امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث ڈالر اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 11 ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی۔
بدھ کے روز اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.8 فیصد کمی کے ساتھ 4,187.59 ڈالر فی اونس ہو گئی، جو 23 مارچ کے بعد کم ترین سطح ہے، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 1.7 فیصد کمی کے ساتھ 4,213.40 ڈالر پر آ گئے۔
ڈالر کی مضبوطی کے باعث دیگر کرنسی رکھنے والوں کے لیے سونا مہنگا ہو گیا، جبکہ تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق فیڈرل ریزرو کی ممکنہ پالیسی، بانڈ ییلڈ میں اضافہ اور مضبوط ڈالر سونے کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا، امریکا نے ایران پر حملے کیے، جس سے ممکنہ امن معاہدے پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
مارکیٹ میں اس بات کا امکان 70 فیصد سے زائد لگایا جا رہا ہے کہ فیڈرل ریزرو دسمبر تک شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے۔
اگرچہ سونا روایتی طور پر مہنگائی کے خلاف محفوظ سرمایہ سمجھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود اس غیر منافع بخش دھات کے لیے منفی ثابت ہوتی ہے۔
دوسری قیمتی دھاتوں میں بھی کمی دیکھی گئی، جہاں چاندی 1.5 فیصد، پلاٹینم 2.8 فیصد اور پیلیڈیم 0.8 فیصد سستا ہو گیا۔
