پاکستانی موجد کی تیار کردہ سیٹلائٹ آپریٹڈ گاڑی نے اسلام آباد کے ایک ہائی سکیورٹی علاقے میں ٹیسٹ کے دوران پولیس گاڑی کو ٹکر مار دی، جس کے بعد واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑی سڑک پر آگے بڑھتی ہے اور اچانک کنٹرول کھونے کے بعد پولیس موبائل سے جا ٹکراتی ہے۔ واقعے نے خودکار گاڑی کی ٹیکنالوجی اور اس کی سکیورٹی سے متعلق سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔
مقامی موجد احسان ظفر کے مطابق انہوں نے ایسی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس کی مدد سے عام گاڑی کو ڈرائیور کے بغیر چلایا جاسکتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گاڑی کو موبائل ایپ یا کمپیوٹر کے ذریعے ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھ کر بھی ریموٹ کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
احسان ظفر کا کہنا ہے کہ گاڑی انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے آپریٹر کی جانب سے بھیجے گئے احکامات وصول کرتی ہے، جبکہ اس میں 360 ڈگری کیمرا نصب ہے، جس کی مدد سے آپریٹر دور بیٹھ کر گاڑی کے اردگرد کی صورتحال کا جائزہ لے سکتا ہے۔
موجد کے مطابق گاڑی میں ایسا نظام بھی موجود ہے جو انٹرنیٹ کنکشن منقطع ہونے کی صورت میں خودکار طور پر گاڑی کو روک دیتا ہے۔
احسان ظفر اس سے قبل بھی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرچکے ہیں۔ تقریباً دو سال قبل انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ انہوں نے دنیا کی پہلی کی بورڈ سے چلنے والی گاڑی تیار کی ہے، جسے کمپیوٹر کی بورڈ کے ذریعے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
تاہم اسلام آباد میں پیش آنے والے تازہ واقعے نے ان کی تجرباتی ٹیکنالوجی کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اس مرتبہ وائرل ہونے والی ویڈیو میں گاڑی کی پہلے کی کامیاب نمائشوں کے برعکس ایک حادثہ دیکھنے میں آیا، جس میں پولیس موبائل کو نقصان پہنچا۔
واقعے کے بعد خودکار اور ریموٹ کنٹرول گاڑیوں کے استعمال، ان کی قابلِ اعتماد کارکردگی اور ہائی سکیورٹی علاقوں میں ایسی ٹیکنالوجی کے تجربات سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔

