیکشن ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی ڈویژن کے تمام اضلاع میں بلدیاتی انتخابات بھی شیڈول کے مطابق ہوں گے، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات 16اکتوبر کو ہی کروائے جائیں گے، کراچی ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات اعلان کردہ تاریخ 23اکتوبر کو ہونگے۔

سپریم کورٹ: نیب سے 23 سال کے ہائی پروفائل کرپشن کیسز کا ریکارڈ طلب

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) نیب قانون میں ترامیم کے خلاف مقدمے میں سپریم کورٹ نے 23 سال کے ہائی پروفائل کرپشن کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا۔
نیب قانون میں حالیہ ترامیم کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ‏جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔
دوران سماعت پی ٹی آئی وکیل وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں تبدیلی سے بے نامی دار کی تعریف انتہائی مشکل بنا دی گئی ہے۔ اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس آئینی شق کو بنیاد بنا کر نیب قانون کو کالعدم قرار دیں۔ وکیل نے استدعا کی کہ معاملہ اہم سیاسی رہنماؤں کے کرپشن میں ملوث ہونے کا ہے جہاں عوامی پیسے کا تعلق ہو، وہ معاملہ بنیادی حقوق کے زمرے میں آتا ہے جعلی بینک اکاؤنٹس کیسز میں بھی بے نامی کا معاملہ تھا، معاشی پالیساں ایسی ہونی چاہییں کہ بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ معاشی پالیسیوں کو دیکھنا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے۔ اگر کسی سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو قانون میں مکمل شفاف ٹرائل کا طریقہ کار موجود ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ معیشت پالیسی کا معاملہ ہوتا ہے جس میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔ عوام کے اثاثوں کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے۔ بے تحاشا قرض لینے کی وجہ سے ملک بری طرح متاثر ہوا ہے۔ قرضوں کا غلط استعمال ہونے سے ملک کا یہ حال ہوا۔ زیادہ تر غیر ضروری اخراجات ایلیٹ کلاس کی عیاشی پر ہوئے۔ ملک میں 70 سے 80 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ عدالت حکومت کو قرض لینے سے نہیں روک سکتی۔ معیشت کے حوالے سے فیصلے کرنا ماہرین ہی کا کام ہے۔

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں معاشی پالیسی کے الفاظ واپس لیتا ہوں۔
دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ پاکستان میں جائیداد اور دولت بنانے پر کوئی کنٹرول نہیں، نہ ہی احتساب ہے۔
نیب قوانین میں ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 1996ء میں ایک کیس میں زندہ درخت کی مثال دی۔ زندہ درخت گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھے گا۔ قانون نہیں ہوگا تو مافیاز ہوں گے ۔ پاکستان میں بہت سے مافیاز ہیں۔ میں کسی مافیا کا نام نہیں لوں گا ، لیکن مافیاز کی وجہ سے بد امنی اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمارے نظام میں مناسب ریگولیٹر موجود نہیں۔دنیا میں جائیداد اور دولت پر ٹیکس لیا جاتا ہے، ہمارے ہاں 2001ء میں ویلتھ ٹیکس کو ختم کردیا گیا۔ ملک میں جائیداد بنانے پر کوئی کنٹرول نہیں، نہ احتساب ہے ۔ یہ سب نکات ہیں جو سیاسی نوعیت کے ہیں ،جو پارلیمان نے طے کرنے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ احتساب تندرست معاشرے اور تندرست ریاست کے لیے اہم ہے۔ کرپشن دنیا میں ہر جگہ موجود ہے۔ کچھ نقائص بھی موجود ہیں۔ نقص یہ بھی ہے کہ کچھ سرکاری ملازمین جیلیں کاٹ کر بری ہو چکے ہیں۔ کچھ کاروباری شخصیات بھی نیب سے مایوس ہوئیں، نیب ترامیم میں کچھ چیزیں بھی ہیں جن سے فائدہ ہوا۔ کچھ ایسی ترامیم بھی ہیں جو سنگین نوعیت کی ہیں۔ ہم نے توازن قائم کرنا ہے۔ نیب قانون میں حالیہ تبدیلی کے سبب ملزمان کو فائدہ بھی پہنچا۔ پلی بارگین اور 500 ملین روپے کی حد مقرر کرنے سے ملزمان کو فائدہ ہوا۔
چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ معیشت پالیسی کا معاملہ ہوتا ہے جس میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔ عوام کے اثاثوں کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے۔ بے تحاشا قرض لینے کی وجہ سے ملک بری طرح متاثر ہوا ہے۔ قرضوں کا غلط استعمال ہونے سے ملک کا یہ حال ہوا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ زیادہ تر غیر ضروری اخراجات ایلیٹ کلاس کی عیاشی پر ہوئے۔ ملک میں 70 سے 80 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ عدالت حکومت کو قرض لینے سے نہیں روک سکتی۔ معیشت کے حوالے سے فیصلے کرنا ماہرین ہی کا کام ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ہمیں پہلے یہ بتائیں کہ نیب ترامیم کے ذریعے کس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟۔ فرض کریں پارلیمنٹ نے ایک حد مقرر کردی اتنی کرپشن ہوگی تو نیب دیکھے گا۔ سوال یہ ہے عام شہری کے حقوق کیسے متاثر ہوئے ہیں؟۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے جواب دیا کہ نیب قانون سے زیر التوا مقدمات والوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا کوئی ایسی عدالتی نظیر موجود ہے جہاں شہری کی درخواست پر عدالت نے سابقہ قانون کو بحال کیا ہو؟۔ شہری کی درخواست پر عدالت پارلیمنٹ کا بنایا ہوا قانون کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟۔ وکیل نے جواب دیا کہ پبلک منی کے معاملے پر عدالت قانون سازی کالعدم قرار دے سکتی ہے۔عوام کا پیسہ کرپشن کی نذر ہونا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
بعد ازاں عدالت نے ریکارڈ طلب کیا کہ اب تک کتنے ایسے کرپشن کے کیسز ہیں، جن میں سپریم کورٹ تک سزائیں برقرار رکھی گئیں؟ اب تک نیب قانون کے تحت کتنے ریفرنسز مکمل ہوئے؟،نیب قانون میں تبدیلی کے بعد کتنی تحقیقات مکمل ہوئیں؟۔عدالت نے نیب سے 1999ء سے لے کر جون 2022ء تک تمام ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر سمیت 12 میجر جنرلز کی لیفٹیننٹ جنرلز کے عہدے پر ترقی

راولپنڈی: (ویب ڈیسک) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار سمیت 12 میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرلز کے عہدے پر ترقی دے دیدی گئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق میجر جنرلز سے لیفٹیننٹ جنرلز کے عہدے پر ترقی پانے والوں میں میجر جنرل انعام حیدر ملک، میجر جنرل فیاض حسین شاہ، میجر جنرل نعمان زکریا، میجر جنرل محمد ظفر اقبال، میجر جنرل ایمن بلال صفدر شامل ہیں۔
بیان کے مطابق دیگر ترقی پانے والوں میں میجر جنرل احسن گلریز، میجر جنرل سیّد عامر رضا، میجر جنرل شاہد امتیاز، میجر جنرل محمد منیر افسر، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار، میجر جنرل یوسف جمال، میجر جنرل کاشف نذیر شامل ہیں۔