مستقل ثالثی عدالت (Permanent Court of Arbitration) نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا غیر فعال نہیں کرسکتا اور معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی کے لیے پیش کی گئی وجوہات اسے معاہدے کی ذمہ داریوں سے آزاد نہیں کرتیں۔ یوں سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کی ذمہ داریاں برقرار رہیں گی۔
یہ معاملہ اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد پیدا ہوا تھا، جب بھارت نے پاکستان کے ساتھ 1960 کے سندھ طاس معاہدے میں اپنی شرکت معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ نئی دہلی نے اس اقدام کو پاکستان سے متعلق اپنے سکیورٹی مؤقف سے جوڑا تھا، جبکہ پاکستان نے اس فیصلے کو مسترد کردیا تھا۔
مستقل ثالثی عدالت نے اس معاملے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری ثالثی کارروائی کے تحت سماعت کی۔ عدالت نے اس سے قبل بھی سندھ طاس معاہدے کی تشریح اور اس کے تحت دونوں ممالک کی ذمہ داریوں سے متعلق اہم فیصلے جاری کیے ہیں۔
تازہ فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ختم یا معطل نہیں ہوا، اس لیے دونوں ممالک معاہدے میں طے شدہ حقوق اور ذمہ داریوں کے پابند ہیں۔
فیصلے میں رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے سے متعلق بھی اہم ہدایات شامل ہیں۔ عدالت نے منصوبے کے ڈیم کی دیوار اور پانی کے انٹیک اسٹرکچر پر بعض تعمیراتی سرگرمیوں کو غیر جانبدار ماہر کی جانب سے جائزے تک محدود رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
پاکستانی مؤقف کے لیے یہ فیصلہ اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے آبی نظام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ دوسری جانب بھارت نے ماضی میں اس ثالثی عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور اس کے فیصلوں پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
مستقل ثالثی عدالت، جو دی ہیگ میں قائم ہے، بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ثالثی اور دیگر قانونی طریقہ کار فراہم کرتی ہے۔ سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان اور بھارت کا مقدمہ عدالت کے بین الریاستی ثالثی معاملات میں شامل ہے۔

