Tag Archives: donald-trump

سفری پابندیوں کا حکم نامہ بحال ،ٹرمپ کا جشن

واشنگٹن(نیٹ نیوز) امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کا سفری پابندیوں کا حکم نامہ جزوی طور پر بحال کر دیا ہے۔ فیصلے کے مطابق ایگزیکٹو آرڈر ان غیر ملکیوں پر لاگو نہیں ہوگا جن کا کسی بھی امریکی شخص یا ادارے سے حقیقی تعلق ہے۔ ان افراد کے علاوہ دیگر تمام غیر ملکیوں کو اس حکم نامے پر عمل کرنا ہوگا۔ کیس کی سماعت اکتوبر میں پھر ہوگی۔ سپریم کورٹ نے وائٹ ہاﺅس کی جانب سے پناہ گزینوں پر جزوی پابندی عائد کرنے کی درخواست بھی منظور کر لی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے ججوں کا کہنا ہے کہ وہ رواں سال اکتوبر میں اس بات کا دوبارہ جائزہ لیں گے کہ آیا صدر ٹرمپ کی اس پالیسی کو جاری رہنا چاہیے یا نہیں۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انتظامی حکم نامے کے ذریعے 6 مسلمان ممالک سے شہریوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگائی ہے جسے وفاقی عدالت نے کالعدم قرار دیا تھا۔ جن ممالک پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی ٹرمپ خوشی سے جھوم اٹھے اور کہا کہ امریکہ مخالف لوگوں کو اب یہاں جگہ نہیں ملے گی۔

شمالی کوریا پر ’سرپرائز‘ حملہ کریں گے،ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن (ویب ڈیسک ) امریکا اور شمالی کوریا کے مابین تنازعہ ہر روز شدید تر ہوتا جارہا ہے کیونکہ شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ میزائل تجربات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحیرہ شمالی چین میں ”سرپرائز“ کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔اپنے بیان میں ٹرمپ نے شمالی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی کا امکان مسترد کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شمالی کوریا نے اپنے میزائل تجربات اسی طرح جاری رکھے گا تو امریکا بھی اس کے خلاف ”سرپرائز“ کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان پر طنز کرتے ہوئے انہیں شاطر قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگ کم جونگ ان کوعقلمند کہتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں سمجھتے۔ اگر پیانگ یانگ نےمزید کوئی میزائل تجربہ کیا تو انہیں خوشی نہیں ہوگی۔ ٹرمپ انتظامیہ ہی شمالی کوریا کو سبق سکھائے گی۔ ٹرمپ نے سابق امریکی صدور بشمول جارج ڈبلیو ب±ش، بل کلنٹن اور براک اوباما پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شمالی کوریا کے مسئلے سے بہت پہلے نمٹ لینا چاہیے تھا۔ چین کے صدر شی جن پنگ شمالی کوریا کے اتحادی ہیں اور وہ کم جونگ ان پر جوہری اور فوجی سرگرمیوں کو کم کرنے کے لیے ’دباو¿ ڈال رہے ہیں‘ لیکن اب تک شاید کچھ نہیں ہوا۔امریکی صدر کے اس بیان کی تائید میں سینیٹر جان مکین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا پر پیشگی حملے کے تمام آپشنز کھلے ہیں۔

ایک بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے ، ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن (ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری پروگرام کی وجہ سے اس کے ساتھ ایک بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے۔امریکی صدر کے سخت بیان کے برعکس ان کے وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ واشنگٹن شمالی کوریا سے بات چیت کر سکتا ہے۔نیشنل پبلک ریڈیو کو دیے جانے والے انٹرویو میں ریکس ٹلرسن نے کہا کہ امریکہ شمالی کوریا میں حکومت کا خاتمہ نہیں بلکہ صرف جزیرہ نما کوریا سے جوہری ہتھیاروں کی تخفیف چاہتا ہے۔امریکہ کی جانب سے متضاد بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ واشنگٹن شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے اور اس کے بدلے میں رہنما کم جانگ کے اقتدار میں رہنے کے حوالے سے بات چیت کرنے پر تیار ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روائٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی ترجیح اس تنازع کو سفارتی سطح پر حل کرنا ہے لیکن اس میں کامیابی ملنا بہت مشکل ہے۔ٹرمپ نے اس سلسلے میں چینی صدر شی جن پنگ کی تعریف کی اور کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا پر دباو¿ ڈالنے کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ‘وہ بہت اچھے انسان ہیں’ جو اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں۔روائٹرز سے بات چیت میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بحران کو سفارتی سطح پر حل کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ کافی مشکل عمل ہے اور اس پر بڑا بلکہ کافی بڑا تنازع بھی ممکن ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ اتنی کم عمر میں کم جانگ ا±ن کے لیے شمالی کوریا کا اقتدار سنبھالنا کافی مشکل رہا ہوگا۔امریکہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل پروگرام پر قابو پانے کے لیے وہ ہر طرح کے متبادل پر غور کر رہا ہے ۔ شمالی کوریا کے مسئلے پر بات چیت کے لیے جمعے کو ہی اقوام متحدہ میں جنرل اسبملی کا اجلاس ہورہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے صدارتی انتخبات میں کامیابی کے فوری بعد چین پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ شمالی کوریا پر لگام لگانے کے لیے زیادہ کچھ نہیں کر رہا ہے اور ایسی صورت میں امریکہ تن تنہا اس کے خلاف کوئی کارروائی کر سکتا ہے۔لیکن روئٹرز کے ساتھ مختلف مسائل پر خصوصی بات چ?ت کے دوران انھوں نے کہا کہ چینی صدر ‘یقینی طور افراتفری اور اموات نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔’

ٹرمپ کا شام کیخلاف اہم اعلان

واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں)امریکا نے شام کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں عائدکرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزیرخزانہ اسٹیف منوچین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت جلد ہی اسد رجیم پر نئی اقتصادی پابندیوں کا اعلان کرے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فلوریڈا میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران امریکی وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت شام میں نہتے شہریوں کے خلاف مہلک کیمیائی گیس کے استعمال کے جواب میں اسد حکومت کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی ایک نئی فہرست تیار کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مجوزہ پابندیاں انتہائی موثر ہوں گی اور کسی بھی شخص کو اسد رجیم کے ساتھ تجارتی روابط اور لین دین سے روک دیں گی۔ امریکی حکومت نے شام میں صدر بشار الاسد پر نئی اقتصادی پابندیاں ایک ایسے وقت میں عا ئد کرنے کی تیاری شروع کی ہے جب گذشتہ روز امریکی فوج نے شام میں ایک سرکاری فوجی اڈے پر 59 کروز میزائل حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں فوجی اڈے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

ٹرمپ اور ایف بی آئی میں جنگ ….حیرت انگیز انکشاف سے عالمی سطح پر ہلچل مچ گئی

واشنگٹن (ویب ڈیسک)امریکا کے مرکزی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے سربراہ جیمس کومے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سابق امریکی صدر براک اوباما نے حالیہ صدارتی انتخابی مہم کے دوران ایف بی آئی کو ٹرمپ کے ٹیلی فونی رابطوں کی جاسوسی اور نگرانی کا حکم دیا تھا۔گزشتہ دنوں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں سابق امریکی صدر براک اوباما پر الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے امریکہ میں حالیہ صدارتی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کی فون کالز ٹیپ کروائی تھیں جس کےلیے فارن انٹلیجنس سرویلنس کورٹ المعروف فیسا (FISA) سے حکم بھی جاری کروایا گیا تھا۔امریکی میڈیا کے مطابق ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمس کومے نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے الزامات سے انکار کرتے ہوئے فیسا سے کہا ہے کہ وہ بھی عوام کےلیے اس الزام کی باقاعدہ تردید جاری کرے تاہم فیسا نے اب تک ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ڈائریکٹر ایف بی آئی نے یہ تردید اس لیے جاری کی ہے کیونکہ ٹرمپ کا یہ غیر مصدقہ دعوی اس تاثر کو ہوا دے رہا ہے کہ ایف بی آئی نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔قبل ازیں ایسے ہی ایک بیان میں سابق ڈائریکٹر نیشنل انٹلیجنس جیمس کلیپر نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ یا ان کی انتخابی مہم کے دوران فون کالز کی نگرانی نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی انہیں ایسے کسی عدالتی حکم کا علم ہے جس کے ذریعے ٹرمپ کی وائر ٹیپنگ کی اجازت دی گئی ہو۔سابق امریکی صدر براک اوباما کے ترجمان کیون لیوس نے ٹرمپ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے فون کالز کی نگرانی کے الزامات بالکل جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ تو صدر اوباما اور نہ ہی ان کی انتظامیہ کے کسی اہلکار نے کبھی کسی امریکی شہری کی خفیہ نگرانی کا کوئی حکم جاری کیا۔

ٹرمپ کا نیا حکم نامہ مشکلات کا شکار ….وجہ بھی سامنے آگئی

واشنگٹن (ویب ڈیسک )سفری پابندیوں سے متعلق ٹرمپ کانیا حکم نامہ تاخیرکا شکار ہوگیا،امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ کچھ مخصوص ممالک سے امریکہ آنے والے والے افراد پر نئی سفری پابندیوں کا اعلان اب آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سفری پابندیوں سے متعلق امریکی صدر کانیاحکم نامہ تاخیرکاشکار ہے۔ حکم نامے کو رواں ہفتے جاری ہو نا تھا ۔وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ نیا حکم نامہ اب اگلے ہفتے جاری ہو گا ۔صدر ٹرمپ اس قبل کہہ چکے تھے کہ ان پابندیوں کا اعلان اسی ہفتے کر دیا جائے گا تاہم وائٹ ہاس حکام کا اب کہنا ہے کہ اس اعلان کو ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت سات مسلم اکثریتی ممالک سے پناہ گزینوں کی امریکی آمد پر پابندی لگا دی گئی تھی۔اس حکم نامے کے بعد ملک بھر میں مظاہرے کیے گئے اور ہوائی اڈوں پر کافی افراتفری دیکھی گئی۔ بعد میں عدالتوں نے اس سفری پابندی کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔وائٹ ہاس کا کہنا ہے کہ عدالتوں میں جو معاملات اٹھائے گئے نئے حکم نامے میں انھیں حل کیا گیا ہے۔ ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری جان کیلی کا کہنا ہے کہ نیا حکم نامہ پہلے حکم نامے کا زیادہ منظم اور سخت تر ورژن ہوگا۔اب تک یہ واضح نہیں کہ نیا حکم نامہ پہلے حکم نامے سے کس طرح مختلف ہوگا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ سفری پابندی دوبارہ لگائی گئی تو ‘افراتفری’ کا عالم دوبارہ شروع ہو جائے گا جو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اور دھچکا ہوگا۔ٹرمپ انتظامیہ کے پہلے انتظامی حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ عراق، شام، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن سے کوئی بھی شخص 90 دنوں تک امریکہ نہیں آ سکے گا۔اسی حکم کے تحت امریکہ میں پناہ گزینوں کے داخلے کے پروگرام کو 120 دنوں کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی شامی پناہ گزینوں کے امریکہ آنے پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی لگا دی گئی تھی۔صدر ٹرمپ کے حکم کے بعد تقریبا 60 ہزار ویزے منسوخ کر دیے گئے تھے تاہم پھر ریاست واشنگٹن کے شہر سیئیٹل کے ایک جج نے سات مسلم اکثریت والے ممالک کے لوگوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگانے کے ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ معطل کر دیا تھا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفری پابندیوں کے معطلی کے عدالتی حکم کے بعد عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکہ میں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری اس جج پر ہو گی جس نے ان کا حکم نامہ معطل کیا ہے۔انھوں نے سفری پابندیوں کے معطلی کے عدالتی حکم کے بعد عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے سرحدی حکام کو ہدایت دی کہ وہ امریکہ آنے والے لوگوں کی محتاط طریقے سے جانچ کریں۔خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے سفری پابندیوں کے علاوہ امریکہ میں موجود غیرقانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کا عمل بھی تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔امریکہ میں اس وقت ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ دس لاکھ افراد غیرقانونی طور پر مقیم ہیں۔نئے اقدامات کے تحت ایسے افراد اگر بڑے جرائم کے علاوہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی یا دکانوں سے چوری کرنے کے جرم میں بھی پکڑے گئے تو انھیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔منگل کو وائٹ ہاس کے پریس سیکریٹری شان سپائسر نے کہا تھا کہ اس سلسلے میں نئے احکامات سے وسیع پیمانے پر ملک بدری کا سلسلہ شروع نہیں ہو گا تاہم ان کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو مزید اختیارات پر عمل کرنے کا موقع دینا ہے جوکہ قانون کے تحت انھیں دیے گئے ہیں۔

صدر کی تقریر مایوس کن قرار

واشنگٹن(ویب ڈیسک)امریکی میڈیا نے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریر کو غیر واضح اور مایوس کن قرار دے دیا۔نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت کا حلف اٹھالیا جس کے بعد انہوں نے مختصر خطاب بھی کیا۔ تاہم ان کا خطاب ختم ہوتے ہی سوشل میڈیا اور دیگر میڈیا گروپس نے صدر ٹرمپ کی تقریر کو غیر واضح اور مایوس کن قرار دے دیا۔سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں میڈیا سے وابستہ افراد کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں گزشتہ انتظامیہ کی مذمت کی اور متوسط امریکیوں کے حوالے سے مایوس کن مستقبل کی بات کی ہے۔ ٹرمپ کی تقریر سے واشنگٹن کو ایک دھچکا لگا ہے۔ٹرمپ نے اپنی پہلی تقریر میں دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا جبکہ بعض میڈیا افراد کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کا انداز حاکمانہ تھا جبکہ کچھ نے ان کے انداز کو فلمی ولن کی طرح قرار دیا۔

اب ٹرمپ بھی کٹھ پتلی کی طرح ناچیں گے…. وجہ منظر عام پر

ماسکو(ویب ڈیسک)روس نے نومنتخب امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کوکٹھ پتلی کی طرح نچانے کےلیے سنسنی خیزذاتی معلومات کامبینہ ڈوزئیربنایاہواہے۔گزشتہ روز اپنی ایک رپورٹ میںامریکی اخبارنے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے بارے میں ذاتی نوعیت کی انتہائی اہم مبینہ معلومات ہیں، خفیہ سروس کے اہلکاروں نے اوباما اور نومنتخب صدرٹرمپ کوانتہائی خفیہ رپورٹ دےدی ہے۔ نومنتخب صدرکوپچھلے ہفتے دی گئی بریفنگ میں انہیں رپورٹ سے متعلق بھی آگاہ کیاگیا۔تاہم ٹرمپ نے خبر جھوٹی قرار دے دی ۔کہا مجھے سیاسی انتقام کانشانہ بنایاجارہاہے ۔امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ کی ذاتی معلومات کامبینہ ڈوزئیر35 صفحات پر مشتمل ہے ،اس حوالے سے نومنتخب صدرکو بریفنگ میں آگاہ بھی کر دیا گیا ہے،ٹرمپ نے خبر کو جھوٹی اخبارجھوٹی قرار دے دی،اس جھوٹی خبر پر مجھے سیاسی طور پر ہراساں کیا جا رہاہے۔

امریکی عوام خاتون کو بطور صدر دیکھنے کو تیار نہیں تھے….تجزیہ :امتنان شاہد

میں بطور پاکستانی ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر بالکل حیران یا پریشان نہیں ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کو تھوڑے مارجن سے نہیں بلکہ بڑے مارجن سے شکست دی ہے۔ تقریباً ایک سال قبل جب دونوں امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم شروع کی تھی تو میں نے عالمی ذرائع ابلاغ سے معلومات حاصل کیں اور امریکہ میں میرے ذرائع نے بھی تصدیق کی تھی یہی میرا ذاتی مشاہدہ بھی تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑی سمجھداری کے ساتھ اپنی انتخابی مہم شروع کی ہے اور انہوں نے امریکہ کی سفید فام آبادی کو فوکس کیا اور وہی ان کا ہدف رہے۔ جن لوگوں نے امریکہ دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ امریکی گوروں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ دنیا ان کے بارے میں کیا سوچتی ہے ان کو صرف دو وقت کی روٹی، صحت کی سہولیات اور تعلیم چاہیے ان کا اپنی صحت کی سہولیات سے مطلب ہوتا ہے یا انہیں اپنی نوکریوں کی فکر ہوتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی پوری انتخابی مہم کی یہی خاص بات رہی کہ انہوں نے اسی آبادی کو فوکس کیا، ہیلری کلنٹن کی شکست کی دوسری سب سے بڑی وجہ جو سامنے آئی وہ ان کا خاتون ہونا تھا، ہمیں اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ یہ ایک بہت بڑا فیکٹر ہے جس نے ہیلری کے ہارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی ذہنی طور پر کسی خاتون کو بطور صدر دیکھنے کیلئے اپنے آپ کو تیار ہی نہیں کر پائے، اگر آپ پولنگ کے اعدادو شمار پر نظر دوڑائیں تو اس میں ایک اور دلچسپ بات سامنے آتی ہے کہ نقل مکانی کرکے آٓنے والے امریکیوں جن کی کل تعداد امریکی آبادی کا 35 فیصد ہے جس میں سے 19 فیصد ایشیائی ہیں جبکہ اس 19فیصد میں سے 4 فیصد صرف پاکستانی نژاد امریکن ہیں، ہم یہ بھی بڑی خوشی سے کہتے ہیں کہ ہیلری پاکستان کی بڑی دوست ہیں اور پاکستان آتی جاتی بھی رہی ہیں اور پاکستانی مسائل سے بہت اچھی طرح آگاہ ہیں اور وہ ٹرمپ کے مقابلے میں پاکستان سے بڑا اچھا سلوک کرینگی، یہ پاکستانیوں کی غلط فہمی تھی، ہے اور رہے گی، ان کی سوچ میں پاکستانی سٹیبلشمنٹ ہمیشہ اس وقت سہولت میں ہوتی ہے جس وقت امریکہ میں ری پبلکن پارٹی کا صدر ہوتا ہے۔ یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ تمام پاکستانی نژاد امریکیوں نے یہ سوچا شاید ڈیموکریٹ ان کے لیے بہتر ثابت ہوں اور انہوں نے یہی سوچ پر ہیلری کو ووٹ دیا لیکن اگر ہم الیکشن کے نتائج پر نظر ڈالتے ہیں تو کاسٹ کیے گے ووٹوں میں سے کالے امریکیوں میں سے 90 فیصد نے ٹرمپ کوووٹ دیا اور صرف10فیصد ووٹ ہیلری کے حصے میں آئے۔ امریکی بطور قوم بری طرح ایکسپوز ہوئے ہیں وہ ابھی تک اپنے آپ کو اس بات کے لیے تیار نہیں کر پائے کہ وہ کسی خاتون کو بطور صدر قبول کریں۔ امریکی پوری دنیا میں این جی اوز کے ذریعے یا اپنی تعلیمات اور تبلیغ کے لیے یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مرد اور خاتون میں برابری ہونی چاہیے، خواتین کو مردوں کے برابر حقوق ملنے چاہئیں لیکن اس الیکشن کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی قوم خواتین کوحقوق دینے کے لیے بالکل تیار نہیں ہے۔ ان کی برابری کے دعوے ایک ڈھکونسلہ ہیں امریکی صرف این جی اوز کو پیسے دیکر انسانی حقوق کی آوازیں اٹھا کر یا ملالہ یوسفزئی جیسی خواتین کو اپنے مطلب کے لیے استعمال ضرور کرتے ہیں۔ ملالہ پر حملہ ہوا جو ایک بری بات ہے، اللہ تعالی نے ان کی جان بچائی اور بطور پاکستانی خوشی ہے کہ وہ صحت یاب ہوئیں لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ امریکی اپنے مطلب کے لیے استعمال بھی ضرور کرتے ہیں۔ اگر امریکی اتنے ہی سنجیدہ ہوتے تو بطور قوم اور سٹیبلشمنٹ ہیلری کو صدر بنانے میں ان کے مددگار ضرور ثابت ہوتے جو کہ نہیں ہوا۔ ڈیڑھ سال سے جب لوگ ڈونلڈ ٹرمپ پر نسل پرستی کا الزام لگا رہے تھے تو سب سے بڑی بات یہی ہے کہ انہوں نے امریکیوں میں موجود ڈر کو ایڈریس کیا اور ٹارگٹ بنایا۔ امریکی ایک ڈرپوک سی قوم ہے جو زیادہ پڑھی لکھی بھی نہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پوری دنیا ان کے خلاف ہے اور جو بھی اس بات کو پن پوائنٹ کرے گا تو وہ اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے، ٹرمپ نے اسی بات کا فائدہ اٹھایا اور اپنی پوری انتخابی مہم میں امریکی عوام میں موجود اسی خوف کو ہلکی سے آگ لگانے کی کوشش کی۔ شروع میں سب سمجھتے رہے کہ وہ ان کا منفی پوائنٹ ہے لیکن آخر کار یہی ان کا مثبت پوائنٹ ثابت ہوا۔ ٹرمپ نے اس سے پہلے کسی سرکاری دفتر میں کام نہیں کیا وہ واشنگٹن میں بھی مشیر نہیں رہے وہ ایک عام آدمی کے طور پر سامنے آئے لیکن ان کے مقابلے میں ایک کہنہ مشق سیاستدان تھی جو دو دفعہ وزیر خارجہ رہ چکی تھیں، نتیجہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ امریکی عوام نے جہاں ایک خاتون کو ووٹ نہیں کیا وہیں انہوں نے روایتی سیاست کو بھی مسترد کیا ہے۔ امریکی عوام ایک ایسے شخص کو اقتدار میں لائے ہیں جو بظاہر ڈبلیو ڈبلیو ایف کے رنگ میں بیٹھ کر لوگوں سے کشتیاں بھی کرتا ہے، وہ لوگوں کی حجامت بھی بناتا ہے اوراپنے چہرے پر رنگ ڈال کر ٹی وی پروگرامز میں بھی آتا ہے اور وہ جو کہہ رہا ہے اسے صحیح سمجھتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جس پر لوگوں نے اسے ووٹ کیا ہے چاہے اس سے کوئی اتفاق کرے یا نہ کرے، ٹرمپ کی آٓئندہ پالیسیوں کے حوالے سے میری ذاتی رائے ہے کہ اگلے دو سے اڑھائی سال کے اندر دنیا کے کسی نہ کسی خطے میں ایک بڑی جنگ ہوگی، جس میں براہ راست امریکہ کی مداخلت ہوگی۔ جنگ جنوبی چین میں سمندری حدود کے تنازع پر بھی ہوسکتی ہے اور کوریا اورشمالی کوریا کی جنگ بھی ہو سکتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور افغانستان کے ساتھ پرابلمز بھی ہو سکتی ہیں پاکستان کے مقابلے میں ٹرمپ کی طرف سے بھارت کی کھلم کھلا حمایت کا اعلان بھی مسئلہ بن سکتا ہے۔ پھر ترکی یا شام کے اندر داعش کا معاملہ جنگ کا باعث بن سکتا ہے اگر ہم یہ سب ملا کر دیکھیں تو ٹرمپ کے ہوتے ہوئے دنیا پر ایک بڑا سوالیہ نشان نظر آتا ہے۔ ٹرمپ کے اپنی پالیسیوں پر یوٹرن لینے کے امکان یا خود ٹرمپ کی طرف سے کوئی پالیسیاں بنانے کے حوالے سے میں یہ نہیں سمجھتا کہ ایسا ہوگا، امریکہ کی 70فیصد پالیسیاں سٹیبلشمنٹ، پینٹاگون اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بناتا ہے لیکن یہ بات بھی ظاہر ہے کہ جب بھی ری پبلکن اقتدار میں آئے چاہے وہ بش سینئر کا دور ہو یا بش جونیئر کا ان کے دورِ اقتدار میں جنگیں ہوئیں، عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کے نام پر جنگ ہوئی، افغانستان میں نائن الیون کے نام پر جنگ مسلط کی گئی، جب کچھ نہ نکلا تو امریکی سٹیبلشمنٹ نے بڑی خوبصورتی سے کہہ دیا کہ ہمیں تو پتہ نہیں تھا ہمارے ایک صدر صاحب آئے تھے جو بڑے بے وقوف تھے انہوں نے 70سے80 ہزار افراد قتل کیے جس کے بعد کچھ نہ نکلا، چلیں اب کمیٹی بنا دیں تو انہوں نے کمیٹی بنا دی جس کی انکوائری تاحال چل رہی ہے۔ اگر ہم یہ دیکھیں جب بھی ایسے صدور آتے ہیں جن کا کوئی بیک گراﺅنڈ نہیں ہوتا تو سٹیبلشمنٹ ان کو اپنے فیصلوں کے لیے استعمال کرتی ہے امریکی سٹیبلشمنٹ اور قومی سلامتی کے ادارے بھی بالکل اسی طرح سوچتے ہیں جس طرح باقی دنیا کے ادارے اپنے اپنے قومی مفاد کے لیے سوچتے ہیں۔ بھارت اور امریکہ کے نئے یو پوائنٹ پر جب کوئی ملک، معاشرہ ، ادارہ یا شخص بہت طاقتور ہوتا ہے تو اسے اپنی امیج کی کوئی فکر نہیں ہوتی وہ صرف اپنا مفاد دیکھتا ہے کوئی شک نہیں کہ امریکہ اس وقت ایک سپرپاور ہے وہ بھارت کو صرف اس لیے سپورٹ کرتا ہے کیونکہ بھارت ان کے بہت سے مسائل حل کرتا ہے۔ آپ دونوں ممالک کے معاشی تعلقات پر نظر ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ صرف کمپیوٹر انڈسٹری یا انٹرنیٹ، سافٹ ویئر کی تجارت دیکھ لیں تو اس کا حجم پاکستان جیسے کئی ملکوں کی معیشت سے بھی زیادہ ہوگا، انٹرنیٹ اور سافٹ ویئر کی تجارت کے ساتھ ان کا فوکس ہے کہ چائنہ کے مقابلے میں کمپیوٹر کی ہائیکنگ کو کیسے روکنا ہے یہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی ایک مثال ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ اگلے دو سالوں کے اندر پاکستان، چائنہ، روس ایک طرف کھڑے ہونگے جبکہ ان کے ساتھ ترکی اور تین چار خلیجی ممالک بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب آپ کو بھارت امریکہ، افغانستان اور بنگلہ دیش کھڑے نظر آئینگے انہیں بھی تین چار عرب ممالک کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے، جو کہ شیعہ سنی وکٹ پر کھیلیں گے لہٰذا یہ کہہ دینا کہ صرف پاکستان کے لیے یا باقی دُنیا کے لیے یہ پیغام دیا ہے we dont care، امریکی عوام اور سٹیبلشمنٹ کو کوئی پروا نہیں کہ دنیا ان کے بارے میں کیا سوچتی اور کیا کہتی ہے کیونکہ وہ مالی طور پر مستحکم ہیں، ان کی جیب میں پیسے ہیں، ان کے خزانے بھرے ہوئے ہیں اس لیے انہوں نے صرف اپنے لوگوں کے بارے میں سوچا ہے ان کو باقی دنیا کی سوچ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔