اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پی آئی اے میں اضافی ملازمین کی چھانٹی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع ایئرلائن کے مطابق ایچ آر کو اسامیوں کے بغیر کام کرنے والے ملازمین کی فہرست تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہیومن ریسورس بجٹ کے علاوہ ملازمین کو سرپلس پول میں ڈال دیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں سرپلس پول میں ڈالے گئے ملازمین کو فارغ کرنے کا منصوبہ ہے۔ ڈائریکٹر سے پے گروپ ون تک 500 سے زائد ملازمین زد میں آئیں گے۔ ادھر پی آئی اے نے نیویارک کے اہم ترین سٹیشن کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ بوئنگ 777 طیارے کو فروخت کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ پی آئی اے کی نئی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ 15 دسمبر 2017ئ کو نیویارک سٹیشن کا فضائی آپریشن بند کردیا جائے گا جس کے سبب قومی ایئر لائن کا نیویارک سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو جائے گا۔ سی ای او پی آئی اے مشرف رسول نے فیصلہ کی منظوری دے دی۔ نیویارک کے لیے بکنگ بھی بند کردی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ پی آئی اے نے نیویارک میں مقیم اپنے فضائی میزبانوں کو کینیڈا کے راستے پاکستان پہنچنے کی ہدایت کردی ہے۔ یاد رہے کہ پی آئی اے نے دس سال قبل بوئنگ 777 طیارے لانگ رینج سٹیشن یعنی امریکہ اور کینیڈا تک کے لیے خریدے تھے۔

















