تازہ تر ین

گنجے پن کی ادویات

ڈاکٹرنوشین عمران
سر کے بالوں کا ایک جگہ سے گر جانا یا ایلویشیا ایریٹا مدافعاتی نظام کی کمزوری کے باعث ہونے والا مرض ہے۔ اس میں تمام سر سے بال نہیں گرتے بلکہ سر کے کسی ایک یا زیادہ حصوں سے بال گر جاتے ہیں۔ اس مرض میں صرف سر ہی نہیں بلکہ جسم کے کسی بھی حصے سے بال گر سکتے ہیں۔ بعض اوقات سر پر ایک سے زائد جگہوں پر بال گرتے ہیں۔ یہ عمل بڑھتا رہے تو گنج والے حصے بھی بڑے ہو جاتے ہیں اور سر پر پھیلتے جاتے ہیں۔ اس سے کچھ عرصہ بعد سر کا کافی زیادہ حصہ گنجا نظر آتا ہے۔ ایلویشیا ایریٹا سر کے علاہ پلکوں، داڑھی مونچھ کے بالوں پر بھی ہو سکتا ہے۔ ایلویشیا ایریٹا دو طرح کا ہو سکتا ہے۔ ایک جس میں صرف جلد کے باہر نظر آنے والے بال گر جائیں جبکہ دوسری قسم میں بال جڑ سمیت گر جاتے ہیں۔ اس مرض کا بڑی وجہ مدافعاتی نظام کی کمزوری یا اس میں تبدیلی سمجھی جاتی ہے۔ مدافعاتی خلیے خاص کر خون کے سفید ذرات بالوں کی جڑوں کے گرد جمع ہو کر سوزش پیدا کرتے ہیں اس سے جڑ کمزور ہو کر گرنے لگتی ہیں۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ہر مرض خاندان میں نسل در نسل چلتا ہے ایسے افراد کے ناخنوں پر گڑھے بھی نظر آتے ہیں۔
ایلویشیا ایریٹا کے علاج کے عام طور پر سٹیرائیڈ انجکشن استعمال کیے جاتے ہیں۔ بال گرنے کی جگہ پر انجکشن لگائے جاتے ہیں جو مہینہ میں ایک یا دو بار لگتے ہیں۔ اس سے کچھ عرصہ میں کافی حد تک بال نکل آتے ہیں چونکہ سٹیرائڈ سوزش کو ختم کرتے ہیں اس لیے ان انجکشن کا مقصد بالوں کی جڑوں کے گرد اور خلیوں میں ہونے والی سوزش کو ختم کرنا ہے جو بالوں ک گراتی ہے اس لیے سر کی جلد میں انجکشن لگانے سے بہتر نتائج ملتے ہیں۔ بالوں کو اگانے کیلئے بازار میں ”مانو کیسٹول“ اور اس طرح کی دوسری ادویات بھی استعمال کی جاتی ہیں لیکن چونکہ یہ صرف سر کی جلد پر تیل کی طرح لگائی جاتی ہے اس لیے ضروری نہیں کہ ان کے نتائج انجکشن کی طرح بھرپور ہوں۔
کولمبیا یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ایکسو لیٹنب دوا اس مرض کا کافی اچھا علاج کر سکتی ہے۔ یہ دوا جسم کے خاص اینزائمز کو روک کر بالوں کو دوبارہ اگنے میں مدد کرتی ہے۔ چار پانچ ماہ کے استعمال سے 90 فیصد تک بال واپس آ جاتے ہیں لیکن یہ دوا ابھی تک مارکیٹ میں عام استعمال کیلئے دستیاب نہیں البتہ امید ہے کہ کچھ عرصہ تک ملنے لگے گی۔
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved