Tag Archives: Life-Insurance

انشورنس پالیسیوں اور لکی کمیٹی کا جھانسہ ،نو سر باز گروہ بارے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور (نادر چوہدری سے) صوبائی دارالحکومت میں سرعام شہریوں کی جمع پونجی لوٹنے والے نوسرباز سرگرم ہوگئے، مختلف پالیسیز کے نام پر شہری کروڑوں ر وپے جمع پونجی سے محروم کردیا گیا،انشورنس کے نام پرجگہ جگہ پرائیویٹ کمپنیاں سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے میں مصروف ،ایف آئی اے سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آنکھیں بند کرلیں۔ بتایا گیا ہے کہ لاہور سمیت ملتان، فیصل آباد ، گجرانوالہ ، گجرات اور دیگر اہم شہروں اور عام قصبوں میں لکی کمیٹی کے نام پر سالانہ کروڑوں روپے کا فراڈ کیا جاتا ہے ۔چند افراد پر مشتمل گروہ مشترکہ انویسٹمنٹ کرکے گاڑی، موٹرسائیکل، عمرہ ٹکٹ، جہیز کا سامان، بیرون ملک کی سیر جیسے پیکج کے ذریعے سادہ لوح شہریوں کو مائل کرتے ہیں اور اس کیلئے بھرپور تشہیر کی جاتی ہے جس میں بینرز سے لیکر ٹی وی کیبل پر لوکل سطح پر تشہیر شامل ہے ۔ان فراڈیوں کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ موٹرسائیکل عمرہ ٹکٹ، جہیز کے پیکج، ایل سی ڈیز وغیرہ کی مخصوص تعداد انعام میں رکھی جاتی ہے۔دوسری جانب جوبلی ا نشورنس کے نام سے ایک نجی انشورنس کمپنی نے لاہور میں موجود اپنے سینٹر پر شہریوں سے خرد برد کا بازار گرم کررکھا ہے ۔جہاں لکشمی چوک کی بینک برانچ میں ایبٹ روڈ کی رہائشی خاتون کی بچوں کے نام پر کرائی گئی پالیسی نمبری 433785 جس کے پلان حفاظت کو سال 2014 میں 5 سالہ معاہدے پر جوبلی لائف انشورنس کے ایجنٹ ثاقب نے 18 ہزار روپے کے عوض علی حسنین اور مریم فاطمہ کے نام پر کی گئی جبکہ پالیسی کے دو پرئمیرز بھی اکاﺅنٹ میں سے کٹوا دیئے گئے مگر تھوڑے عرصہ بعد پالیسی کا اکاﺅنٹ چیک کیا گیا تو معلوم ہوا کہ پیسے کم تھے جس پر پالیسی اکاﺅنٹ کی تمام سابقہ ریکارڈ کو حاصل کرنے پر شہری کو معلوم ہوا کہ ان کی ایک پالیسی نہیں بلکہ تین پالیسیاں کی گئیں ہیں جس میں سے 2 جعلی ہیں جس کو صارف کی اجازت اور بغیر اطلاع کے بنادیا گیا اور ان کی پالیسی مالیت 18 ہزار روپے اور دوسری 25 ہزار روپے میں کی گئی اور ان دونوں پالیسیوں کے پرئمیر انشورنس کمپنی نے بینک سے مل کر کاٹ لیے ہیں جس کا صارف کو معلوم ہونے پر معلوم ہوا کہ جعلی پالیسیوں سے 86 ہزار روپے کی اضافی رقم کو خوردبرد کرلیا گیا ۔ان فراڈیوں کے ہاتھوں لٹنے والے شہریوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے متعلقہ اداروں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگرز ان کی جانب سے چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے تو کبھی اس طرح کا کوئی واقع پیش نہ آئے ۔ دوسر جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ جب تک کوئی شہری ہمارے پاس کوئی شکایت لیکر نہیں آتا ہم اپنے طور پر کاروائی نہیں کر سکتے اور جب کسی بھی شہری کی جانب سے شکایت موصول ہوتی ہے تو فوری اس کا ازالہ کیا جاتا ہے۔