اسلام آباد (صباح نیوز، این این آئی) وزیراعظم محمد نوازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فاٹااصلاحات کےلئے قانونی اور آئینی سفارشات منظورکرلی گئیں،وفاقی کابینہ میں منظور کی گئی سفارشات میں کہاگیا ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے لیے5 سال درکارہوں گے، اس کے علاوہ فاٹا سے فوج کے انخلا ءکے لیے لیویز میں 20 ہزار مقامی افراد بھرتی کیے جائیں گے، فاٹاکی معاشی ترقی کےلئے جامع اصلاحات کی جائیں اور این ایف سی میں فاٹا کےلئے3 فیصد حصہ مختص کیا جائے،سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بینچزفاٹا میں قائم کیے جائیں اور اور قبائلی علاقوں میں جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں،فاٹااصلاحات پرمرتب رپورٹ کے مطابق 2018کےانتخابات میں کے پی کے اسمبلی میں فاٹاکو نمائندگی دی جائے۔ جمعرات کو وزیراعظم محمد نوازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے فاٹااصلاحات کمیٹی کی سفارشات کی اصولی منظوری دےدی۔وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد سفارشات کے تحت فاٹاخیبرپختونخواکاحصہ بن جائےگا،اصلاحات کے بعد فاٹا میں ایف سی آرقوانین کاخاتمہ ہوجائےگااور فاٹامیں وفاق کا عمل دخل نہیں ہوگا۔اس موقع پروزیراعظم نواشریف نے کہاکہ وفاق ،صوبوں پرلازم ہےان علاقوں کے عوام کی فلاح یقینی بنائیں،جبکہ قومی یکجہتی،مضبوطی کےلئے پاکستانیت کاجذبہ ضروری ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ تعصب سے بالاترہوکرملک کوترقی کے ثمرات میں شریک کیاجائے،انہوں نے کہاکہ کم ترقی یافتہ علاقوں میں بھرپور توجہ دینا ہمارافرض ہے۔انہوں نے کہاکہ فاٹا،گلگت بلتستان اورآزادکشمیر کو قومی دھارے میں لانے کے مخالفین صوبائیت کو فروغ دے رہے ہیں ، ہر پاکستانی کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع دئیے جائیں گے ۔وفاقی کابینہ میں منظور کی گئی سفارشات میں کہاگیا ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے لیے5 سال درکارہوں گے، اس کے علاوہ فاٹا سے فوج کے انخلا ءکے لیے لیویز میں 20 ہزار مقامی افراد بھرتی کیے جائیں گے ۔وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فاٹاکی معاشی ترقی کےلئے جامع اصلاحات کی جائیں اور این ایف سی میں فاٹا کےلئے3 فیصد حصہ مختص کیا جائے۔سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بینچزفاٹا میں قائم کیے جائیں اور اور قبائلی علاقوں میں جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں ۔فاٹااصلاحات پرمرتب رپورٹ کے مطابق 2018کےانتخابات میں کے پی کے اسمبلی میں فاٹاکو نمائندگی دی جائے۔واضح رہے کہ رپورٹ میں فاٹاکاترقیاتی بجٹ 20کروڑ روپےسے ایک ارب روپے تک بڑھانے کی تجویز دی ہے اور کہاگیاہے کہ آڈیٹرجنرل آف پاکستان فاٹامیں ترقیاتی فنڈز کی آڈٹ کویقینی بنائے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان ہر شہری کا ہے اور ہر شہری کو کسی امتیاز کے بغیر ترقی اور خوشحالی کے یکساں مواقع حاصل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے فاٹا کے عوام کی حب الوطنی اور قومی جذبہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی تاریخ پاکستان سے محبت کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فاٹا کے عوام نے پاکستان کی خودمختاری، سالمیت اور دفاع کے لئے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ فاٹا کے عوام کو مرکزی دھارے میں شامل کیا جائے اور ان کی محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فاٹا، گلگت، بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کا قومی وسائل پر اسی طرح برابر کا حق ہے جس طرح باقی صوبوں میں بسنے والے عوام کا۔ انہوں نے فاٹا کے عوام کو ان کے جائز حق کے مطابق قومی وسائل میں ان کا حصہ دینے کی حمایت کی۔ انہوں نے ملکی یکجہتی کے لئے قومی جذبے کو فروغ دینے اور ملک کے تمام حصوں میں بسنے والے عوام کو ترقی کے ثمرات سے مستفید کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ترقی میں پیچھے رہ جانے والے علاقوں پر زیادہ توجہ دیں اور ان علاقوں کے عوام کو زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی کے مواقع فراہم کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ قومی یکجہتی اور مضبوطی کے لئے ضروری ہے کہ پاکستانیت کے جذبے کو فروغ دیا جائے اور ہر قسم کے تعصب سے بے نیاز ہوکر ملک کے ہر حصے کو ترقی کے ثمرات میں شریک کیا جائے ¾ ہمارا فرض ہے کہ ہم کم ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں پر زیادہ توجہ دیں تاکہ وہاں کے عوام بھی زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی کرسکیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارا مقصد یہ ہونا چائیے کہ کسی بھی تمیز کے بغیر ہر پاکستانی کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع دیئے جائیں ۔ اس مقصد کے لئے ہمیں پیچھے رہ جانے والے علاقوں اور عوام پر خاص توجہ دینا ہوگی ۔انہوںنے کہاکہ قبائلی عوام ، حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہیں ا±ن کی تاریخ پاکستان سے محبت کی تاریخ ہے ۔ انہوںنے پاکستان کے دفاع او رسلامتی کے لیئے بھی عظیم خدمات دی ہیں ۔ وقت آگیا ہے کہ اب ا±نہیں بھی پاکستانیت کے قومی دھارے میں لاکر سال ہا سال سے جاری محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سیکرٹری سیفران ارباب شہزاد نے فاٹا اصلاحات کمیٹی کی سفارشات کے بارے میں کابینہ کو بریفنگ دی۔ گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا نے خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی۔خیال رہے کہ اصلاحات کمیٹی نے فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کےلئے سیاسی ¾ انتظامی ¾عدالتی اور سیکیورٹی اصلاحات سمیت تعمیرنو اور بحالی پروگرام کی سفارشات پیش کیں تھیں۔مجوزہ سفارشات کے ڈرافٹ کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے فاٹا کو 5 سال کےلئے خیبر پختونخوا میں شامل کیا جائے۔ڈرافٹ میں تحریر کیا گیا کہ فاٹا کے عوام نے گزشتہ 30 سالوں میں جنگ اور بحران کے سوا کچھ نہیں دیکھا لہذا فاٹا کے عوام اب امن و امان، خوشحالی اور شہری حقوق کے مستحق ہیں۔کمیٹی کے سفارشات کے مطابق فرنٹئیر کرائم ریگولیشن کا نام تبدیلی کرکے فاٹا ریگولیشن ایکٹ، 2016 کا نام رکھا جائے جس میں جرگہ سسٹم (سول اورکرمنل مسائل) کے تمام سیشن کو ختم کردیا جائےگا تاکہ عدالت کی جانب سے قانون کے نفاذ اور رواج کے مطابق ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کونسل مقرر کیے جاسکیں۔عدالت کے اختیارات کو وسیع کرنے کا مقصد آرٹیکل 247 میں ترمیم کرنا ہے تاکہ فاٹا کے عوام کو بنیادی اور شہری حقوق حاصل ہوسکیں۔کمیٹی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کام کرنے والے افسران، پولیس کے لیے یونیفارم متعارف کرانے، 10 ہزار نوجوان بھرتی کرنے اور پاک افغان بارڈر مینجمنٹ سیکیورٹی کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا۔کمیٹی نے فاٹا میں ترجیحی بنیادوں پر سول لاءاور سرمایہ کاری کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت کا ریکارڈ رکھنے کی تجویز پیش کی ¾ کمیٹی نے ان اصلاحات پر نظر رکھنے کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر، سلامتی کونسل کے مشیر، وزیر سیفران، وزیر قانون اور ایک پاک فوج کے نمائندے پر مشتمل اصلاحاتی کمیٹی بنانے کی تجویز دی ہے تاکہ کمیٹی وزیر اعظم کے ساتھ مل کر ان اصلاحات کا سہ ماہی جائزہ لے سکے۔وزیراعظم نوازشریف نے 2015 میں فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں مشیر برائے قومی سلامتی ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ، وزیر قانون زاہد حامد اور وزیر سیفران ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عبد القادر بلوچ شامل ہیں۔کمیٹی کے اراکین نے فاٹا کا دورہ کرنے کے بعد قبائلی رہنماو¿ں سے ملاقات کی تھی جس میں قبائلی اور حکومتی نمائندوں نے مستقبل میں فاٹا میں نئی اصلاحات کو شامل کرنے کے بارے میں بات چیت کی تھی اور قومی سلامتی کے مشیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز سے معلومات بھی فراہم کی تھیں۔

nawaz