رواں سال راولپنڈی میں ڈینگی کے حوالے سے جاری سرویلنس کے دوران 3 ہزار 450 افراد کی اسکریننگ کی گئی، جس میں 6 افراد میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی، جبکہ 192 افراد کو نان ڈینگی قرار دیا گیا۔
محکمہ صحت کے مطابق ڈینگی کے شبہ میں 3 مریض مختلف اسپتالوں میں داخل ہوئے، تاہم کنفرم ہونے والے ڈینگی مریضوں میں سے کسی کو اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ رواں سال اب تک ڈینگی سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق اگست میں ڈینگی کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، جبکہ جولائی میں 4 کیسز رپورٹ ہوئے۔ جولائی میں سامنے آنے والے مریض ڈھوک حسو جنوبی، کوٹھہ کلاں اور کونٹریلا سمیت مختلف علاقوں سے رپورٹ ہوئے۔
دوسری جانب راولپنڈی میں ڈینگی لاروا کی موجودگی والے مقامات کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ حکام کے مطابق لاروا کی نشاندہی پر اب تک 1 ہزار 973 ایف آئی آرز درج، 537 مقامات سیل اور 1 ہزار 778 چالان کیے جاچکے ہیں، جبکہ ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 21 لاکھ 24 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
ڈینگی سرویلنس کے لیے راولپنڈی میں 415 آؤٹ ڈور اور 985 انڈور ٹیمیں متحرک ہیں۔ سرویلنس کے دوران 42 لاکھ 96 ہزار سے زائد گھروں کی چیکنگ کی گئی، جن میں سے 1 لاکھ 6 ہزار 993 گھر مثبت قرار دیے گئے۔
محکمہ صحت کے مطابق مختلف مقامات پر 14 لاکھ 81 ہزار سے زائد اسپٹس چیک کیے گئے، جبکہ 17 ہزار 348 مقامات پر ڈینگی لاروا کی نشاندہی ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق یو سی گر جا، گلستان کالونی اور رحیم آباد میں لاروا کی سب سے زیادہ نشاندہی ہوئی۔ اس کے علاوہ ڈھوک حسو، مورگاہ، دھوک منگٹال، کلیال، کمال آباد اور ڈھیری حسن آباد کو بھی ڈینگی لاروا کے حوالے سے حساس علاقے قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ راولپنڈی میں ڈینگی کی روک تھام کے لیے سرویلنس، لاروا کی نشاندہی اور انسدادِ ڈینگی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، جبکہ شہریوں کو بھی اپنے گھروں اور اردگرد کے علاقوں میں پانی جمع نہ ہونے دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

