یورپ ایک بار پھر شدید گرمی کی لپیٹ میں آنے والا ہے، جبکہ براعظم کے کئی حصوں میں حالیہ دنوں کے دوران درجہ حرارت نے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ برطانیہ اور فرانس میں ایک بار پھر شدید گرمی کے حوالے سے وارننگز جاری کی گئی ہیں، اور بعض علاقوں میں درجہ حرارت 30 ڈگری سیلسیس سے کہیں اوپر جانے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
یہ نئی ہیٹ ویو ایسے وقت میں آ رہی ہے جب یورپ پہلے ہی غیر معمولی گرمی، خشک سالی اور جنگلات کی آگ سے متاثر ہے۔ وسطی اور مشرقی یورپ کے متعدد ممالک، جن میں آسٹریا، سلوواکیہ اور ہنگری شامل ہیں، حالیہ دنوں میں ریکارڈ یا انتہائی بلند درجہ حرارت ریکارڈ کر چکے ہیں۔ سلوواکیہ میں درجہ حرارت 42.2 ڈگری سیلسیس تک پہنچا۔
شدید گرمی اور خشک موسم نے جنگلات میں آگ کے خطرے کو بھی بڑھا دیا ہے۔ اٹلی، فرانس، سربیا اور بلغاریہ سمیت مختلف علاقوں میں آگ بھڑکنے کے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ خشک سالی کے باعث دریاؤں کی سطح بھی غیر معمولی حد تک کم ہوئی ہے۔
یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے مطابق 2026 میں مغربی یورپ نے جون اور جولائی کا ریکارڈ گرم ترین عرصہ دیکھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی گرم اور خشک حالات کی شدت اور دورانیے میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، جس سے ہیٹ ویو اور جنگلات کی آگ کا خطرہ بڑھتا ہے۔
برطانیہ اور فرانس میں حکام نے شہریوں کو شدید گرمی کے دوران احتیاط برتنے کی ہدایات دی ہیں، خاص طور پر بزرگوں اور دیگر کمزور افراد کے لیے گرمی سے متعلق صحت کے خطرات پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

