تازہ تر ین

جو کا استعمال

ڈاکٹر نوشین عمران
جو، جوئی یا جئی کا استعمال زیادہ تر دلیے کی شکل میں کیا جاتا ہے، جئی یا جو اناج کی ہی قسم ہے جو دلیے کی صورت میں سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے جبکہ اس کا آٹا بناکر روٹی یا ڈبل روٹی بھی بنائی جاتی ہے، جوکے سوگرام میں تقریباً چارسو کیلوریز،66 گرام کار بوہائڈریٹ، 16 گرام پروٹین، صرف6 گرام چکنائی،5 گرام حل ہونے والا فائبر ہے، جبکہ مینگنیز، فاسفورس، میگنیشیم، زنک، آئرن بڑی مقدار کے ساتھ وٹا من بی ون بی، بی 6بی2 ، بی 9 اور بی 5 اچھی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔
جو کا استعمال بہت عرصہ سے کیا جارہا ہے، قدیم طب میں بھی جو کے استعمال اور فوائد کا بہت زیادہ ذکر ملتا ہے، جدید سائنس بھی جو جئی کے فائدوں کو تسلیم کرتی ہے، جو کو دلیے یا آٹے کی روٹی کی شکل میں سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے، کسی بھی فائدے کے حصول کے لئے اس کا روزانہ استعمال ضروری ہے، طبی تحقیق کے مطابق جو کے فوائد اس طرح ہیں۔
جو کا روزانہ استعمال کولیسٹرول میں کمی لاتا ہے، اس میں موجود بیٹا گلو کون ایک خاص قسم کا فائبر ہے، روزانہ3 گرام جو کا استعمال( تقریباً ایک پیالہ) ایک ماہ میں8-10 فیصد کولیسٹرول کم کرتا ہے۔
جو کا ایک اور جزایون اینتھرا مائڈ میں جسم سے غیر ضروری اور زہریلے عناصر کو خارج کرنے کی صلاحیت ہے جسے اینٹی آکسیڈنٹ کہا جاتا ہے،” جو“ کے اجزاءنہ صرف کولیسٹرول کم کرتے ہیں بلکہ خون کی شریانوں میں ہونے والی سختی کو بھی روکتے ہیں، جس کی وجہ سے خون میں لوتھڑا نہیں بنتا اور شریان میں بندش نہیں ہوتی، اس طرح کے دل کے امراض سے حفاظت کرتے رہیں، اینٹی آکسیڈنٹ خوبیوں کے باعث جسم سے جراثیم اور انفکشن پیدا کرنے والے اجزا کو صاف کرتے ہیں۔
پچاس سال سے زائد عمر کی خواتین میں جو کا مستقل استعمال ان میں ہونے والی ہار مونز کی تبدیلیوں کے باعث ہونے والے کینسر سے بچاو¿ دیتا ہے، جبکہ بچوں میں ہونے والے دمہ سے بھی حفاظت دیتا ہے جو کے دلیے کا استعمال بار بار ہونے والے دست اور پیٹ کی خرابی میں بھی خاطر خواہ کمی لاتا ہے، جو جسم کے خلیوں کو توانائی دیتا ہے، جس سے تھکان اور سستی دور ہوتی ہے، وزن میں کمی کرتا ہے، جلد کو بڑھاپے کے اثرات سے بچاتا ہے، آنتوں اور معدے کے کئی امراض کا علاج کرتا ہے، جسم سے بیکٹیریا اور وائرس کو ختم کرتا ہے۔
٭٭٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved